Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

مریض کو عادی غذاﺅں میں سے زود ہضم غذا دینے کی ہدایات نبوی ﷺ

صحیحین میں حدیث عردہؓ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:
”جب آپ کے گھر کا کوئی مرتا تو عورتیں پردے میں آتیں پھر اپنے اپنے گھر کو روانہ ہوجاتیں تو آپ حریرہ کی ہانڈی چڑھاتیں جو پک کر تیار ہوتی پھر ثرید بنتی اس ثرید پر یہ بھوسی دودھ حریرہ ڈالا جاتا پھر آپ فرماتیں اسے کھاﺅ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ حریرہ مریض کے لیے مفرح قلب ہے اور رنج و غم کو ختم کردیتا ہے۔“
اور سنن میں بھی حضرت عائشہؓ سے ایک حدیث مروی ہے:
”حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نفع بخش دودھ بھوسی حریرہ کے چند چمچے استعمال کرو اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر کا کوئی فرد جب بیمار ہوتا تو حریرہ کی ہانڈی آگ پر چڑھتی رہتی جب تک کہ دو رخوں میں سے ایک رخ کھل کر سامنے نہ آجاتا ”یعنی موت یا صحت“
اورحضرت عائشہؓ سے ایک دوسری روایت ہے:
”رسول اللہ ﷺ سے جب ذکر کیا جاتا کہ فلاں مبتلائے درد ہے کھانا نہیں کھاتا تو آپ فرماتے کہ اسے بھوسی دودھ کا حریرہ استعمال کراﺅ چنانچہ یہ حریرہ مریض کو دیا جاتا آپ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ حریرہ تمہارے شکم کو اس طرح صاف شفاف کردیتا ہے جیسے کوئی عورت اپنا چہرہ گرد و غبار سے صاف کرکے نکھار لیتی ہے“
تلبین:        تلبین حریرہ کی ایک قسم ہے جو دودھ اور شہد کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے اسی وجہ سے اسے تلبینہ کہتے ہیں ہروی نے لکھا ہے کہ تلبینہ کے نام رکھنے کی وجہ اس حریرہ کی سفیدی اور رقت ہے یہ غذا بیمار کے لیے ازحد مفید ہے یہ رقیق پکی ہوتی ہے گاڑھی نا پختہ نہیں ہوتی اگرتم حریرہ کی فضیلت جاننا چاہتے ہو تو ماءالشعیر (جو کا پانی) کی خوبی کو سامنے رکھو اس لیے کہ عربوں کے لیے یہ حریرہ ماءالشعیر کے قائم مقام ہے کیونکہ ماءالشعیر ایک ایسا حریرہ ہے جو جو مسلم کے آٹے سے بنایا جاتا ہے۔
ماءالشعیر اور تلبینہ میں فرق یہ ہے کہ ماءالشعیر میں جو مسلم پکایا جاتا ہے اور تلبینہ میں جو کا آٹا پکایا جاتا ہے اور تلبینہ ماءالشعیر سے زیادہ مفید ہے اس لیے کہ پیسنے کی وجہ سے جو کی خاصیت نمایاں ہوجاتی ہے ہم اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ دوا اور غذا کے پوری طرح اثر کرنے میں عادات کو بہت بڑا دخل ہے اور بہت سے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ ماءالشعیر بنانے میں جو کو مسلم کے بجائے پیس کر استعمال کرتے ہیں جس سے بھر پور غذائیت حاصل ہوتی ہے اور اثر بھی زیادہ سے زیادہ نیز جلاءکے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ بڑھی ہوتی ہے اور شہری معالجین اس کو مسلم استعمال کراتے ہیں تاکہ اس سے تیار ہونے والا حریرہ رقیق اور زود ہضم ہو اور اس سے مریض کی طبعیت پر گرانی نہ ہو اور یہ شہریوں کی نازک مزاجی کے مطابق و مناسب ہوتی ہے اور پسے ہوئے جو کا ماءالشعیر ان کی طبعیت پر گراں گزرتا ہے الغرض ماءالشعیر مسلم جو کا پکایا ہوا سریع النفوذ ہوتا ہے اور کھلے طور پر آنتوں کی صفائی کرتا ہے زود ہضم ہوتا ہے اور اگر گرم استعمال کیا جائے تو اس کا جلاءاور بھی قوی ہوجاتا ہے اور غیر معمولی اثر دکھاتا ہے اس سے حرارت غریزی میں بھی معمولی نمو ہوتا ہے معدہ کی سطح کو بھی پوری طرح متاثر کرتا ہے۔
آپ کا یہ قول ”مجمتة لفواد المریض“ دونوں طرح سے پڑھا جاتا ہے میم اور جیم کے فتحہ کے ساتھ اور میم کے ضمہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ لیکن پہلی لغت زیادہ مشہور ہے جس کے معنی مریض کے لیے آرام دہ یعنی وہ مریض کے دل کے لیے فرحت بخش ہے یہ اجمام سے مشتق ہے جس کے معنی آرام و سکون کے ہیں آپ کا قول ”یہ اللہ تعالیٰ ہی بخوبی جانتا ہے لیکن یہ بات مسلم ہے کہ غم و حزن سے مزاج اور روح میں تبرید پیدا ہوتی ہے اور حرارت غریزی کو کمزور کردیتا ہے اس لیے کہ حرارت غریزی کی دوش بردار روح قلب کی جانب سے مائل ہوتی ہے جو روح کا منشا و مولد ہے اور یہ حریرہ حرارت غریزہ کے مادہ میں اضافہ کرکے اس کو تقویت بخشتا ہے اس طرح سے غم و حزن کے اکثر اسباب و عوارض کو زائل کردیتا ہے۔
بعضوں نے ایک بات اور لکھی ہے جو کسی قدر مناسب معلوم ہوتی ہے اس سے رنج و غم دور ہوجاتا ہے اس لیے کہ اس میں مفرح ادویہ جیسی خصوصیات بھی موجود ہیں چنانچہ بہت سی دوائیں بالخاصیہ مفرح ہوتی ہیں ”واللہ اعلم“
یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ مغموم شخص کے قویٰ اس کے اعضاءپر خشکی غالب ہونے کی وجہ سے کمزور پڑجاتے ہیں اس کے معدہ میں غذا کی کمی کی وجہ سے خصوصیت کے ساتھ یبس طاری ہوتی ہے اور اس حریرہ سے اس میں تری، تقویت اور تغذیہ سبھی چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور دل کے مریض پر بھی اس کا اثر ایسا ہی ہوتا ہے یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ معدہ میں خلط مراری یا بلغمی یا خلط صدیدی جمع ہوجاتی ہے اس حریرہ سے معدہ کی صفائی ہوتی ہے اس کی آلائش دور ہوجاتی ہے اس کے اندر پائے جانے والے فضلات زیریں جانب آجاتے ہیں اور اس میں مائیت پیدا ہوجاتی ہے اس کی کیفیات میں تعدیل ہوتی ہے جو اس کی حدت کو ختم کردیتی ہے اس طرح مریض کو سکون ملتا ہے بالخصوص ایسا مریض جسے جو کو روٹی کھانے کی عادت ہو اور اہل مدینہ کی یہ عادت دور قدیم سے ہی یہی رہی ہے بلکہ ان کی تمام اقسام غذا میں سب سے زیادہ عام یہی چیز تھی گیہوں کی روٹی انہیں پسند ضرور تھی مگر اس کا حصول مشکل ہونے کی وجہ سے اس کا رواج کم تھا۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS