طب نبوی ﷺ میں ورم اور ان بڑے پھوڑوں کا علاج جو محتاج آپریشن ہوں

حضرت علیؓ کی یادداشت میں ہے:
”آپ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک شخص کی عیادت کرنے کے لیے گیا، بیمار کی پشت پر ورم تھا لوگوں نے دریافت کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ اس کے پیپ ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا آپریشن کردو حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں آپریشن کر رہا تھا، اور رسول اللہ ﷺ اس کا ملاحظہ فرمارہے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے:
”رسول اللہ ﷺ نے ایک طبیب کو حکم دیا کہ اس بڑے پیٹ والے مریض کا پیٹ شق کردو آپ سے پوچھا گیا اے رسول اللہ ﷺ اس کو بھی دوا فائدہ کرے گی؟ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بیماری اتاری اسی نے شفاءبھی نازل کی جہاں اللہ نے نفع پہنچانا چاہا نفع دے دیا“
ورم:    ایک ایسا مادہ ہے جو عضو میں مادہ غیر طبعی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو عضو متورم کی طرف ریزش کرکے آجاتا ہے۔
ورم مرض کی تمام جنسوں میں پایا جاتا ہے مادہ جن سے یہ ورم اخلاط اربعہ میں سے کسی خلط یا مائیت محضہ سے یا ریاح سے پیدا ہوتا ہے اور جب ورم بندھ جاتا ہے تو اسے پھوڑا کہتے ہیں اور ہر ورم حار تین صورتوں میں سے کسی صورت میں ہوتا ہے یا تو تحلیل ہوکر ختم ہوجاتا ہے یا اس میں پیپ پیدا ہوجاتی ہے یا اس میں اتنی صلابت ہوجاتی ہے کہ نہ وہ تحلیل ہوتا اور نہ پیپ بنتا ہے اگر مریض کی قوت قوی ہو تو مادہ کو مغلوب کرکے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کردیتی ہے اور یہ ورم کی سب سے عمدہ صورت ہے۔ اور اگر اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت ہوتی ہے تو مادہ کا انضاج ہوتا ہے اور وہ سفید پیپ کی شکل اختیار کرلیتا ہے پھر کہیں سوراخ کرکے بہہ پڑتا ہے اور اگر مادہ نضج کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے تو مادہ نا پختہ ریم میں تبدیل ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس مادہ کے اخراج کے لیے اس میں سوراخ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اس لیے یہ مادہ عرصہ تک عضو میں رہ کر اسے فاسد کردیتا ہے ایسی صورت میں مریض کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے یا کوئی اور خارجی داخلی صورت اختیار کرنی پڑتی ہے جس سے مادہ عضو سے باہر آجائے تاکہ یہ مادہ ردی مفسد عضو سے خارج ہوجائے۔
آپریشن سے دو فائدے ہوتے ہیں۔
پہلا فائدہ:        یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ مفسد ردی مادہ نکالا جاتا ہے۔
دوسرا فائدہ:        یہ ہوتا ہے کہ ان مواد کو روک دیتا ہے جو پے بہ پے آکر اس مفسد مادہ کی قوت کو بڑھاتا ہے۔
دوسری حدیث میں آپ نے ایک طبیب کو آپریشن کرکے استسقاءکے مریض کے شکم سے فاسد مادہ نکالنے کا حکم دیا۔
حدیث میں اجوی البطن کا لفظ ہے جس کا ایک معنی بدبو دار پانی جو پیٹ میں جمع ہوکر استسقاءپیدا کرتا ہے۔ اطباءاستسقاءکے مادہ کو بذریعہ آپریشن نکالنے میں مختلف ہیں ان کی ایک جماعت نے آپریشن کرنے سے روکا ہے اس لیے کہ ان میں جان کا خطرہ ہوتا ہے ایک دوسری جماعت نے اسے جائز اور درست سمجھا ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا علاج ان کے سامنے نہیں اور یہ صورت ان کے نزدیک استسقاءزقی کی ہے اس میں یہ شکل اختیار کرنی چاہیے اس سے پہلے ہم استسقاءکی تین قسمیں بیان کرچکے ہیں۔

طبلی:        جس میں شکم پھول جاتا ہے اس میں ریاحی مادہ موجود ہوتا ہے اس کو ٹھونکنے پر اس سے طبلہ جیسی آواز آتی ہے۔
لحمی:        جس میں تمام جسم کا گوشت مادہ بلغم کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے اس بلغمی مادہ میں خون کے اجزاءبھی موجود ہوتے ہیں یہ استسقاءکی بد ترین شکل ہے۔
زقی:        جس میں شکم کے زیریں حصہ میں ردی مادہ جمع ہوجاتا ہے اس میں اس طرح کی آواز حرکت کے وقت پیدا ہوتی ہے جیسے پانی کے حرکت کے وقت مشک میں آواز پیدا ہوتی ہے اکثر اطبائے ان تینوں صورتوں میں سب سے بدتر صورت اسے کہتے ہیں لیکن ایک جماعت لحمی کو بدترین قرار دیتی ہے۔
استسقاءزقی کے منجملہ علاجوں میں سے ایک علاج آپریشن کرنا ہے اس کے ذریعہ اس کا ردی اور فاسد مادہ نکالنا فصد کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ فصد کے ذریعہ فاسد دم کو خارج کیا جاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس میں خطرہ ہے جیسا کہ اس سے پہلے بتایا جاچکا ہے اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس سے بزدل یعنی آپریشن کرنے کے ذریعہ مائیت و رطوبت فاسدہ کے نکالنے کا جواز پیدا ہوجاتا ہے۔