طب نبوی میں ”مرگی“ کا علاج

صحیحین میں حدیث عطاءبن ابی رباح سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا۔
”ابن عباس ؓ نے فرمایا تم کو جنتی عورت دکھادوں میں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا یہ سیاہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے صرع کا مرض ہے اور رسوا ہوجاتی ہوں آپ دعا کردیجیے آپ نے فرمایا تم چاہو صبر کرو تمہارے لیے جنت ہے اگر تو چاہے تو دعا کردوں کہ تم کو عافیت عطا ہو تو اس نے کہا میں صبر کروں گی‘ پھر اس نے کہا کہ میں رسوا ہوجاتی ہوں آپ دعا کردیجیے کہ میں رسوا نہ ہوں آپ نے دعا فرمائی“۔
صرع دو قسم کا ہوتا ہے ایک صرع ارواح خبیثہ ردیہ کی بنا پر دوسرا اخلاط ردیہ کی وجہ سے اسی دوسرے صرع کا اطباءاسباب و علاج بیان کرتے ہیں۔
اور صرع ارواح کا اطباءکے زیرک و دانا لوگ اعتراف کرتے ہیں مگر اس کے علاج کی کوئی صورت ان کے سامنے نہیں ہے اور اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس بیماری کا علاج تو ارواح شریفہ خیر یہ علویہ کے ذریعہ ہی ممکن ہے وہی ان ارواح خبیثہ کا مقابلہ کرسکتی ہیں اور اس کے آثار مٹاسکتی ہیں اور اس کے افعال مدافعت ان سے ممکن ہے‘ اور ان کا ابطال بھی انہیں کے بس کی بات ہے‘ بقراط نے اپنی بعض کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے اور اس میں اس کا جزوی طور سے معالجہ تجویز کیا ہے چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ ہمارا طریقہ علاج اسی صرع کے لیے مفید ہے جس کا سبب اخلاط ردیہ یا مواد ردیہ ہوں لیکن جو صرع کہ ارواح کی بنیاد پر ہوتا ہے اس میں علاج نافع نہیں ہوتا۔
جو اطباءاناڑی ہیں جنہیں کچھ واقفیت ہے اور نہ علاج کے میدان میں ان کا کوئی مقام ہے بلکہ زندیق محض ہیں وہ صرع ارواح کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ لغویت ہے اس کا جسم انسانی پر اثر انداز ہونے سے کیا تعلق ہے ایسے لوگ اناڑی اور نادان ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ہماری طب میں اس کا کوئی دافع نہیں ہے حالانکہ اس آنکھ سے دیکھ کر یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ دنیا میں یہ بیماری بھی موجود ہے اور یہ کہنا محض اخلاط کے رنگ بدلنے کا کرشمہ ہے اس کے غلبہ سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے تو ان کا یہ مقولہ اس کی چند اقسام پر تو صادق آتا ہے سب پر اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔
قدیم اطباءاس قسم کے صرع الٰہی کہا کرتے تھے اور کہتے کہ روحوں کا کرشمہ ہے اور جالینوس وغیرہ نے اس لفظ کی تاویل کرتے ہوئے بیان کیا کہ اس کو مرض الٰہی کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ بیماری سر میں پیدا ہوتی ہے اور چونکہ دماغ ایک پاکیزہ مقام ہے جہاں اللہ کا قیام ہوتا ہے اس لیے اسے صرع الٰہی کہتے ہیں۔
ان کی یہ بات ان کی ناواقفیت کی بنیاد پر ہے ان کو ان ارواح اور اس کے احکام اس کی تاثیرات سے بالکل واقفیت نہیں ہے اطباءکا وہ گروہ جو منکر خالق کائنات ہے ان کا جب دور دورہ ہوا تو انہوں نے بجز اس صرع کے جو اخلاط کی ردائت کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے کسی دوسرے صرع کا قرار ہی نہیں کیا۔
جو لوگ ان روحوں اور ان کی تاثیرات سے واقف ہیں وہ ان نادانوں کی حماقت اور کم فہمی پر بجز مسکرانے کے اور کیا کرسکتے ہیں۔
ان قسم کے صرع کا علاج دو باتوں کا لحاظ کرکے ممکن ہے ایک بات تو خود مصروع سے متعلق ہے دوسری اس کے علاج کرنے والے سے جو مصروع سے متعلق ہے اس میں مصروع کی یقینی قوت اس کی گہری توجہ ان ارواح کے پیدا کرنے والے بنانے والے کی طرف اور سچا تعوذ جس پر دل اور زبان دونوں یکساں متفق ہوں اس لیے کہ یہ ایک قسم کی جنگ ہے اور جنگ آزما کا اپنے دشمن سے ہتھیاروںکے ذریعے قابو پانے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں ایک تو یہ کہ ہتھیار تقاضے کے مطابق عمدہ اور صحیح کام کرنے والا ہو دوسرے یہ کہ استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں بھی طاقت ہو اس لیے کہ ان دونوں میں سے کوئی چیز بھی ناقص ہوگی تو پھر ہتھیار سے وہ نفع نہیں حاصل کیا جاسکتا پھر ایسی صورت میں جہاں دونوں ہی چیزیں مفقود ہوں کامیابی کا امکان کیسے ہوگا ادھر دل میں توحید کی کوئی چنگاری نہیں بالکل اجڑا ہوا ہے نہ توکل ہے نہ پرہیز گاری نہ توجہ دوسرے ہتھیار بھی ناپید ہیں۔
دوسری صورت معالج سے متعلق ہے کہ اس میں بھی یہ دو باتیں ہونی ضروری ہیں اس لیے کہ اگر یہ دونوں چیزیں موجود ہوں تو دیکھنے میں آیا کہ اس نے اپنی زبان سے کہا کہ ”نکل جا“ یا اس نے اپنی زبان سے کہا بسم اللہ یا زبان سے لاحول ولا قوة الا باللہ نکالا اور ادھر کام ہوا خود ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان سے فرمایا:
”نکل اللہ کے دشمن میں اللہ کا پیای ہوں“
میں نے خود اپنے شیخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ مصروع پر ایسی روح پھونکتے جو روح مصروع کو مخاطب کرتی اور کہتی کہ شیخ نے تم کو نکلنے کا حکم دیا ہے تمہارا یہاں رہنا جائز نہیں ہے ان الفاظ کے بعد مرگی زدہ ٹھیک ہوجاتا تھا کبھی اس روح خبیث سے خود کلام کرتے ایسا بھی ہوا ہے کہ روح بہت زیادہ سرکش تھی تو اسے پیٹ کر نکالنے جس کے بعد مرگی کا مریض اچھا ہوجاتا اور اس کی پٹائی کا کوئی احساس مریض کو نہ ہوتا نہ درد نہ چوٹ اس کا صرف میں نے ہی نہیں دوسروں نے بار بار مشاہدہ کیا۔
میں نے دیکھا کہ اکثر مصروع کا کان میں یہ پڑھتے:
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَا كُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ[المؤمنون: 115[
”کیا تمہیں گمان ہے کہ ہم نے تمہیں بے سود پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف نہ آوگے“
انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے مصروع کے کان میں ایک بار یہ پڑھا اس پر روح نے جواب دیا ہاں اور اس بات کو کھینچ کر کہا میں نے اسے سزائیں دینے کے لیے ڈنڈا اٹھایا اور اس کی گردن کی عروق پر ایسی زور کا ڈنڈا جمایا کہ میر ا ہاتھ شل ہوگیا اور جو لوگ وہاں موجود تھے انہیں یقین ہوگیا کہ مصروع اس چوٹ سے مرگیا، جانبر ہونے کا کوئی سوال نہیں اس نے مارنے کے وقت کہا کہ میں اسے چاہتی ہوں میں نے اس سے کہا کہ یہ تو تم کو نہیں چاہتا اس نے کہا میں چاہتی ہوں کہ اس کے ساتھ حج کروں میں نے اس سے کہا یہ تو تمہارے ساتھ حج کرنا نہیں چاہتا تب اس نے کہا کہ تمہارے احترام میں میں اسے چھوڑتی ہوں میں نے کہا نہیں اللہ اور رسول کی اطاعت میں چھوڑتی ہوں کہو اس نے کہا میں نکلی جارہی ہوں اس کے بعد مصروع بیٹھ گیا دائیں بائیں دیکھنے لگا اور کہا کہ مجھے یہاں کیوں لائے تو لوگوں نے داستان بیان کی اور اس پٹائی کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ میں نے تو کوئی جرم نہیں کیا پھر شیخ نے مجھے کیوں مارا اور اس نے یہ سمجھا بھی نہیں کہ اس پر کوئی چوٹ پڑی ہے۔
وہ آیت الکرسی سے اس کا علاج کرتے تھے اور مصروع کو بکثرت اس کے پڑھنے کی ہدایت کرتے یا اس کے علاج کرنے والے کو بتلاتے اور معوذتین پڑھنے کو بھی کہتے۔
حاصل کلام اس قسم کے صرع کے مریض اور اس کے علاج کا انکار وہی کرے گا جو علم و عقل و معرفت سے کورا ہوگا اور اکثر ارواح خبیثہ کا تسلط کسی پر اسی وقت ہوتا ہے جب کہ اس میں دین و دیانت کی کمی ہو اور اس کے دل اور زبان میں ذکر الٰہی کا دور سے دور تک پتہ نہ ہو نہ اس کو پناہ مانگنے کی عادت نہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی احتیاطی تدبیروں اور ایمان سے کوئی ربط باقی رہتا اس لیے ارواح خبیثہ ایسے لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں جن کے پاس یہ ہتھیار نہیں ہوتے بہت سے لوگ ننگے ہوتے ہیں اور آسیب کے شکار ہوجاتے ہیں۔
اور اگر حقائق پر نظر کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اکثر نفوس بشریہ پر ان ارواح خبیثہ کی وجہ سے صرع کی کیفیت طاری ہوتی ہے یہ ان ارواح خبیثہ کے قبضہ اور پھندے میں اس طرح ہوتے ہیں کہ وہ جہاں چاہتی ہیں انہیں لیے پھرتی ہیں اور نہ اس سے بچاﺅ ممکن نہ اس کی مخالفت آسان اور ان پر اس صرع کا دورہ ہوتا ہے کہ مصروع کبھی اس سے افاقہ ہی نہیں پاتا درحقیقت یہی مصروع ہے اور اسی کو مصروع کہنا درست اور صحیح ہے۔
اس صرع کا علاج ایسی عقل صحیح سے جو ایمان کی ہم نشین ہو اور جسے انبیاءو رسل لائے ہیں ممکن ہے یہ کہ جنت اور دوزخ اس کی آنکھوں کے سامنے اور دل کے آئینہ میں ہو اور اہل دنیا پر اس کا سایہ ہوتا ہے ان پر عذاب اور آفات کا نزول ہوتا ہے اور ان کی آبادیوں میں اس طرح سے ان بلیات کی بارش ہوتی ہے جیسے آسمانی بارش کا نزول یعنی تابڑ توڑ یکے بعد دیگرے اور ان پر صرع کا حملہ اس سے نجات نہیں الٰہی کتنی مصیبت کی بیماری ہے صرع مگر جب یہ بیماری عام ہوجاتی ہے اور ہر وجود مصروع ہی معلوم ہوتا ہے تو پھر اس کا زیادہ خیال اور اس سے احتیاط کا کوئی ذکر ہی نہیں ہوتا کوئی اسے نہ برا سمجھتا ہے نہ بیماری تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کو اہم اور نادر جاننے والوں پر انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں۔
جب اللہ کسی کو اس سے نجات دینا چاہتا ہے اور اس کا خیر اللہ کی نظر میں ہوتا ہے تو اسے اس مرض سے افاقہ دے دیتے ہیں اور ابناءدنیا کو ہر طرف مصروع دیکھتا ہے دائیں بائیں آگے پیچھے جو مختلف طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے بہتوں پر جنون کی لپٹ ہوتی ہے بعض تھوڑی دیر کے لیے ٹھیک ہوجاتے ہیں پھر ان کا جنون واپس آجاتا ہے بعض ایک بار جنون ایک بار افاقہ کی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں جب افاقہ ہوجاتا ہے تو اس کا ہر کام عقل و ہوش کا ہوتا ہے پھر اس پر صرع کا دورہ ہوا اور جیسا خبط پہلے تھا اسی کا دور دورہ دوبارہ ہوگیا۔