سونے جاگنے کا طریقہ نبوی ﷺ

جس نے آپ کے خواب وبیداری کے طریقہ پر غور کیا ہوگا اسے بخوبی معلوم ہوگیا کہ آپ کی نیند نہایت معتدل اور اعضاء وجوارح اور بدن کے لئے نفع بخش ہوتی تھی آپ ابتدائے شب میں سوجاتے اور رات کے نصف ثانی کے شروع میں بیدار ہوجاتے اور جاگنے کے بعد مسواک کرتے وضو فرماکر حسب ہدایت الٰہی نمازیں ادا کرتے آپ کے بدن اور اعضاءوجوارح کو نیند اور آرام کا پورا حصہ ملتا اور زیادتی اجر کے ساتھ ریاضت کا حق بھی حاصل ہوجاتا یہی اصلاح قلب وبدن اور دین ودنیا کی فلاح کی غایت وانتہا ہے۔
آپ بقدر ضرورت ہی سوتے تھے اس سے زیادہ سونے کی عادت نہ تھی اور خود بقدر ضرورت جاگنے کی خو ڈالتے ایسا نہ تھا کہ غیر معمولی تھکن میں مبتلا کردیں آپ دونوں چیزیں بدرجہ اتم انجام دیتے جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اپنے دائیں کروٹ سوجاتے ذکر الٰہی سے رطب اللسان رہتے یہاں تک کہ آنکھیں نیند کے غلبہ سے موند لیتے کچھ کھانے پینے کی وجہ سے نیند کا غلبہ نہ تھا آپ ننگی زمین پر نہ سوتے اور نہ آپ کو اونچے گدے پر سونے کی عادت تھی بلکہ آپ کا بستر چمڑے کا ہوتا جس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے ہوتے آپ کبھی تکیہ پر لیٹتے اور کبھی اپنے رخسار کے نیچے ہاتھ رکھ کر سوجاتے آگے ہم نیند کا بیان ایک فصل میں کریں گے اور نفع بخش وضرر رساں نیند کا بیان الگ ہوگا۔