Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

زخموں اور جراحتوں پر دم کرنے کی بابت ہدایات نبوی ﷺ

امام بخاری وامام مسلم نے صحیحین میں حضرت عائشہ ؓسے روایت کی ہے۔
”حضرت عائشہ ؓنے فرمایا جب کسی شخص کو بیماری لاحق ہوتی یاکوئی پھوڑا یاکوئی زخم ہوتا تو رسول اللہﷺ اپنی انگلی سے اس طرح کرتے اور (راوی)سفیان نے اپنی انگشت سبابہ کو زمین پر رکھا پھر اسے اٹھالیا اور یہ دعا پڑھی بسم اللہ تربة الخ یعنی ہماری زمین کی مٹی اور ہم میں سے کسی کا لعاب دہن ہمارے بیمارکو بحکم الٰہی شفاءدیتا ہے“۔
یہ علاج آسان کے ساتھ ہی مفید اور مرکب بھی ہے‘اور یہ ایک لطیف طریقہ¿ علاج ہے جس کے ذریعہ پھوڑوں اور رستے زخموں کا علاج کیا جاتا ہے بالخصوص جب کہ علاج کے لئے کوئی دوسری دوا میسر نہ ہو اس لئے کہ زمین تو ہر جگہ موجود ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ خالص مٹی کا مزاج باردیابس ہوتا ہے جو رستے ہوئے پھوڑوں اور زخموں کے خشک کرنے کے لئے مفید ہے‘جب کہ طبعیت اس رطوبت کو ختم کرنے اور زخم کو مندمل کرنے میں پوری طرح کام نہ کررہی ہو‘ بالخصوص گرم علاقوں میں اور گرم مزاج انسانوں میں یہ بے حد موثر ہے‘اس لئے کہ زخم اور پھوڑے عموماً سو مزاج حار کے نتیجہ میں نکلتے ہیں اس طرح مریض میں علاقے اور مزاج اور زخم کی گرمی یکجا ہوجاتی ہے اور خالص مٹی کی طبیعت میں برودت یبوست تمام دوسری مفردبارد دواﺅں سے زیادہ ہوتی ہے اس طرح سے مٹی کی برودت مرض کی حرارت کا مقابلہ کرتی ہے خصوصاً جب کہ مٹی کو دھل کر اسے خشک کردیا جائے اور زخم میں ساتھ ہی ساتھ رطوبات ردیہ کی کثرت اور ریزش ہوتی ہے اور مٹی اس کو جذب کرتی ہے اور یبوست اور قوت تجفیف کے سبب سے رطوبات ردیہ کو جو شفاءکی آڑلے آتی ہے ختم کردیتی ہے اس سے مریض کے عضو کے مزاج میں اعتدال پیدا ہوجاتا ہے اور جب مریض کے عضو کا مزاج معتدل ہوجاتا ہے تو اس کی قوت مدبرہ میں جان آجاتی ہے اور مریض کے عضو کی اذیت بحکم الٰہی ختم ہوجاتی ہے۔
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ لعاب دہن اپنی انگشت سبابہ پر لگانے کے بعد اسے مٹی پر رکھ دے اس طرح مٹی کا تھوڑا سا حصہ انگلی سے چمٹ جاتا ہے پھر اس کو زخم پر پھیردے‘اور زبان سے ایسا کلام نکالے جس میںذکرالٰہی کی برکت ہوتی ہے اور شفاءکا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہوئے اسی پر کامل بھروسہ کرے‘پھر یہ دونوں علاج ایک ساتھ کرنے سے ثاتیر علاج قوی ہوجاتی ہے۔
آپ کے قول ”تربةارضنا“ سے کیا مراد ہے پوری دنیا کی زمین یا صرف زمین مدینہ مراد ہے؟ اس سلسلے میں دو قول ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ مٹی میں بلاشبہ یہ خاصیت ہے‘اور اپنی اسی خاصیت کی بناءپر بہت سے امراض میں نافع ہے اور اسی سے بہت سی خطرناک بیماریوں سے شفاءحاصل ہوجاتی ہے۔
حکیم جالینوس نے لکھا ہے کہ میں نے اسکندریہ میں بہت سے طحال کے مریضوں اور استسقاءکے روگیوں کو دیکھا کہ وہ بکثرت مصری مٹی کا استعمال کرتے ہیں اور اس کا ضماد اپنی پنڈلیوں‘ رانوں‘ کلائیوں اور پیٹھوں اور پہلو پر کرتے ہیں جس سے ان کو غیر معمولی نفع ہوتا ہے اور اسی ضماد سے متعفن ورموں اور ڈھیلے ڈھالے جسموں کو نفع پہنچتا ہے اس نے لکھا ہے کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جس کا پورا جسم لاغر ہوگیا تھا اس لئے کہ ناف کے زیریں حصے سے خون کی کافی مقدار ضائع ہوگئی تھی‘انہوں نے جب اس مٹی کو استعمال کیا تو ان کو پوری طرح فائدہ پہنچا‘اور ایک دوسری جماعت کو دیکھا کہ وہ درد مزمن (ہمیشہ اٹھنے والا درد) میں مبتلا تھے اور یہ درد ان کے اعصاب میں رچ بس گیا تھا‘کہ اس کا ادھر سے ادھر کرنا مشکل تھا‘اس مٹی سے وہ اس مرض موذی سے نجات پاگئے اور کتاب مسیحی کے مصنف نے بیان کیا کہ کنوس یعنی جزیرہ مصطگی سے حاصل کی گئی مٹی میں جلااور تغسیل مادہ کی زبردست قوت ہوتی ہے‘جس سے زخموں میں نیا گوشت آجاتا ہے اور زخم پوری طرح مندمل ہوجاتے ہیں۔
جب عام مٹی کا یہ حال ہے اور اس میں یہ زبردست تاثیر ہے تو پھر روئے زمین کی اعلیٰ ترین اور مبارک ترین اور پاک مٹی میں کس درجہ کی افادیت ہوگی‘اور جس مٹی کے ساتھ رسول اللہﷺ کا لعاب دہن ملا ہو اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کا جھاڑ پھونک اللہ تعالیٰ کے نام سے ہو اور شفاءکاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو تو پھرایسی مٹی ایسے لعاب دہن اور ایسے رقیہ کی افادیت کا کیا پوچھنا ہم اس سے پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ جھاڑ پھونک کی تاثیر میں دم کرنے والے کی حیثیت کا بڑا دخل ہے اور اسی طرح اس کے جھاڑ پھونک سے مریض کا تاثر بھی اسی حیثیت سے ہوگا یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے جس کا انکار دنیا کا کوئی فاضل اور عاقل طبیب نہیں کرسکتا اگر ان صفات میں سے کوئی ایک صفت نہ پائی جائے تو پھر جو چاہو کہو۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS