Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

طریقہ علاج کی حکمتیں

اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ عائن اپنے کنج ران بغل، اپنے ہاتھ پیر اور اپنے ازار کے اندرونی حصہ کو دھوئے داخل ازارکے بارے میں دو قول ہیں ایک شرم گاہ مراد ہے دوسرا قول یہ کہ اس سے مراد اس کے ازار کا وہ اندرونی کنارہ جو دائیں جانب سے اس کے بدن سے متصل رہتا ہے۔ پھر اس پانی سے نظر زدہ کے اوپر اس کے پیچھے سے یکبارگی بہایا جائے، یہ علاج ایسانادر ہے، جس تک اطباءکی رسائی نہیں اور جس نے اس کاانکار کیا یا اس کا مذاق اڑایا یا اس میں شک شبہ کیا یا اسکو عقیدہ کے طور پر نہیں بلکہ بطور تجربہ کیا تو یہ علاج ایسے شخص کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔
جب کہ طبعیت میں ایسے خواص پائے جاتے ہیں‘جن کے اسباب وعلل سے اطباءکبھی بھی واقف نہیں ہوسکتے بلکہ یہ ان کے نزدیک قیاس سے بھی خارج ہے‘ اور بالخاصیتہ اثر انداز ہونے والی چیز ہے تو پھر زنادقہ اور ناواقف لوگ شریعت کے خواص کا انکار کریں تو اس میں کوئی تعجب نہیں‘حالانکہ اس غسل کے علاج کے منافع پر تمام باہوش لوگ گواہی دیتے ہیں اور اس کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ یہ ایک مناسب اور بہتر طریقہ علاج ہے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سانپ کے زہر کا تریاق اس کے گوشت میں ہوتا ہے‘اور غضبناک نفس کی تاخیر کا علاج غصہ کو ٹھنڈا کرنے میں ہے اور آگ پر ہاتھ رکھ دینے یا اس کو چھونے سے وہ بجھ جاتی ہے اسی طرح غصہ کو ٹھنڈا کرنے سے اس کی تاثیر ختم ہوجاتی ہے جیسے کوئی آدمی ایسا ہو جس کے ہاتھ میں آگ کا ایک شعلہ ہو اور وہ تم پر اسے پیھینکنا چاہتا ہے تو تم اس پر پانی ڈال دو‘ تو یہ شعلہ اس کے ہاتھ ہی میں بجھ جائے گا‘اسی لیے عائن کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اللھم بارک علیہ کہے‘اے اللہ اس پر برکت نازل کر‘تاکہ یہ کیفیت خبیثہ اس دعا کے ذریعہ جو نظرزدہ کے لئے احسان ہے ختم ہوجائے اس لئے اضداد ہی سے علاج کیا جاتا ہے اور چونکہ یہ کیفیت خبیثہ جسم انسانی کے رقیق حصوں سے نکلتی ہے‘ اس لئے اس میں قوت نافذہ بھی ہوتی ہے‘چنانچہ آپ کو کنج ران‘ بغل اور داخل ازار سے جب اس سے مراد فرج ہو تو اس سے رقیق حصہ کہاں ملے گا‘جب اسے پانی سے دھویا جائے تو ان رقیق جگہوں سے نکلنے والی کیفیات ردیہ کی تاثیر ختم ہوجائے گی‘مزید برآں یہ مقامات شیطانی ارواح کے لیے بھی مخصوص ہوتے ہیں۔
مقصد یہ کہ ان جگہوں کو پانی سے دھونے سے ناریت بجھ جاتی ہے‘اور اس کا زہریلا مادہ ختم ہوجاتا ہے مزید برآں غسل کا اثر جب قلب تک پہنچتا ہے جو بدن کا سب سے رقیق ترین حصہ ہے اور وہاں تک نفوذ بسرعت ہوتا ہے تو پانی سے ناریت وسمیت دونوں ختم ہوجاتی ہیں‘اور نظرزدہ بالکل شفایاب ہو جاتا ہے جیسا کہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ڈنک مارنے کے بعد اگر زہریلا جانور مار ڈالا جاتا ہے تو‘ڈنک زدہ پر اس زہر کا اثر بھی کمزور ہوجاتا ہے‘اور مریض کو آرام مل جاتا ہے‘ اور اگر ڈنک مارنے کے بعد ڈنک مارنے والا جانور زندہ رہ جائے تو زہر اپنا اثر پورے طور پر دکھاتا ہے اور اس کا غیر معمولی اثر ڈنک زدہ تک پہنچتا ہے جب تک کہ اسے مار نہ ڈالا جائے مریض کو سکون نہیں ملتا‘یہ مشاہدہ ہے‘اگرچہ اس کا سبب بظاہر وہ مسرت ہے‘ جو دشمن کے مارے جانے پر ڈنک زدہ مریض کو حاصل ہوتی ہے اور مریض کے نفس کو یک گو نہ سکون واطمینان حاصل ہوتا ہے اس طرح طبعیت میں اس تکلیف کو برداشت کرنے کی قوت آجاتی ہے اور مریض اس کا دفاع کرلیتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ نظربد والے شخص کے غسل سے اس کی بدنظری سے ظاہر ہونیوالی یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے اور اس کا اس وقت غسل کرنا جب کہ وہ اس کی کیفیت میں بذات خود مبتلا ہو غیر معمولی طور پر نافع ثابت ہوتا ہے۔
خیر یہ بات تو سمجھ میں آگئی کہ غسل کرنے سے یہ نفع حاصل ہوتا ہے‘مگر نظرزدہ پر اس پانی کے بہانے میں کیا مناسبت ہے یہ چیز سمجھ میں نہیں آتی؟ اس بات کو آپ یوں سمجھئے کہ اس میں پورے طور پر مناسبت پائی جاتی ہے‘اس لیے یہ پانی ہی ایسی مائیت ہے جس سے یہ ناریت ختم ہوئی‘اور جس کے ذریعہ عائن کی کیفیت ردیہ دور ہوگئی‘تو جیسے یہ آگ بجھی اسی طرح سے ادھر کی بھی آگ بجھ گئی‘اور اثر پذیر مقام کے اثرات اثر انداز عائن سے مختلط ہونے کے بعد ہوگئے اور جس پانی سے لوہا بجھایا جاتا ہے اس کو متعدد طبعی دواﺅں میں شامل کرکے اس کے اثرات حاصل کئے جاتے ہیں یہ بات اطباءکے نزدیک معروف ومشہور ہے پھر پانی جس سے نظربد لگانے والے کی ناریت بجھائی گئی ہے‘اسے کسی مناسب دوا میں استعمال کیا جائے تو کون سی چیز مانع ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ طبائع کا علاج اور اس کا تدارک علاج نبویﷺ کے طریقہ کے اعتبار سے بالکل ایسا ہی ہے‘جیسے فسوں کاروں کا طریقہ علاج اپنے فن طب کے اعتبار سے ہوتا ہے‘بلکہ اس سے بھی کمتر ہے اس لئے کہ ان میں اور انبیاءمیں جو فرق ہے وہ غیر معمولی ہے بلکہ اس تفاوت سے بھی بڑھا ہوا ہے جو انبیاءاور فسوں کاروں کے طریقہ علاج کے درمیان ہے اس لئے کہ عام انسان کی رسائی‘اس کی حقیقت تک ممکن نہیں ہوتی‘اسی سے آپ کے سامنے حکمت اور شریعت کے درمیان کا تعلق پوری طرح واضح ہوگیا کہ شریعت وحکمت میں تضاد اور باہمی تناقض نہیں ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے صحیح راستے پر لگادیتا ہے اور جو شخص اس کی توفیق کے دروازے پر دستک دیتا ہے اس کے لیے ہر دورازہ کھل ہی جاتا ہے‘اور اسی کے لئے پوری نعمت اور بلند دلیل ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS