طب نبوی ﷺ میں ہر بیماری کے لئے عام روحانی علاج

ابو داﺅد نے اپنی سنن میں ابو دردائؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
” انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اسکا کوئی بیمار ہو تو یہ کہے اے میرے پرودگار اے اللہ جو آسمان میں ہے تیرا نام مقدس ہے تیراحکم آسمان وزمین میں جاری ہے جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے اسی طرح اپنی رحمت زمین پر بھی نازل کر اور ہمارے گناہ اور ہماری خطاﺅں کو معاف فرما تو ہی پاکیزہ لوگوں کا پرودگار ہے اپنی جانب سے رحمت نازل فرما اور اس درد سے شفاءکلی عطا فرماجب مریض یہ دعا پڑھے گا تو شفایاب ہوجائےگا“۔
اور صحیح مسلم میں ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا:
”اے محمدﷺ کیا آپ کو کوئی تکلیف ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبریل علیہ السلام نے کہا میں اللہ کے نام سے تجھ پر دم کرتا ہوں‘ ہر تکلیف دہ چیز سے اور ہر نگاہ بد سے اور حاسد کی بری نظر سے‘اللہ تجھے شفاءکلی عطا فرمائے میں اللہ ہی کے نام سے تجھ پر دم کرتا ہوں“
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ اس حدیث کے بارے میں کیا کہیں گے جس کو ابو داﺅد نے روایت کیا ہے کہ جھاڑ پھونک صرف نظربد اور ڈنک مارنے سے ہی جائز ہوتا ہے۔اور ((حمتہ)) تمام زہریلے قسم کے جانور کو کہتے ہیں‘ جیسے سانپ بچھو وغیرہ۔
اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس حدیث سے نظربد اور ڈنک مارنے کے علاوہ میں جھاڑ پھونک کی نفی کہاں ثابت ہوتی ہے بلکہ اس کا حقیقی مفہوم تو یہ ہے کہ ڈنک مارنے اور نظربد ہی میں جھاڑ پھونک سب سے زیادہ موثر اور نافع ہوتا ہے اور اسی پر حدیث کا سیاق وسباق دلالت کرتا ہے اس لئے کہ سہل بن حنیفؓ نے نبی اکرمﷺ سے عرض کیا جب کہ یہ نظربد کے شکار ہوگئے تھے کہ کیا جھاڑ پھونک میںبھی خیر ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ نظربد اور ڈنک مارنے ہی میں جھاڑ پھونک ہے اسی پر وہ تمام احادیث دلالت کرتی ہیںجو جھاڑ پھونک سے متعلق وارد ہیں خواہ جھاڑ پھونک عام ہو یا خاص۔
ابو داﺅدؒ نے حضرت انس ؓسے ایک دوسری روایت بایں طور روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
”جھاڑ پھونک صرف نظربد یا زہریلے ڈنک کے لئے یا فساددموی کے لئے ہی ہے“۔
صحیح مسلم میں انس ؓہی سے روایت ہے:
”رسول اللہﷺنے نظربد‘ ڈنک مارنے اور پہلو کے پھوڑے کے لئے جھاڑ پھونک کرنےکی رخصت دی ہے“۔