Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

بچھو کے ڈنک مارے ہوئے کا دم کرنے کے ذریعہ علاج کرنے میں ہدایت نبوی ﷺ

ابن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت کی ہے
”حضرت ابن مسعود ؓنے بیان کیا کہ ہماری موجودگی میں نبیﷺ نماز ادا فرمارہے تھے جونہی آپ نے سجدہ کیا ایک بچھو نے آپ کی انگلی میں ڈنک لگادیا‘ آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت کرے جو نہ نبی کو نہ کسی دوسرے کو چھوڑتا ہے‘ پھر آپ نے پانی سے بھرا ہوا ایک برتن طلب فرمایا جس میں نمک آمیز کیا ہوا تھا اور آپ اس ڈنک زدہ جگہ کو نمک آمیز پانی میں برابر ڈبوتے رہے اور قل ھو اللہ احد اور معوذ تین پڑھ کر اس پر دم کرتے رہے یہاں تک کہ بالکل سکون ہوگیا“۔
اس حدیث شریف میں ایسی دوا سے علاج کا گر موجود ہے جو دو چیزوں سے مرکب ہے ایک طبعی اور دوسری روحانی اس لئے کہ سورہ اخلاص کمال توحید علمی واعتقادی کا مظہر ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدت ثابت کی گئی ہے جس سے ہر قسم کی شرکت کی نفی ہوجاتی ہے نیز اس میں حمدیت کا بھی اثبات ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہر کمال کو ثابت کرتی ہے کہ باوجود اس صمدیت کے تمام مخلوقات اپنی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لئے اسی کی طرف ہی رخ کرتی ہیں خواہ وہ مخلوق علوی ہو یا سفلی سبھی کی مراد اللہ تعالیٰ ہی ہے‘ پھراس میں اللہ تعالیٰ کے باپ اور لڑکے ہونے کی نفی بھی ہے نہ اس کا کوئی مماثل وہمتا ہے اسی سے اصل کی یگانگت و وحدت کا بھی پتہ چلتا ہے اسی طرح فرع و نظیر اور ایسی خصوصیات جو اس کی مماثلت کی حامل ہیں ان کی بھی پورے طور پر نفی ہوجاتی ہے پھر یہ سورہ اخلاص قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے اس کے اسم میں حمد بھی شامل ہے جس سے ہر کمال کا اثبات اور مماثل کی نفی اور مشابہت و مماثلت سے تنزیہ مقصود ہے اور اسم احد میں ہر ذوالجلال شریک کی نفی ہے یہی تین بنیادی پتھر ہیں جن پر توحید کی پوری عمارت کھڑی ہے۔
پھر معوذ تین کو لیجیے کہ اس میں ہر مکروہ و ناپسند چیز سے اجمالی و تفصیلی طور پر استعاذہ کا سامان موجود ہے اس لئے کہ لفظ استعاذہ ((من شر ما خلق )) ہر اس شرک کو عمومی طور پر شامل ہے جس سے پناہ طلب کی جاتی ہے‘ خواہ وہ اجسام سے متعلق ہو یا ارواح سے متعلق ہو اور استعاذہ ((من شر غاسق))سے رات اور اس کی علامت مراد ہے یعنی جب چاندنی غائب ہوجائے‘اور مکمل طور پر تاریکی چھاجائے تو اس میں ارواح خبیثہ کے شر سے استعاذہ شامل ہوتا ہے جو اس میں پھیلتی ہیں اور دن کی روشنی ان ارواح اور ان کی آزادانہ گردش کے درمیان حائل رہتی ہے‘جب مکمل طور پر رات میں تاریکی چھا جاتی ہے بالخصوص جب چاند بھی غائب ہو تو اس وقت ان ارواح کو چلنے پھرنے کا پورا پورا موقعہ ہاتھ آجاتا ہے۔اور لفظ استعاذہ((من شر النفاثات فی العقد)) جادوگروں اور ان کے جادو کے شر سے استعاذہ کو مشتمل ہے۔
اور استعاذہ اور (( من شر حاسد )) کے مضمون سے ان تمام ارواح خبیثہ سے استعاذہ کرنا معلوم ہوتا ہے جو اپنے حسد اور نظربد کے ذریعہ لوگوں کو اذیت پہنچاتی ہیں۔
اور دوسری سورہ میں انسان اور جن تمام شیاطین کے شر سے تعوذ کا بیان ہے غرض ان دونوں سورتوں میں ہر طرح کے شر سے استعاذہ کا گر موجود ہے‘اور ان دونوں میں تمام شیطانی وجنی شرور سے تحفظ اور قلعہ بندی کے لئے ایک عظیم شان موجود ہے کہ اس کا حملہ ہی کارگر نہ ہوسکے‘ اسی لئے نبیﷺ نے عقبہ بن عامر ؓ کو یہ وصیت فرمائی کہ ہر نماز کے بعد ان دونوں سورتوں کو ضرور پڑھا کرو اس کو ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں نقل کیا ہے۔
اس حدیث میں ایک نماز سے دوسری نماز تک پائے جانے والے وقفہ میں تمام شرور کے حملہ سے مدافعت اور بچاﺅ کی ایک عجیب و غریب تعلیم موجود ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اب تک شروعا سے پناہ مانگنے والوں کو ان دونوں سورتوں سے کامل تعوذ نصیب نہیں ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میںمذکور ہے کہ آپ پر گیارہ گرہوں پر دم کرکے جادو کیا گیا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام ان دونوں سورتوں کو لے آئے اور جب آپ ان سورتوں میں سے ایک آیت پڑھتے تو ایک گرہ کھل جاتی یہاں تک کہ اسی طرح تمام گرہیں کھل گئیں اور ایک زبر دست بندش سے اپنے آپ کو آزاد محسوس کرنے لگے ۔
آئیے علاج طبعی کو ذرا دیکھیں نمک بہت سے سموم کے لئے علاج ہے بالخصوص بچھو کے ڈنک مارنے میں تریاق کا کام کرتا ہے ابو علی سینا نے جو ”القانون “کے مصنف ہیںلکھا ہے کہ بچھو کے ڈنک میں نمک اور السی کا لیپ بہت مفید ہے ان کے علاوہ دوسرے اطباءنے بھی اس کو ذکر کیا ہے نمک میں قوت جاذبہ کے ساتھ قوت محللہ بھی ہوتی ہے چنانچہ نمک کے استعمال سے زہر کھنچ جاتا ہے اور تحلیل ہو جاتا ہے چونکہ بچھو کے ڈنک میں سوزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے تبرید و جذب مادہ اور اخراج مادہ کی قوت ہوتی ہے پھر اس سے سہل اور آسان ترین علاج کیا ہوسکتا ہے ؟ نیز اس میں یہ بھی تنبہہ موجود ہے کے اس قسم کے زہر کا علاج تبرید ‘ جذب و اخراج مادہ ہی سے ممکن ہے۔
امام مسلم ؒ نے اپنی صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ۔
”انہوں نے بیان کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے رسول اللہ ﷺ مجھے کل شام ایک بچھو نے ڈنک ماردیا ‘ آپ نے فرمایا کہ اے کاش تونے یہ کلمات شام ہوتے کہہ لئے ہوتے یعنی اللہ کے کلمات نامہ کے ذریعہ مخلوق کے شر سے پناہ مانگتا ہوں تو تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوتی “۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ طبعی روحانی دوائیں بیماری کے ہوتے ہوئے نافع ہوتی ہیں اوراس کے وقوع کو روک دیتی ہیں ااگر بیماری ہو بھی جائے تو اس سے ضرر نہیں ہوگا اگرچہ یہ تکلیف دہ چیز ہو مگر دوائے طبعی صرف بیماری کے وقوع کے بعد ہی نافع ہوتی ہے ‘ تعوذات اور ذکر و اذکار ان اسباب کے وقوع کو روک دیتی ہیں یا صرف اس کے کمال تاثیر کو روک دیتی ہے تعوذ کی قوت اور اس کا اثر جتنا قوی یا کمزور ہوگا اسی حیثیت سے کام کرے گا اسی لئے جھاڑ پھونک اور تعوذ کا استعمال حفظان صحت اور ازالہ مرض کے لئے کیا جاتا ہے حفظان صحت کے لئے تعوذ جھاڑ پھونک کا ثبوت صحیحین میں مذکور حضرت عائشہ ؓ کی اس حدیث سے ہوتا ہے ۔
”رسول اللہ وﷺجب اپنے بستر پر سونے کے لئے تشریف لے جاتے تو دونوں ہتھیلیوں پر سورہ اخلاص اور معوذ تین پڑھ کر دم کرتے پھر اپنے چہرہ مبارک اور جسد اطہر پر جہاں تک ہاتھ کی رسائی ہوتی مسح فرماتے “
اسی طرح دوسری حدیث بسلسلہ تعوذ ابو الدردا ءسے مرفوعاً روایت ہے جو اس طرح مذکورہے ۔
”اے اللہ تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ ہی پر میں نے توکل کیا اور تو ہی عرش عظیم کا رب ہے “
اور اس حدیث کا ذکر پہلے آچکا ہے جس میں مذکور ہے کہ جو شخص ان کلمات کو دنکے ابتدائی حصہ میں پڑھے گا اسے شام تک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی اور جو اسے دن کے آخری حصہ میں پڑھے گا اسے صبح تک کوئی مصیبت نہ گھیرے گی ۔
اسی طرح صحیحین میں مروی ہے :
”جس نے سورہ بقرہ کی اخیر کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں پوری رات کے لئے اس کو یہ کافی ہو ں گی “
صحیح مسلم میں بھی یوں مذکور ہے :
”نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی جگہ پڑاﺅ ڈالے اور کہے کہ میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعہ مخلوق کے شر سے پناہ چاہتا ہوں تو اس جگہ سے کوچ کرنے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی “۔
اور ایسی ہی ایک حدیث سننن ابو داﺅد میں مروی ہے :
”نبی ﷺ سفر میں رات کے وقت کہتے تھے ’ کہ اے زمین میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے میں تیرے شر اور تیرے اندر کے شر اور اس چیز کے شر سے جو تیری پشت پر رینگتا ہے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اور میں شیر ‘ چیتا ‘ بچھو ‘ شہر کے باشندوں اور والد اور لڑکے کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں“
دوسرے علاج کا بیان سورہ فاتحہ کے دم کرنے بچھو کیلئے جھاڑ پھونک میں مذکور ہے جیسا کہ گزرچکا ہے اور اس کے علاوہ چیزوں کے سلسلہ میں جھاڑ پھونک کا بیان آگے آرہا ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS