Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

قے کے ذریعہ استفراغ مادہ کا طریقہ نبوی ﷺ

امام ترمذیؒ نے اپنی جامع ترمذی میں معدان بن ابی طلحہؓ کی حدیث ابو الدردائؓ سے روایت کی ہے۔
”رسول اللہ ﷺ نے قے کی پھر وضو فرمایا میں نے جامع مسجد دمشق میں ثوبانؓ سے ملاقات کی اور اسکا ذکر کیا تو انہوں نے کہا بالکل سچی بات ہے میں نے خود آپکو وضو کرایا“
ترمذی نے لکھا کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے۔
قے: اصو ل استفراغات خمسہ میں سے قے بھی ایک ہے۔
اصول استفراغات یہ ہےں، قے، اسہال، اخراج دم (خون نکلوانا) نخارات اور پسینہ کا بدن سے خارج کرنا، ان اصول استفراغات کا ذکر احادیث نبویہ میں بھی آیا ہے۔
اسہال: حدیث میں خیر ماتد اویتم بہ الثی سب سے بہتر دوا اسہال ہے۔ اس کا ذکر موجود ہے۔ اسی طرح حدیث ”النسائ“ میں بھی اس کا ذکر ہے۔
اخراج دوم: حجامت و فصد سے متعلق مروی احادیث میںاس کا ذکر آچکا ہے۔
استفراغ ابخرہ: اس فصل کے بعد ہی عنقریب اس کا ذکر آئے گا، ان شاءاللہ
استفراغ بالعرق: پسینہ کا نکلنا غیر اختیاری ہوتا ہے۔ بلکہ دافع طبیعت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جو جسم کے ظاہری حصہ کی جانب لے جاتی ہے۔ اور کھلے ہوئے مسام سے ٹکرا کر خارج کر دیتی ہے۔
قے: استفراغ ذہنی ہے۔ معدہ کے اوپری حصہ سے بذریعہ ذہن استفراغ کو قے کہتے ہیں۔ اور اگر یہی استفراغ زیریں جانب مقعد کے سوراخ سے ہو تو اسے حقنہ کہتے ہیں، دوا اوپری اور زیریں دونوں حصے سے شکم میں پہنچائی جاتی ہے۔
قے کی دو قسمیں ہیں:
ایک غلبہ مادہ اور ہیجان مادہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔
دوسری ضرورت و تقاضا کی وجہ سے ہوتی ہے۔
پہلی صورت میں قے کا روکنا اور اس کا دفاع مناسب نہیں۔ ہاں اگر ہیجان اتنا ہو کہ قے کی زیادتی سے مریض کی جان کا خطرہ ہو۔ تو پھر اسے روکا جاسکتا ہے۔ اور ایسی دوائیں استعمال کرائی جاسکتی ہیںجن سے قے رک جائے۔
دوسری صورت میں قے کرنا اس وقت مناسب ہوتا ہے جب اس کی ضرورت ہو۔ مگر اس میں بھی زمانے کی رعایت اور اس کی شرائط کا خصوصیت کے ساتھ لحاظ کیا جائے گا۔
قے کے اسباب دس ہیں:
۱)    صفراءخالص کا غلبہ اور اس کا فم معدہ پر آتے رہنا کہ اس سے مری کی طرف صعود کی بناءپر قے ہونے لگتی ہے۔
۲)    بلغم لزج کی وجہ سے قے ہو تی ہے۔ جس سے معدہ میں تحریک پیدا ہو جائے اور باہر نکلنے کے لیے مجبور ہو۔
۳)    خود معدہ میں اس قدر ضعف ہو۔ جس کی وجہ سے ہضم طعام نہ ہوسکے چونکہ ہضم کے بعد معدہ آنتوں کی طرف غذا کو دھکیلتا ہے۔ اور ہضم نہ ہو نے کی صورت میں اسے بالائی جانب پھینکتا ہے۔
۴)    کوئی خلط روی معدہ میں آمیز ہو کر معدہ کے مشتملات میں مل جائے جس سے بدہضمی پیدا ہو جائے اور معدہ کا فعل کمزور پڑجائے۔
۵)    معدہ کی قوت برداشت سے زیادہ کھانے یا پینے سے معدہ اس کو روک نہیں سکتا بلکہ اس کو دفع کرتا اور باہر نکالنا چاہتا ہے۔
۶)     ماکول و مشروب معدہ کے موافق نہ ہو بلکہ معدہ اسے ناپسند کرتا ہو اور یہ ناپسندیدگی اس حد تک ہوکہ معدہ اسے دفع کرنا اور باہر نکالنا چاہتا ہو۔
۷)    معدہ میں کسی ایسی چیز کا پایا جانا جو کھانے کی کیفیت و طبیعت کو بگاڑ دے، یا اسے باہر نکالنے پر آمادہ کرے۔
۸)    اچھوت یعنی ایسے مریضوں سے اختلاط جو متلی اور قے کا باعث ہوں۔
۹)    اعراض نفسانی جیسے شدید قسم کا رنج و غم، حز ن طبیعت کا غیر معمولی اشتغال یا قو ی طبعی کا ان ہی اعراض نفسانی کی طرف پورے طور پر متوجہ ہونا، انکے انسان پر وار ہونے کی وجہ سے طبیعت کا تدبیر بدن سے غافل ہوجانا یا اصلاح غذا سے غفلت یا اسکے انضاج وہضم سے بے اعتنائی جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معدہ اسے باہر پھینک دیتا ہے۔ اور کبھی اختلاط میں تیز حرکت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ نفس میں جوش پیدا ہو اس لیے کہ نفس اور بدن ایک دوسرے سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔
۰۱)    کسی قے کرنے والے کو دیکھ کر اس کی طرف طبیعت کا منتقل ہونا کہ انسان کسی کو قے کرتے دیکھتا ہے۔ تو خود کو سنبھال نہیں پاتا۔ اور غیر اختیاری طور پر قے آجاتی ہے۔ اس لیے کہ طبیعت نقال واقع ہوئی ہے۔
بعض ماہرین فن طب کا کہنا ہے کہ سیرا ایک خواہر زادہ تھا جس نے کحل میں بڑی دسترس حاصل کرلی۔ وہ ایک کحال کے پاس بیٹھتا تھا۔ جب کحال کسی آشوب زدہ کی آنکھ کھولتا اور آشوب تجویز کرنے پر اسے سرمہ لگاتا تو یہ بھی محض بیٹھنے کی وجہ سے آشوب زدہ ہوجاتا یہ بار بار پیش آیا پھر اس نے اس کے پاس بیٹھنا چھوڑ دیا۔ میں نے اس سے اس کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ یہ نقل طیبعت کا کرشمہ ہے کیونکہ طبیعت نقال ہے، اس نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک دوسری بات بھی میں جانتا ہوں۔ کہ ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے جسم کے کسی حصہ میں ایک پھوڑا ہے۔ جسے وہ کھجلا رہا ہے۔ اسے دیکھ کر اس نے بھی ٹھیک اسی جگہ کھجلایا نتیجہ یہ ہوا کہ اس جگہ پھوڑا نکل آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ ساری بات طبیعت کی استعداد پر ہے۔ مادہ غیر متحرک ساکن تھا۔ ان اسباب میں سے ایک سبب کی وجہ سے وہ حرکت میں آگیا۔ یہ مادہ کے تحرک کے اسباب ہیں، اس عارض کے لیے موجب نہیں ہیں۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS