طب نبوی ﷺ میں خدر کا علاج نبوی ﷺ جس سے بدن اکڑ جاتا ہے

”غریب الحدیث“ میں ایک حدیث مذکور ہے جسے ابو عبیدہؓ نے ابو عثمان نہدیؓ سے روایت کیا ہے ایک جماعت کا گزر ایک درخت سے ہوا انہوں نے اس کا پھل کھالیا کھانے کے بعد ان پر ہوا کا یہ اثر ہوا کہ ان کا جسم اکڑ گیا اس میں حس و حرکت نہ رہی۔ اس وقت آپ نے فرمایا:
”پرانے مشکیزے میں پانی ٹھنڈا کرو اور فجر کی اذان و اقامت کے درمیانی وقت میں مریضوں کے سر اور جسم پر گراﺅ“
ابو عبید نے ((قرسوا)) کا معنی ((بردوا)) یعنی ٹھنڈا کرو کیا ہے جو لغت میں بجائے سین کے صاد کےساتھ صحیح ہے۔
اور ”شنان“ پرانے مشکیزے اور پانی کے تھیلے کو کہتے ہیں مشکیزوں کے لیے شنان اور تھیلے کے لیے شنہ آیا ہے اس حدیث میں شنان کا ذکر ہے۔ جدد عربی کا نہیں ہے اس لیے کہ شن میں برودت زیادہ ہوتی ہے ”بین الاذانین“ سے فجر کی اذان و اقامت کا درمیانی وقت مراد ہے یہاں اقامت کو بھی اذان مماثلت کی وجہ سے کہہ دیا گیا ہے‘ کیونکہ اس میں بھی وہی الفاظ ہوتے ہیں جو اذان میں ہوتے ہیں۔
بعض اطباءنے لکھا ہے کہ حجاز میں اگر بیماری ہو تو اس کا سب سے عمدہ علاج یہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے تجویز فرمایا ہے۔ اس لیے کہ یہ علاقہ گرم و خشک ہے جس کی وجہ سے حرارت غریزی یہاں کے باشندوں کی کمزور ہوتی ہے اور سویرے سویرے جو چوبیس گھنٹے میں سب سے زیادہ ٹھنڈ ا ہوتا ہے۔
ٹھنڈا پانی مفید ہوتا ہے اس انصباب آب سرد سے جسم کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی حرارت غریزی جس میں تمام قوتوں کی جان ہوتی ہے اکٹھا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس سے دافعہ مضبوط ہوکر تمام بدن سے باطن بدن کی جانب اکٹھا ہوجاتی ہے جو اس بیماری کا محل ہے اپنی باقی قوتوں کےساتھ مرض کے دفاع میں لگ کر اسے مغلوب کردیتا ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ مرض کے دفاع کی صورت پیدا فرماتا ہے اگر یہ باتیں بقراط یا جالینوس وغیرہ جیسے اطباءنے کہی ہوتیں تو پھر تمام اطباءاس پر سر دھنتے اور کمال معرفت طب کے گن گاتے اور اس نکتہ رسی پر آفرین کہتے مگر رسول اللہ ﷺ کی اس بات پر ان بد نصیبوں کو توجہ دینے اور ان کی قدر کرنے کی کہاں فرصت کہ ان پر غور و فکر کرکے ان پر عمل کریں۔