دواﺅں کے ضرر و منافع میں طبعیت کی استعداد

اس کھجور کا نفع بعض قسم کے سموم کے لیے ممکن ہے اس لیے اس حدیث سے عموم کے بجائے کسی خاص زہر میں نافع ہونے کا ذکر ہے، ممکن ہے اس علاقے میں اس کا یہ نفع ہو۔ یا کوئی خاص زمین جو اس قسم کے زہروں کے دفاع کے لیے مناسب ہو۔ اس کے علاوہ ایک بات خاص طور سے قابل توجہ ہے وہ یہ کہ کسی دوا کے نفع کرنے کے لیے مریض کو اس کے نفع کا یقین اور طبعیت کا اطمینان ضروری ہے اس سے بیماری کے دفاع میں مدد ملتی ہے چنانچہ جس اعتقاد کی بنیاد پر بہت سی دوائیں نافع ہوتی ہیں یا مریض اسے بڑھ کے لیتا ہے پھر اس کا نفع مشاہدہ میں آتا ہے دنیا کو ان عجائبات کا پوری طرح تجربہ و مشاہدہ ہے جب طبعیت کسی دوا کو قبول کرتی ہے تو اس سے طبعیت میں ایک طرح کی امنگ پیدا ہوتی ہے قوت میں جان آجاتی اور طبعیت مضبوط ہوجاتی ہے جس سے حرارت غریزی میں ابھار اور جوش پیدا ہوجاتا ہے نتیجہ اذیت کے دفاع میں مدد ملتی ہے مرض کمزور پڑجاتا ہے اور جب اس کے برعکس معاملہ ہوتا ہے تو بہت سی دوائیں جو اس مرض کے لیے سود مند ہوتی ہیں۔ محض مریض کی بداعتقادی کی وجہ سے ان کا عمل فنا ہوجاتا ہے اور طبعیت بھی ابا کرنے لگتی ہے پھر اس سے کوئی نفع نہیں ہوتا دورکیوں جایئے سب سے زیادہ شافی دوا جس سے دل اور بدن دونوں ہی کو نفع پہنچنا یقینی معاش و معاد کی خیریت اس پر منحصر دنیا و آخرت کی فلاح اس سے متعلق ہے یعنی قرآن کریم جو ہر بیماری کے لیے شفاءکامل ہے۔ مگر ان لوگوں کو اس سے کوئی نفع نہیں ہوتا جو قرآن کے شافی اور نافع ہونے کا یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کی بیماری میں عدم اعتقاد کی وجہ سے برابر اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ دلوں کی بیماری دور کرنے میں قرآن سے زیادہ کوئی نافع نہیں ہے اس میں وہ تاثیر ہے کہ بیماری کا کوئی شبہ ہی باقی نہیں رہتا بلکہ عام صحت کی بھی حفاظت کرتا ہے جو موذی و مضر سے حفاظت و حمایت کے کام آتا ہے ان ساری خوبیوں کے ہوتے ہوئے اکثر قلوب اس کا انکار کرتے ہیں جس قرآ ن میں شک کی گنجائش نہیں ان کو اس کے ساتھ اعتقاد نہیں ہوتا چنانچہ وہ اس کو کام میں نہیں لاتے اور قرآن کو چھوڑ کر دوسری دواﺅں کی طرف جو خود اس کے ہم جنسوں نے تیار کی ہے رجوع کرتا ہے چنانچہ اس بداعتقادی سے ان کو شفاءنہیں ہوتی اس پر عادت کا غلبہ ہوجاتا ہے امراض بڑھتے جاتے ہیں اور دلوں کی بیماری راسخ اور مزمن ہوجاتی ہے مریضوں اور طبیبوں کو اس معالجہ پر بھروسہ ہے جو خود ہم جنسوں یا ہم جنسوں کے شیوخ نے تجویز کیے وہ اس کو قدر و عظمت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہیں جسکے نتیجہ میں مصیبت بڑھتی جاتی ہے بیماری میں اور زیادہ رسوخ اور پائیداری ترقی کرتی ہیں امراض کے پے بہ پے حملے ہوتے ہیں جن کا علاج ان کے بس کی بات نہیں رہتی، اور وہ جوں جوں دوا کی، کے مصداق ہوتے جاتے ہیں مگر آنکھ نہیں کھلتی۔
نرالہ طرز دوا ہے کہ طالبان شفاء    پہنچ ہی نہیں پائے در شفاءپر ابھی
کہ جیسے اشتر صحرا نورد مرجائے     طلب میں پانی کے پانی ہو پشت بار ابھی