طب نبوی ﷺ میں گرمی دانوں کا علاج

ابن سنی نے اپنی کتاب میں بعض ازواج مطہراتؓ سے یہ روایت نقل کی ہے۔
”انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس تشریف لائے اس وقت میری انگلی میں دانہ نکلا ہوا تھا آپ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس چرائتہ ہے؟ میں نے کہا ہاں ہے آپ نے فرمایا اسے اس پر لگاﺅ اور یہ کہو اے بڑے کو چھوٹا اور چھوٹے کو بڑا بنانے والے اللہ مجھے جو چیز پیش آئی ہے اسے چھوٹا کردے“
((ذریرہ)) ایک ہندوستانی دوا ہے جو جڑ سے حاصل ہوتی ہے اس کا مزاج گرم خشک ہے معدہ جگر کے ورم اور استسقاءکے لیے نافع ہے اور اس کی خوشبو کی وجہ سے دل کو تقویت پہنچتی ہے صحیحین میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:
”حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجتہ الوداع کے موقع پر احرام باندھنے اور کھولنے کے وقت اپنے ہاتھ سے چوبی خوشبو لگائی“
((بثرہ)) چھوٹاو معمولی، پھوڑا پھنسی جو مادہ حارہ کی وجہ سے جسم میں دافع طبعیت کے قوی ہونے سے پیدا ہوتا ہے جہاں دافع کے زور سے پھنسی نکلنے والی ہوتی ہے، وہاں کی جلد رقیق ہوجاتی ہے اب نضج اور اخراج مادہ کی ضرورت ہوتی ہے چرائتہ سے یہ عمل بڑی جلدی تکمیل پذیر ہوتا ہے اس لیے کہ چرائتہ میں خوشبو کے ساتھ انضاج و اخراج مادہ کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے مزید بر آں اس میں اس سوزش کو بھی ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جو اس مادہ میں موجود ہوتی ہے اسی وجہ سے صاحب ”قانون“ بو علی سینا اس خیال کا اظہار کرتا ہے کہ آگ سے جلنے کے بعد جو چیز سب سے زیادہ مفید ہوتی ہے وہ چرائتہ ہے۔ جسے روغن گل اور سرکہ میں آمیز کرکے استعمال کیا جاتا ہے۔