Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

طب نبوی ﷺ میں دلوں کی تقویت اور شگفتہ باتوں کے ذریعہ مریضوں کا علاج

ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ابو سعید خدریؓ سے مروی ایک حدیث نقل کی ہے:
”ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی مریض کے پاس تم جاﺅ تو فوراً اس کے سامنے خوش کن باتیں کرو اس سے کچھ بھی نہ ہو مگر پھر بھی اس سے مریض کی ڈھارس بندھتی ہے۔ اسے بھلا لگتا ہے“۔
اس حدیث میں ایک عمدہ طریقہ علاج بیان کیا گیا ہے کہ تیماردار مریض کے پاس پہنچ کر اس سے خوش کن باتیں کرے جس سے اس کی طبعیت قوی اور مضبوط ہو اور قوت کو نشاط ملے اور حرارت غریزی جوش میں آئے اس سے بیماری کے دفاع میں بہت مدد ملتی ہے یا مرض اس سے کسی قدر ہلکا ہوتا ہے۔ جو طبعیت کا عین مقصد ہوتا ہے۔
مریض کے دل کو خوش کرنا اور اس کو تقویت دینا اور اس میں ایسی چیزیں جمانا جس سے اسے مسرت و فرحت حاصل ہو یہ چیزیں بیماری کو جڑ سے ختم کرنے یا اس کو ہلکا کرنے میں ایک زبردست تاثیر رکھتی ہیں اس لیے کہ ان چیزوں سے روح اور اعضاءدونوں ہی میں جان آجاتی ہے جس سے طبعیت تکلیف دہ چیز کو روکنے اور ختم کرنے میں مضبوط ہوجاتی ہے اور یہ تو روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ دوستوں کی عیادت سے مریض میں جان پیدا ہوتی ہے اور قوت میں اضافہ ہوتا۔ اسی طرح ان کا دیکھنا ان کی عنایات ان کے ساتھ ہنسی مذاق اور خوش کن گفتگو بڑا ہی زبردست فائدہ پہنچاتی ہے اس سے مریض کی تیمارداری کا نفع سامنے آگیا اس لیے کہ مریض کی عیادت میں چار فوائد ہیں۔ ایک فائدہ صرف مریض سے متعلق ہے اور دوسرا عیادت کرنے والوں سے اور تیسرا فائدہ مریض کے متعلقین سے اور چوتھا فائدہ کا تعلق عامتہ الناس سے ہوتا ہے۔
آپ کی ہدایت کا ذکر پہلے ہوچکا کہ آپ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس سے تکلیف دریافت کرتے اور فرماتے کہ اب کیا حال ہے اور کیا کچھ کھانے کی رغبت ہے یا اس کی دوسری خواہش معلوم کرتے اور اپنا دست مبارک کبھی اس کی پیشانی پر اور کبھی اس کے سینے پر رکھتے اور اس کے لیے دعا فرماتے اس کے لیے ایسی چیز تجویز فرماتے جو اس کے لیے نافع ہوتی کبھی آپ وضو فرماتے اور بچا ہوا پانی مریض پر چھڑکتے کبھی مریض کی تسلی یوں فرماتے۔
”کچھ حرج نہیں بس بیماری سے پوری طرح پاکی ہوجائے گی۔ ان شاءاللہ“۔
آپ کی کمال عنایت، حسن معالجہ اور خوبی تدبیر نہ پوچھئے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS