حفظان صحت کی بابت ہدایات نبویﷺ

چونکہ جسم انسانی کی صحت واعتدال اس رطوبت کی وجہ سے برقرار ہے جو حرارت کا مقابلہ کرتی رہتی ہے اس لئے رطوبت ہی مادہ انسانیت ہے اور حرارت سے اس میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور جو فضلات ہوتے ہیں اسے خارج کردیتی ہے اور اس میں اصلاح ولطافت پیدا کرتی ہے اگر ایسا نہ ہو تو بدن فاسد ہوجائے اور اس کی بقا ممکن نہ رہے اسی طرح رطوبت حرارت کی غذا بھی ہے اگر یہ رطوبت نہ رہے تو بدن جل کر خشک ہوجائے اور اس میں فساد پیدا ہوجائے‘ اس طرح دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے ہر ایک دوسرے کا محتاج ہے اور ایک دوسرے کے بغیر کسی کا قوام وقیام ممکن ہی نہیں‘ اور بدن کا قوام بھی ان ہی دونوں کا مرہون منت ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لئے مادہ کی حیثیت رکھتا ہے‘ چنانچہ حرارت رطوبت کے لئے ایک ایسا مادہ ہے جو اس حرارت سے اس کی حفاظت کرتا ہے اور یہی حرارت رطوبت کو فساد واستحالہ غیر ضروریہ سے روکتی ہے اور رطوبت حرارت کے لئے مادہ ہے‘ جو اسے غذا فراہم کرتا ہے اور اسے لے کر چلنا رطوبت ہی کا کام ہے ان میں سے کوئی اگر دوسرے سے ”زیادہ ہوجائے تو بدن کے مزاج میں اسی کمی وزیادتی کے تناسب سے انحراف پیدا ہوجائے گا چنانچہ حرارت برابر رطوبت کو تحلیل کرتی رہتی ہے اور بدن کو برابر اس چیز کی ضرورت رہتی ہے جو حرارت کی تحلیل سے کم ہوکر لوٹتی ہے اس لئے کہ بدن انسانی کو اسے باقی رکھنا ہوتا ہے اس لئے اس ضرورت کی تلافی بھی ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تلافی طعام وشراب ہی سے ہوسکتی ہے اسی طرح اگرتحلیل ہونے کی مقدار اپنے تناسب سے بڑھ جائے تو حرارت میں کمی آجائے گی اور وہ بدن کے فضلات کو تحلیل نہ کرپائے گی۔
پھر اس تحلل سے مواد ردیہ کی افزائش ہوگی جس سے بدن میں خرابی اور فساد پیدا ہوگا پھر اس مواد ردیہ اور اعضاءکے قبول مواد اور استعداد وقبولیت کی بنا پر مختلف قسم کے امراض پیدا ہوں گے اس پوری تفصیل کے لئے قرآن مجید کا یہ ایک ٹکڑا کافی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا [الأعراف : 31]
”کھاﺅ پیو اور اسراف نہ کرو“۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ہدایت فرمائی کہ بدن میں کھانے پینے کی اس قسم کو داخل کرو جو بدل ما یتحلل ہوسکے اور کھانے پینے کی مقدار وکیفیت ایسی ہو جو بدن کو نفع پہنچاسکے اس سے جہاں آگے بڑھاتو اسراف کا شکار ہوا اور یہی دونوں چیزیں صحت کے لئے مضر اور بیماری کا باعث ہیںیعنی بالکل نہ کھانا نہ پینا کھانے پینے میں زیادتی اور اسراف۔
اس سے معلوم ہوا کہ حفظان صحت کے لئے قرآن مجید کے یہ دو کلمے کتنی اہمیت رکھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ بدن ہمیشہ تحلل اور مکافات تحلل میں لگا رہتا ہے‘ اور جب یہ تحلل زیادہ ہوگا تو اس کے مادہ رطوبت کے ختم ہونے کی وجہ سے حرارت میں ضعف پیدا ہوجائے گا‘ کیونکہ کثرت تحلل سے رطوبت ختم ہوجاتی ہے جو حرارت کا مادہ ہے‘ اور جب حرارت میں ضعف پیدا ہوگا تو ہضم میں کمزوری پیدا ہوگی اور یہ سلسلہ برابر آگے بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ رطوبت بالکل ختم ہوجاتی ہے جس سے حرارت کلیتہً بجھ جاتی ہے‘ پھر انسان کی مقررہ مدت آجاتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے کہ وہ وہاں تک ضرور پہنچے گا۔
انسان کا اپنا علاج اور کسی غیر کا علاج صرف بدن کی اس حد تک حفاظت کرنا ہے کہ وہ کبھی اس حالت تک نہ پہنچ جائے اس علاج کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے‘ کہ حرارت ورطوبت جن پر صحت وجوانی کی بقاءاور ان کی قوت کا انحصار ہے‘ ہمیشہ برقرار رہیں گے اس لئے کہ یہ چیز تو پوری برادری میں کسی کو بھی نصیب نہیں بلکہ ڈاکٹر اور طبیب کا مطمع نظر یہ ہوتا ہے کہ وہ رطوبت کو مفسدات مثلاً عفونت وغیرہ سے محفوظ رکھے اور حرارت کو ایسی چیزوں سے بچائے جو اس کو کمزور کردیتی ہیں اور ان دونوں میں کسی ایسی تدبیر سے توازن قائم کردے جس سے انسانی بدن برقرار رہے کیونکہ اسی توازن سے آسمان وزمین اور تمام مخلوقات قائم ہیں اگر توازن نہ ہو تو سب برباد ہوجائیں اور جس نے بھی ہدایات نبویﷺ پر بنظر عمیق غور کیا تو اسے یہی ہدایت سب سے افضل واعلیٰ معلوم ہوگی جس کے ذریعہ حفظان صحت ممکن ہے‘ اس لئے کہ حفظان صحت کا سارا دارومدار کھانے پینے‘ رہنے‘ سہنے‘ پہننے‘ ہوا‘ نیند بیداری‘حرکت وسکون‘ جماع استفراغ اور احتباس کی عمدہ تدبیر پر ہوتا ہے‘ اگر انسان کو یہ تمام چیزیں بدن‘ جائے قیام عمر اور عادت کے مناسب ومطابق ملتی رہیں تو وہ ہمیشہ صحتمند رہے گا‘ یا صحت کا غلبہ اس پر رہے گا یہاں تک کہ موت کا مقررہ وقت آپہنچے۔
چونکہ صحت وعافیت اللہ تعالیٰ کی اپنے بندہ پر سب سے بڑی اور اہم نعمت ہے اور اس کے عطیات وانعامات میں سب سے عمدہ ترین اور کامل ترین ہے بلکہ مطلق عافیت ہی اس کی سب سے بڑی اور اعلیٰ نعمت ہے لہٰذا اس شخص کے لئے ضروری ہے‘ جسے توفیق الٰہی کا کوئی حصہ ملا ہو‘ کہ وہ اپنی صحت وعافیت کی حفاظت و مراعات اور اس کی نگہبانی اور نگرانی ان تمام چیزوں سے کرے جو صحت کے منافی ہیں اور جس سے صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے امام بخاری ؒنے اپنی بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے یہ حدیث روایت کی ہے انہوںنے بیان کیا۔
”رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دو نعمتیں انسان پر ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ غفلت کرجاتے ہیں ایک صحت اور دوسرے فارغ البالی“
امام ترمذی وغیرہ نے عبیداللہ بن محصن انصاری ؓسے یہ حدیث روایت کی ہے‘انہوں نے بیان کیا کہ۔
”رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے صبح کی اور اس کا جسم بہ عافیت رہا وہ اپنے خاندان میں مامون ہوگا اس کے پاس اس دن کی روزی ہوگی گویا پوری دنیا اس کے سامنے لاکر رکھ دی گئی“
ترمذی ہی میں حدیث حضرت ابوہریرہ ؓسے منقول ہے۔
”نبیﷺ سے روایت ہے‘ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے عطا کردہ نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا‘ اور یوں کہا جائے گا کہ ہم نے تمہارے جسم کو تندرست نہیں بنایا تھا اور تمہیں آب سرد سے ہم نے سیراب نہیں کیا تھا؟“
اسی قسم کا وہ قول بھی ہے جو ہمارے اسلاف نے اس آیت کے بارے میں فرمایا ہے۔
ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ [التكاثر : 8]
”پھر اس دن نعمت کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا یعنی صحت کے متعلق تم سے پوچھا جائے گا“۔
مسند امام احمد میں مذکور ہے کہ نبیﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا:
اے عباس اے رسول اللہ کے چچا دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ سے عافیت مانگئے۔
مسند احمد ہی میں حضرت ابو بکر صدیق ؓسے روایت ہے‘ انہوںنے بیان کیا کہ۔
”میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ سے یقین اور عافیت طلب کرو اس لئے کہ کسی کو یقین کے بعد سب سے بڑی دولت ملی ہے وہ عافیت ہے“
اس حدیث میں دنیا وآخرت دونوں کی عافیت کو یکجا کردیا کیونکہ دنیا وآخرت میں بندہ کی پورے طور پر اصلاح یقین وعافیت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی چنانچہ یقین کے ذریعہ آخرت کے عذاب کا دفاع ہوتا ہے اور عافیت سے دنیا کے تمام قلبی وجسمانی امراض دور ہوتے ہیں۔
سنن نسائی میں حضرت ابوہریرہ ؓسے مرفوعاً حدیث مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
”اللہ تعالیٰ سے تم فضل وعافیت اور صحت طلب کرو اس لئے کہ کسی کو یقین کے بعد صحت مندی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں عطا کی گئی ہے“
ان تینوں کے ذریعہ ہر طرح کے شروں سے بچنا ممکن ہے‘ شرور ماضیہ کا ازالہ فضل کے ذریعہ اور موجود شرور کا دفاع عافیت کے ذریعہ اور آئندہ کے متوقع شرور سے بچاﺅ صحت کے ذریعہ ممکن ہے‘ اگر تینوں حاصل ہو جائیں تو دائمی اور دوامی عافیت نصیب ہوجائے۔
ترمذی میں مرفوعاً ہے۔
”اللہ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا ہے‘ اس میں سب سے اس کے نزدیک پسندیدہ عافیت کا سوال ہے“
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ابو درداءؓسے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول مجھے صحت وعافیت دی جائے اور میں اس پر شکر ادا کروں یہ بہتر ہے اس سے کہ مجھے آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور اس پر صبر کروں یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ بھی تمہارے ساتھ عافیت ہی کو بہتر سمجھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا اور آپ سے عرض کیا کہ پنج گانہ نماز کی ادائیگی کے بعد میں اللہ سے کس چیز کا سوال کروں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے عافیت طلب کرو‘ اس کو آپ نے دو بارکہا اور تیسری مرتبہ فرمایا کہ دنیا اور آخرت دونوں میں عافیت طلب کرو۔
جب صحت وعافیت کا یہ مقام ہے تو اس کی مناسبت ورعایت سے ہم یہاں ہدایات نبویﷺ اور سنن کا ذکر کریں گے جو شخص ان میں غور وفکر کرے گا اسے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی کہ مطلقاً یہ کامل ترین ہدایات ہیں جن سے جسمانی وقلبی صحت کی حفاظت کلی طور پر کی جاسکتی ہے اس کے ساتھ دنیوی واخروی زندگی کی حفاظت ہوسکتی ہے اللہ ہی مددگار اور اسی پر بھروسہ ہے اس کے سوا کوئی طاقت وقوت نہیں۔