Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

نظربد کا دوسرا طریقہ علاج نبوی ﷺ

اس کا ایک دوسرا طریقہ علاج یہ بھی ہے کہ جس کو بدنظری کا اندیشہ ہو‘اس کی خوبیاں اور محاسن کو پوشیدہ رکھا جائے اور اس انداز پر رکھا جائے کہ نظر بد کا دفاع ہوسکے جیسا کہ علامہ بغوی نے اپنی کتاب شرح السنہ“میں تحریر کیا ہے کہ حضرت عثمان ؓنے ایک خوبصورت وجاذب نظر بچے کو دیکھا تو فرمایا کہ ٹھوڑی پر سیاہ نشان لگاﺅ کہیں اسے نظربد نہ لگ جائے”نونة“ چھوٹے بچے کی ٹھوڑی کے گڑھے کو کہتے ہیں۔
اور خطابی نے”غریب الحدیث“ میں ایک حدیث حضرت عثمان ؓہی سے بیان کی ہے کہ انہوں نے ایک بچے کو دیکھا جو نظربد کا شکار ہوگیا تھا آپ نے فرمایا کہ اس کی ٹھوڑی پر سیاہ نشان لگادو۔
ابو عمرو نے بیان کیا کہ میں احمد بن یحییٰ سے نونة کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے چاہ ذقن مراد ہے یعنی بچے کی ٹھوڑی کا گڑھا مراد ہے کہ چاہ ذقن کو سیاہ کرنے سے نظربد نہ لگ پائے گی اس لئے اس جگہ پر سیاہ نشان لگادو کہ نظربد کا دفاع ہوسکے۔
اور اسی سے حضرت عائشہ ؓکی حدیث ہے یہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن خطبہ دیا‘اور آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا‘ تدسیم بمعنی سیاہ کرنے کے استشہاد کے لئے یہ حدیث یہاں بیان کی ہے اور شاعر نے بھی اسی معنی کو اختیار کئے ہوئے یہ شعر پیش کیا ہے:
”کسی باکمال شخص کو سب سے زیادہ ضرورت ایسے عیب کی ہوتی ہے جو اسے نظربد سے بچاسکے“

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS