Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

مرض کے مختلف درجات

مرض چار دور سے گذرتا ہے۔ ابتدا، تزائد انتہا، انحطاط طبیب کو ان چاروں دور میں سے ہر ایک دور کی رعایت کرنی ضروری ہے ہر دور کی مناسب سے اس کے حالات کی رعایت کرتے ہوئے ایسی دوائیں اور تد ابیر اختیار کرے جو اس حالت کے لیے درست ہوں چنانچہ جب اسے ابتداءمرض میں محسوس ہو کہ طبیعت فضلات کو حرکت میں لانے اور اس کی اور اس کے نضج کے لیے اسفراغ کی محتاج ہے۔ تو فوراً نضج کی تد بیر کرنی چاہیے۔ اور نضج مادہ ہونے ہی اس کا استفراغ کرنا چاہئے۔ اگر ابتداءمرض اس تحریک کی اجازت کسی خاص وجہ سے نہ دے تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ یا مریض کی قوت کمزور ہو اور اسفتراغ کو برداشت نہ کر سکے یا موسم سرما ہو یا اور کوئی گڑبڑ پیدا ہوگئی ہو تو اسے پوری طرح اس سے بچنا چاہیے۔ بالخصوص ایسی حماقت تزائد مرض کے وقت تو ہرگز نہ کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ ایسے موقع پر اگر ایسا کیا گیا تو طبعیت کے لیے دوا میں مشغول ہونے کی وجہ سے الجھن پیدا ہوجائے گی اور تدبیر اور مقابلہ علت کے بجائے دوسری طرف متوجہ ہوجائے گی۔ جیسے کوئی شہسوار جنگ میں دشمن کا مقابلہ کررہا ہو عین اس وقت دوسری طرف اس کی توجہ ہٹ جائے تو پھر اس شہسوار کا کیا حشر ہوگا؟ لیکن ضروری ہے کہ طبعیت کو قوت کی حفاظت میں لگایا جائے ورنہ مریض کی حالت بگڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے امکانی حد تک حفاظت قوت کی جائے۔
جب مرض انتہا کو پہنچ جائے اور اس میں وقوف و سکون پیدا ہوجائے تو اس کے استفراغ کی طرف توجہ کی جائے اور اسباب مرض کو جڑ سے کھودنے کی کوشش کرے اور جب انحطاط کا وقت آجائے تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے، اسکی مثال اس دشمن کی سی ہے۔ جسکی قوت ختم ہوجائے اور وہ بالکل نہتا ہو تو اس کا گرفتار کرنا آسان ہوتا ہے۔ اور جب وہ بھاگ نکلے تو اس وقت گرفتاری اور اسے پکڑنے کے لیے اور بھی آسانی ہوگی کیونکہ ابتداءہی میں اس کی قوت، حملے کے خطرات اور تیزی کے پیش نظر زیادہ ہوتی ہے، یہی حال مرض کے استفراغ اور اس کی قوت کا ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS