طب نبوی ﷺ میں عرق النساء کا طریقہ علاج

سنن ابن ماجہ میں محمد بن سیرین ؒ نے انس بن مالک ؓ سے حدیث بیان کی۔
”کہ میں نے رسول االلہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ عرق النساءکا علاج جنگلی بکرے کی ران کو مہرا کیا جائے پھر اس کی یخنی تین حصہ کردی جائے اس کے بعد تین دن تک یخنی کا استعمال نہار منہ کیا جائے‘ روزانہ نہار منہ ہونا چاہیے“۔
عرق النساءکا درد مفصل ورک سے پیدا ہوتا ہے اور وہاں سے ران کے پچھلے حصے میں نیچے اترتا ہے کبھی اس کا حلقہ نزول کعب تک پہنچ جاتا ہے جیسے جیسے اس کی مدت گذرتی جاتی ہے درد کا مادہ تیز تر ہوتا جاتا ہے جس سے ران اور پنڈلی دبلے پڑجاتے ہیں اس حدیث میں لغوی معنی اور طبی مفہوم دونوں ہی ہیں لغوی معنی سے اس کو عرق النساءنام رکھنے کے جواز کا پتہ چلتا ہے بعضوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ نساءتو خود رگ ہے پھر عرق النساءتو لغو معلوم ہوتا ہے کے قبیل سے اس کا نام عرق النساءرکھنا صحیح نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی دو صورتیں ہیں پہلی یہ کہ عرق کا لفظ نساءسے عام ہے اس لیے یہاں کی طرح صحیح ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ نساءاس مرض کو کہتے ہیں جو عرق میں پیدا ہوتا ہے تو یہاں کی طرح کی اضافت ہے اس کو نساءکہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس درد کی اذیت میں نسیان ماسوا ہوجاتا ہے اس رگ کی جڑ کولہے کا جوڑ اور اس کی انتہاءقدم کا آخری حصہ جو کعب کے پیچھے ہوتی ہے وحشی جانب پنڈلی کے اور وتر قدم سے باہر کی طرف پائی جاتی ہے۔
معنی طبی کے سلسلے میں ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کلام کی دو قسمیں ہیں ان میں سے ایک عام زمانہ مقام اشخاص اور حالات کے پیش نظر، دوسری مخصوص ہے جن میں ان امور کی یا بعض امور کی رعایت ہوتی ہے اور یہ اسی قسم میں شامل ہے اس لیے کہ اس کے مخاطب اہل عرب اہل حجاز اور اس کے ارد گرد کے رہنے والے ہیں، بالخصوص دیہات کے اکھڑ لوگ اس لیے کہ یہ علاج ان بدوی لوگوں کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے کیونکہ عموماً یہ بیماری خشکی کی بناءپر پیدا ہوتی ہے اور کبھی اس کا سبب مادہ غلیظہ لزجہ ہوتا ہے جس کا علاج اسہال ہے۔ اور ان کے گوشت میں دو خاصیت ہے ایک انضاج مادہ، دوسری تلبین۔ گوما کا پکانا اور اسے نکالنا یہ ران کے گوشت کی خاصیتیں ہیں اور اس مرض میں ان دونوں چیزوں کی ضرورت ہے اور جنگلی بکرے کا تعین اس وجہ سے ہے کہ اس میں فضولات کی کمی اور مقدار کا اختصار اور جوہر کی لطافت موجود ہے اس لئے کہ یہ بکریاں جو چیزیں چرتی ہیں ان میں گرم قسم کی جڑی بوٹیاں مثلاً شیح و قیصوم وغیرہ ہوتی ہیں اور یہ نباتات جب کسی جانور کو بطور غذا دی جائیں گی تو ان کے گوشت میں بھی وہ لطیف اجزاءپیدا ہوں گے جن کو غذا کے ساتھ شامل رکھا گیا ہے بلکہ تحلیل و تغذیہ کے بعد اس میں اور بھی زیادہ لطافت پیدا ہوجائے گی بالخصوص مرین کا گوشت اور ان نباتات کا اثر گوشت سے زیادہ قوی انداز میں ان کے دودھ میں دیکھا جاتا ہے مگر سرین کے گوشت میں انضاج اور تلبین کی جو خصوصیت پائی جاتی ہے وہ دودھ میں نہیں دیکھی جاتی ہم اس سے پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ دنیا کی تمام قومیں خواہ وہ شہری علاقے میں رہتی ہوں یا دیہاتی حلقوں میں ان میں سے اکثر علاج میں مضر دواﺅں کا استعمال کرتی ہیں اور اطبائے ہندوستان بھی اسی انداز پر ہیں۔
صرف روم اور یونان کے اطباءو مرکبات کو ترجیح دیتے ہیں اور دنیا کے تمام اطباءاس پر متفق ہیں کہ طبیب ماہر وہ ہے جو غذا کے ذریعہ بیماریوں کا علاج کرے اگر اس سے کام نہ چلے تو پھر مفرد ادویہ اگر ضرورت تقاضہ کرے تو پھر مرکبات کو ہاتھ لگائے۔
اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ عربوں اور بدویوں میں مفرد امراض پائے جاتے ہیں اس لیے مفرد دوائیں ان کے علاج کےلئے مناسب ہیں اور ان کی غذائیں بھی عموماً مفرد ہوتی ہیں امراض مرکبہ اکثر مرکب اور متنوع مختلف ذائقوں کی غذا کے استعمال سے پیدا ہوتے ہیں ان کے لیے مرکب دوائیں پسند کی جاتی ہیں۔