Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

قے کے ذریعے استفراغ کے فوائد

قے سے معدہ کی صفائی ہوتی ہے۔ اس میں قوت آتی ہے آنکھ کی روشنی تیز ہو تی ہے۔ سر کی گرانی ختم ہو جاتی ہے۔ گردوں اور مثانہ کے زخموں کے لےے بے حد نافع ہے مزمن امراض مثلا جذام، استقائ، فالج اور رعشہ کے لیے نفع بخش ہے۔ اور یر قان کے لیے اکسیر ہے۔
اس کا صیح طریقہ یہ ہے کہ تندرست شخص ہر مہینہ دو بار متواتر قے کرے جس میں کسی خاص دور کا لحاظ نہ ہوتا کہ پہلی قے میں جو کمی رہ گئی ہو۔ دوسری میں پوری ہو جائے، اور ان فضلات کا بالکل خاتمہ ہو جائے، معدہ کو قے کی کثرت نقصان پہنچاتی ہے۔ اور اسے کمزور کر کے فضلات کی آما جگاہ بنا دیتی ہے۔ دانت، انکھ اور کان کو ضرر پہنچاتی ہے۔ بعض وقت اس سے کوئی رگ پھٹ جاتی ہے۔ اور جس کے حلق میں روم ہو اسے قے سے پوری طرح پرہیز کرنا چاہیے۔ یا جس کا سینہ کمزور ہو یا گردن پتلی ہو۔ یا نفث دم کی استعداد رکھتا ہے۔ یا اجابت بمشکل ہوتی ہو تو ایسے تمام لوگوں کو قے سے اجتناب ضروری ہے۔ بہت سے بے ترتیب لوگ شکم کو خوب بھر لیتے ہیں۔ جب مکمل طور سے شکم بھر جاتا ہے تو اسے قے کے ذریعے باہر نکالتے ہیں۔ اس طریقہ میں چند در چند آفات ہیں۔ ایک تو یہ کہ بڑھاپا جلدی آجاتا ہے۔ دوسرے خراب قسم کے امراض سے مریض دوچار ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ قے ایک عادت بن جاتی ہے، چوتھے کثرت قے کی وجہ سے خشکی پیدا ہوتی ہے۔ پانچویں احشاءجسم انسانی میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔ چھٹے مراق دبلا ہو جاتا ہے۔ یا قصداً قے کرنے والا کمزور ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں کی وجہ سے قے کرنے والوں کو سخت خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
قے کا بہترین زمانہ موسم گرما یا موسم بہار ہے موسم سرما یا موسم خزاں میں اس سے پرہیز کرنا چائے۔ اور قے کرنے کے وقت احتیاطی طور پر آنکھوں کے سامنے اور شکم پر پٹی باندھ لی جائے اور فراغت کے بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو لیا جائے اس کے بعد مسمی کا شربت پیا جائے جس میں عرق گلاب اور مصطگی کی آمیزش ہو اس سے خاصا نفع ہوتا ہے۔
قے سے معدہ کے بالائی حصہ کا استفراغ ہو تا ہے اور معدہ کے زیریں حصہ کے مواد کو کھینچ کر لاتی ہے اور اسہال سے اس کے برعکس ہوتا ہے۔
بقراط نے لکھا ہے کہ گرمیوں میں استفراغ بالدواءسے زیادہ قے کے ذریعہ استفراغ کرایا جائے اور موسم سرما میں اسہال کے ذریعہ استفراغ کیا جائے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS