Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

فاتحتہ الکتاب کے اسرار ورموز

زہریلے جانوروں کا علاج سورہ فاتحہ وغیرہ کے ذریعہ دم کرنے کی تاثیر میں ایک نادر بھید ہے‘اس لئے کہ تمام زہریلے جانوروں کی کیفیات کے اثرات ان کے خبث نفس کی بنیاد پر ہوتے ہیں‘اس کو ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں اس کا ہتھیار وہ آتشیں غصہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ڈنک مارتا ہے‘ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ زہریلے جانور بغیر غصہ کے کبھی ڈنک نہیں مارتے جب جانور غضبناک ہوتا ہے تو اس میں زہر پورے طور اتر آتا ہے‘جس کو وہ اپنے ڈنک کے ذریعہ خارج کرتا ہے‘اور اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے دوا بنائی ہے اور ہر چیز کے لئے اس کا مقابل پیدا کیا ہے دم کرنے والے کا دم جھاڑ پھونک کئے جانے والے مریض کی سانس میں اثر کرتا ہے اور ان دونوں سانسوں کے درمیان اثر اندازی اور اثر پذیری پیدا ہوتی ہے جیسا کہ بیماری ودوا میں فعل وانفعال ہوتا ہے چنانچہ دم کرنے والے کی قوت اس جھاڑ پھونک سے اس بیماری پر غالب ہوجاتی ہے اور اس قوت کے غلبہ کے اثر سے بحکم الٰہی وہ مرض دور ہوجاتا ہے اوریہ قاعدہ کلیہ ہے کہ دواﺅں اور بیماریوں کی تاثیر کا تمام تر مدار فعل وانفعال ہی پرہوتا ہے اور یہ جس طرح ظاہری بیماری اور دوا پر بھی صادق آتا ہے‘دم کرنے میں تھوکنا اور پھونکنا اس رطوبت ہوا کے ساتھ معاونت کرتا ہے دم کے ساتھ ہی ساتھ چلنے والی سانس میں ذکرودعا کے ہمراہ ہونے کی وجہ سے غیر معمولی تاثیر پیدا ہوتی ہے اس لئے کہ دم تو دم کرنےوالے کے منہ اور دل سے خارج ہوتی ہے پھر اس کے اجزاءباطنی کے ساتھ تھوک ہے اور سانس کی مددبھی ساتھ ہی ہوتی ہے تو اس کی تاثیر میں یک گو نہ اضافہ ہوجاتا ہے اس کا اثر اور نفوذ بڑھ جاتا ہے اور ان کے امتزاج سے ایک جاندار موثر کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ مرکب دواﺅں کے تیار کرتے وقت دواﺅں کے باہمی امتزاج سے دوا کی تاثیر غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ دم کرنے والے کا دم ان نفوس خبیثہ کے مقابل ہوجاتا ہے اور اس پھونک سے اس کیفیت میں اضافہ ہوجاتا ہے‘دم اور پھونک دونوں اس اثر کے زائل کرنے میں مدد دیتے ہیں اگردم کرنے والے کی کیفیت زیادہ جاندار ہو تو دم کا اثر بھی مکمل ہوتا ہے اور وہ اپنی پھونک سے وہی کام لیتا ہے‘جو ڈنک مارنے والا جانور کا خبث اپنے ڈنک سے ڈنک زدہ کو پہنچاتا ہے۔
اور پھونک مارنے میں ایک اور راز ہے اس پھونک سے پاک اور ناپاک روحیں مدد چاہتی ہیںاسی وجہ سے یہ کام جادوگر بھی اس طرح کرتے ہیں جس طرح ایمان والے کرتے ہیں خود قرآن میں ہے کہ گرہوں پر پھونک مارنے والوں سے اللہ کی پناہ اس لئے کہ سانس میں کیفیت غضب ومحاربہ پیوست ہو جاتی ہے پھر اسی پھونک کے ذریعہ وہ تیر چلتا ہے جو نشانہ پر صحیح لگتا ہے اسی جھاڑ پھونک کے ساتھ کسی قدر تھوک آمیز ہوتا ہے اور یہ کیفیت موثرہ سے لیس ہوتا ہے اور جادوگروں کا پھونک سے مدد چاہنا تو کھلی ہوئی بات ہے اگرچہ یہ پھونک مسحور کے جسم سے چپکتی نہیں بلکہ یہ پھونک گرہ پر ہوتی ہے جو گرہ لگاتے وقت جادو گر پھونکتا ہے‘اور جادو کے کلمات اس کی زبان پر ہوتے ہیں چنانچہ اس کا اثر وہ مسحور تک ارواح خبیثہ کی وساطت سے پہنچاتا ہے اب اس کا مقابلہ پاک اور ستھری روح دفاعی کیفیت سے آراستہ ہوکر اور دم کو زبان سے ادائیگی کے ساتھ کرتی ہے۔
اس میں پھونک سے بھی مدد ملتی ہے اب ان میں سے جو قوی ہوتی ہے اسی کے ہاتھ بازی ہوتی ہے اور بعض روحوں کا دوسری روحوں سے مقابلہ ومحاربہ اور اس کا ہتھیار بعینہ اجسام پر برائیوں کے مقابلہ میں جیسا دیکھنے میں آتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مقابلہ ومحاربہ ایساہی ہے جیسا کہ ارواح واجسام اور ان کے ہتھیاروں فوجیوں کے باہمی مقابلہ میں عمل آتا ہے‘لیکن جو محسوسات کا قائل ہے اس کو ارواح کی تاثیرات اور ان کے افعال وانفعال کا بالکل احساس نہیں ہوپاتا‘کیونکہ اسی پر حسی ومادی چیزوں کا پورے طور پر غلبہ ہوتا ہے نیز وہ عالم ارواح ان کے احکام وتاثیرات سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جب روح قوی ہوتی ہے اور فاتحہ کے معانی کی کیفیت اس پر طاری ہوتی ہے اور دم کرنے اور جھاڑ پھونک کرنے کے ذریعہ اس کو مدد حاصل ہوتی ہے تو اس کا اثر پورے طور پر مقابلہ کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے جو نفوس خبیثہ کی جانب سے ہوتی ہے اور بالآخر ان تاثیرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ واللہ اعلم

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS