Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

مار گزیدہ پر دم کرنے میں ہدایت نبوی ﷺ

آپ کا یہ قول پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں ہی میں جھاڑ پھونک کرنا جائز ہے‘ یعنی ان کے کاٹنے اور ڈنک مارنے کی صورت میں جھاڑ پھونک کرنا چاہیے ”حمتہ“ حاءکے ضمہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ مشدد اور غیر مشدد دونوں طور پر پڑھا جاتا ہے اس سے مراد زہریلے جانور کے تمام اقسام ہیں۔
سنن ابن ماجہ میں حدیث عائشہ ؓمذکور ہے کہ رسول اللہﷺ نے سانپ اور بچھو کے کاٹنے میں جھاڑ پھونک کرنے کی رخصت دی ہے ابن شہاب زہری سے مروی ہے کہ ایک صحابی رسول کو سانپ نے ڈس لیا‘آپ نے فرمایا کہ کوئی دم کرنے والا موجود ہے؟ لوگوں نے کہا اے رسول اللہﷺ آل حزم سانپ کے ڈسنے پر جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے جب آپ نے جھاڑ پھونک سے منع کیا تو انہوں نے اسے چھوڑدیا آپ نے فرمایا کہ عمارہ بن حزم کو بلا لاﺅ لوگوں نے اسے بلایا اس نے آپ پر اپنے دم کرنے کے طریقہ کو پیش کیا تو آپ نے فرمایا کہ کوئی مضائقہ نہیں‘ آپکی اجازت پر انہوں نے جھاڑ پھونک کیا۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS