حنا کے فوائد پر سیر حاصل بحث

مہندی اول درجہ میں سرد اور دوسرے میں خشک ہے۔ درخت اور اس کی ٹہنیوں کی ترکیب میں ایک ایسی قوت محللہ ہوتی ہے جو آبی جوہر سے حاصل ہوتی ہے اس کی حرارت معتدل ہے۔ دوسری قوت قابضہ ہے جس میں جوہر ارضی بارد شامل ہے۔
اور اس کے منافع میںقوت محللہ ہے اور آگ جلے کے لیے نافع ہے دوسرے قوت اعصاب کو تازگی دیتی ہے اگر اس کا ضماد کسی عصبہ یا عضو پر کیا جائے اور اگر چبائیں تو منہ کے زخموں اور اس کے ثبورات کے لیے نافع ہے، آکلہ فم کو دور کرتی ہے بالخصوص بچوں کے منہ آنے کے لیے نافع ہے اسکے ضماد سے اورام حارہ تکلیف دہ التھابات کو سکون و آرام ملتا ہے، زخموں میں دم الاخوین کا نفع دیتی ہے اس کے پھول کے ساتھ موم خالص اور روغن گل ملا کر مالش کرنے سے ذات الجنب اور پہلو کا درد جاتا رہتا ہے۔
چیچک کے آغاز میں اگر چیچک زدہ کے تلوے پر ضماد کردیں تو اس سے اس کی آنکھ محفوظ رہتی ہے اس میں چیچک کا اثر نہیں ہونے پاتا، یہ بار بار کا مجرب ہے اس میں تخلف نہیں ہوتا گل مہندی کو اگر کپڑوں کی تہہ میں رکھا جائے تو عرصہ تک خوشبو دار بنا دیتا ہے اور جوں نہیں پڑنے دیتا اسے دیمک نہیں کھاتا، برگ حنا کو تازہ شیریں پانی میں بھگو دیں کہ پتیاں ڈوب جائیں پھر اسے نچوڑ کر اس کا نقوع چالیس دن تک استعمال کریں، ۴۲‘ گرام نقوع حنا ۴۲ گرام شکر اور مریض کو بکری کے بچے کا گوشت کھلائیں تو ابتداءجذام میں جادو کی طرح اثر کرتا ہے کہ آدمی انگشت بدنداں رہ جائے۔
چنانچہ روایت ہے کہ ایک شخص کا ناخن شگافتہ ہوگیا تھا اس کے علاج میں اس نے بڑی رقم صرف کی مگر بے سود کوئی نفع نہیں ہوا، اسے ایک عورت نے یہ نسخہ بتلایا کہ دس دن حنا استعمال کرے اس نے دھیان نہیں دیا پھر نقوع کو پانی میں بھگوکر استعمال کیا اور برابر پیتا رہا جس سے اسے شفاءہوئی اور اس کے ناخن اپنے انداز کے حسین ہوگئے۔
اگر ناخنوں پر اسے لگایا جائے تو اس سے نفع بھی ہوتا ہے اور اس کا حسن بھی بڑھ جاتا ہے اور اگر گھی میں ملا کر اورام حارہ جن سے پیپ نکل رہا ہو لگایا جائے تو زخم اچھا ہوجائے گا اور اگر ورم متفرح پرانا ہو تو اسے اور بھی نفع دیتا ہے بال اگاتا ہے اور بالوں کو قوی کرتا ہے ان کو رونق بخشتا ہے قوت دماغ کو بڑھاتا آبلوں کو روکتا ہے پنڈلیوں اور پیروں میں ہونے والے ثبورات کو ختم کرتا ہے اسی طرح پورے جسم کے ثبورات کے لیے نافع ہے۔