Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

طب نبوی ان امراض میں مذکورہ دواﺅں کی افادیت کی توجیہہ کا بیان

طب نبوی

ان امراض میں مذکورہ دواﺅں کی افادیت کی توجیہہ کا بیان

اللہ تعالی نے بنی آدم کو اور اس کے تمام اعضاءکو پیدا فرمایا اور ہر عضو کو ایک کمال سے نوازا اگر وہ عضو ضائع ہوجائے تو انسان کو صدمہ پہنچتا ہے ان اعضاءکے بادشاہ کو بھی کمال سے نوازا جب اس کا یہ کمال ضائع ہوجاتا ہے تو اسے مختلف بیماریاں اور مصائب وآلام، رنج وغم، افسردگی گھیر لیتی ہے۔
جب آنکھ قوت بصارت کھو بیٹھے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے‘اور کان قوت سماعت کو ضائع کردے اور زبان قوت گویائی سے بے بہرہ ہوجائے جو اس کی پیدائش کا حقیقی مقصد ہے تو پھر اس کے کمالات ضائع ہوگئے۔
اللہ تعالی نے دل کو اپنی معرفت ومحبت اور اپنی توحید کا اقرار کرانے نیز رضائے الہی کے حصول کے لئے پیدا کیا ہے۔ تاکہ اس کی محبت ورضامندی سے شاداں رہے اسی پر بھروسہ کرے اور اسی کے لئے کسی سے دوستی اور دشمنی کرے۔
اور اسی کے لئے باہم دوستی وتعلق اور باہم دشمنی کرے، اور ہمہ وقت اس کے ذکر واذکار کو جاری رکھے اور قلب کو زندگی بخشنے کا سبب یہ ہے کہ تمام دنیا سے زیادہ لگاﺅ اس کا اللہ رب العزت سے ہو ا ور اسی سے ہر قسم کی امید رکھے نہ کہ غیر سے اور اگر اس کے دل میں اللہ تعالی کے سوا کوئی دوسری بات ہوگی، تو اس دل کی موت ہے، اسے کوئی نعمت ولذت اور فرحت ومسرت حاصل نہیں اور ظاہر ہے کہ زندگی انہی چیزوں سے برقرار رہتی ہے اور یہ چیزیں دل کے لئے غذا صحت اور زندگی کی حیثیت رکھتی ہیں‘جب غذا‘صحت نہ ملے اور زندگی اجیرن ہوجائے تو پھر رنج وغم اور افسردگی ہر چہار جانب سے قلب کو گھیرلیتی ہے اور ایک طرح وہ مضبوط بندش میں جکڑ جاتا ہے۔
سب سے بڑی دل کی بیماری شرک‘گناہ اور اللہ تعالی کی پسندیدہ اور محبوب چیزوں سے غفلت ولاپرواہی تمام معاملات کو اللہ کے سپرد کرنے سے گریز اور اس پر اعتماد کی کمی اور اللہ تعالی کے سوا دوسروں کی طرف میلان‘ تقدیر الہی پر غضب وناراضگی کا اظہار اور اس کے وعدہ وعید میں شک وشبہ کرنا ہے۔
جب آپ دل کی بیماریوں پر غور کریں گے‘تو ان مذکورہ چیزوں اور ان جیسی چیزوں کو آپ ان کے حقیقی اسباب ووجوہات سمجھیںگے‘ اس کے علاوہ ان چیزوں کا کوئی دوسرا سبب نہیں ہے اس لئے اس کی دوا بھی وہی ہوگی جس کے سوا کوئی دوسری دوا ہو ہی نہیں سکتی ان معالجات نبویہﷺ کے ساتھ ان امور کا علاج کیا جائے جو ان بیماریوں کے متضادہوں اس لئے کہ مرض تو مقابل دوا ہی سے دور کیا جاتا ہے اور حفظان صحت اس جیسی دوا سے کی جاتی ہے‘لہٰذا دل کی صحت ان ہی امور نبویﷺ سے ممکن ہے اور دل کے امراض کو اس کی قابل دواﺅں سے ہی دور کیاجاسکتا ہے۔
توحید الہی سے بندہ کے لئے بھلائی لذت‘مسرت وفرحت اور شادمانی کا دروازہ کھل جاتا ہے اور توبہ کے ذریعہ ان تمام فاسد اخلاط اور مواد کاسدہ کا استفراغ ہوجاتا ہے جن سے دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اوراختلاط سے دل بچانے سے ہی شرور کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں چنانچہ توحید سے سعادت وبھلائی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور توبہ استغفار سے برائیوں کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
بعض ائمہ متقدمین فن طب نے یہ بات لکھی ہے کہ جو جسم کی عافیت چاہتا ہو تو اسے کم کھانا پینا چاہیئے اور جو دل کی حفاظت کا خواہاں ہے اسے گناہوں سے باز آجانا چاہیے ثابت بن قرہ نے فرمایا کہ جسم کو سکون کم کھانے میں ہے اور روح کی راحت کم گناہوں میں ہے اور زبان کی حفاظت کم گفتاری میں ہے۔ گناہ دل کے لئے زہر کا کام کرتا ہے، اگر ہلاک نہیں کرتا تو کم ازکم اسے کمزور تو کرہی دیتا ہے اور یہ ضروری ہے کہ دل کی قوت جب کمزور پڑجائے گی تو امراض کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے امراض قلب کے ماہر طبیب عبد اللہ بن مبارک نے کیا خوب عمدہ بات کہی ہے۔
”میری نگاہ میں گناہ دلوں کو مردہ کردیتا ہے اور گناہوں پر اصرار کرنے سے ذلت وپستی ملتی ہے“
”اور گناہوں کا چھوڑنا دلوں کے لئے زندگی ہے اور تمہارے نفس کے لئے بہتر ہے کہ تم اس کی نافرمانی کرو“۔
خواہشات نفسانی تمام بیماریوں کی جڑ ہے اور اس کی مخالفت بہترین علاج ہے اور نفس درحقیقت فطری طور پر ناواقف اور ظلم وزیادتی پر رکھا گیا ہے اس کی اس فطرت ہی کی وجہ سے اسے اپنی خواہشات کی پیروی میں شفاءنظر آتی ہے جب کہ اس اتباع نفس میں اس کی ہلاکت وبربادی ہوتی ہے اور اپنی اس بے راہ روفطرت کی وجہ سے خیر خواہ معالج کی بات نہیںمانتا بلکہ بیماری کو دوا سمجھ کراسی پر بھروسہ کرلیتا ہے اور دوا کو بیماری سمجھ کر اس سے پرہیز کرنے لگتا ہے تو اس خلاف واقع بیماری کو ترجیح دینے اور دوا سے گریزکرنے سے مختلف قسم کے امراض پیدا ہوتے ہیں جن کے علاج کرنے پر ڈاکٹر بھی قدرت نہیں رکھتا اور ان بیماریوں سے شفایابی بہت مشکل نظر آنے لگتی ہے اور سب سے بڑی خام خیالی یہ ہے کہ وہ اسے تقدیر الہی سمجھنے لگتا ہے اور خود کو اس سے بری سمجھ کر زبان حال سے پرودرگار کو ہمہ وقت ملامت کرتا ہے اور یہ ملامت وبیزاری تدریجی طور پر بڑھتے بڑھتے کھل کر زبان پر آجاتی ہے۔
جب کوئی بیمار اس حد تک گرجائے تو پھر اسے صحت یاب ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے،ہاں یہ دوسری بات ہے کہ رحمت الہی بڑھ کر اس کا تدارک کردے اور اسے نئی زندگی عطا کرے،اور کوئی عمدہ راستہ ہموار کردے اسی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مصیبت زدہ کیلئے جو دعا بتائی گئی ہے وہ توحید الوہیت‘توحید ربوبیت دونوں کو شامل ہے اور آپ نے اللہ سبحانہ وتعالی کو عظمت وحلم کی صفت سے متصف فرمایا اور یہی دو صفات ایسی ہیں جو کمال قدرت‘کمال رحمت دونوں کو مستلزم ہیں اور احسان اور درگزر اس کے ہمراہ ہے اور آپ کی توصیف کمال ربوبیت الہی عالم علوی وسفلی اور اس عرش کو جو مخلوقات کے لئے چھت ہے اور مخلوقات میں سب سے بڑی ہے مستلزم ہے اور ربوبیت تامہ کے ساتھ توحید ربوبیت بھی لگی ہوئی ہے اور اس کو بھی مستلزم ہے کہ اللہ تعالی ہی کی ذات ایسی ذات ہے جس کے لئے ہر طرح کی عبادت ومحبت خوف ورجاءاور عظمت وجلالت اور اطاعت لائق ہے اور اس کی عظمت مطلق کا تقاضا ہے کہ ہر کمال کا اثبات اسی کے لئے کیا جائے اور ہر قسم کے نقص وعیب اور مماثلت کی نفی اس سے کی جائے اور اس کی حلم وبردباری اس کی کمال رحمت اور احسان خلق الہی کو مستلزم ہے۔
اس طرح قلب کے علم ومعرفت کے ذریعہ اللہ تعالی کی محبت وجلالت وعظمت اورتوحید کا اظہار ہوتا ہے اسی وجہ سے اس رنج وغم والم کے صدمات کے ختم ہونے کے بعد لذت وسرور اور شادمانی حاصل ہو تی ہے آپ دیکھتے ہیں کہ جب مریض پر مسرت وشادمانی کی کیفیت طاری ہوتی ہے،تو اس کے نفس کو تقویت ملتی ہے تو اس سے طبیعت حسی مرض کے دفع کرنے پر قوی ہوجاتی ہے‘پھر باطنی امراض کے لئے قلب میں اس سے قوت پیدا ہوکر صحت یاب ہونا ایک کھلی حقیقت ہے۔
ُُُُُُُُُٰٰٰپھر جب مصیبت وغم کی تنگی اور ان اوصاف کی کشایش کے درمیان جو اس دعائے کرب میں پوشیدہ ہے موازنہ کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ دعا اس تنگی مصیبت کو دور کرنے کے لئے کتنی عمدہ تدبیر ہے‘اور دل کو اس قید وبندسے رہائی دلا کر مسرت وشادمانی کے ایک کشادہ میدان میں لاکھڑا کرتی ہے ان باتوں کی تصدیق اور اس حقیقت کو وہی تسلیم کرسکتا ہے‘ جو ان کی روشن کرنوں سے فیضیاب ہوا ہوگا یا جس کا دل ان حقائق کا ہمنوا ہوگا۔
اور آپ کا یہ قول ((یاحی یاقیوم برحمتک استغیث)) تاثیر کے اعتبار سے اس بیماری کو دور کرنے میں ایک اچھوتی مناسبت کا حامل ہے اس لئے کہ صفت حیات تمام صفات کمالیہ کو شامل اور مستلزم ہے اور قیوم ہونے کی صفت تمام صفات افعال کو متضمن ہے اسی لئے یہ اسم اعظم شمار کیا جاتا ہے‘جو دعا بھی ان اسماءکے ساتھ کی جائے گی‘ضرور قبول ہوگی‘اور جس چیز کا سوال کیاجائے گا‘ وہ ضرور ملے گی‘اور وہ اسم ((الحی القیوم))ہے۔
اور پائیدار زندگی تمام امراض وتکالیف کے متضاد ہے‘اسی لئے اہل جنت کو کوئی غم رنج، تکلیف نہ ہوگی اور نہ کسی آفت سے ان کو سابقہ پڑے گا کیونکہ ان کو حیات کاملہ مل چکی ہوگی اور حیات میں جس قدر نقص ہوگا افعا ل میں اسی قدر کمی آئے گی اور یہ قیومیت کے منافی ہے چنانچہ کمال قیومیت کمال حیات کے ساتھ ہے لہٰذا حی مطلق جو حیات کاملہ والی ذات ہوگی اس میں صفت کمال کا فقدان ہوگا اور قیوم پر کوئی فعل ممکن مشکل نہیں ہوتا اس لئے صفت حیات وقیومیت کے ذریعہ توسل ایک ایسی تاثیر رکھتا ہے جو حیات کے منافی چیزوں اور افعال میںنقص پیدا کرنے والی چیزوں کو پوری طرح زائل کرسکے۔
اسکی بہترین مثال جناب نبی کریمﷺ کا اپنے رب کے سامنے اس کی ربوبیت سے توسل کرنا ہے جس کا تعلق‘جبریل‘میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام سے ہے کہ جب حق کے تعیین کے بارے میں اختلاف ہو تو بحکم الہی وہ صحیح راہ دکھلادیں اس لئے کہ وہ دل کی زندگی تو ہدایت ہی سے برقرار ہے اور اللہ سبحانہ تعالی نے ان تینوں مذکورہ فرشتوں کو حیات کا وکیل مقرر کیا ہے چنانچہ حضرت جبریل علیہ السلام کے سپرد وحی کی گئی جو دلوں کی زندگی ہے‘اورحضرت میکائیل علیہ السلام کے سپرد قطرہ آب(بارش) ہے جو اجسام وحیوان کے لئے زندگی ہے اور حضرت اسرافیل علیہ السلام اس نفخ صور پر متعین ہیں‘جو دنیا کی دوبارہ زندگی اور ارواح کو دوبارہ اجساد کی جانب واپسی سے تعلق رکھتا ہے‘اس لئے اللہ تعالی کی جانب ان ارواح عظیمہ کے ساتھ توسل جو زندگی کے لئے متعین ہیں مطلوب کے حصول میں غیر معمولی تاثیر رکھتا ہے۔
حاصل یہ کہ اسم حی وقیوم کو دعاﺅں کی قبولیت اور مصیبتوں کے دور کرنے میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
سنن اور صحیح ابو حاتم میں مرفوعاًروایت مذکور ہے۔
((اسمُ اللہِ الاَعظَمِ فِی ھَاتَینِ الاَیَتَینِ)) ))وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ(([البقرة : 163]
”کہ اسم اعظم باری تعالی ان دونوں آیتوں میںہے تمہارا معبود ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ رحمن اور رحیم ہے“۔
اور سورة آل عمران کی آیت:
الم۔ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ[آلعمران : 1 ، 2]
”الم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ حی اور قیوم ہے“۔
ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
صحیح ابن حبان اور سنن میں بھی حضرت انس ؓسے ایک حدیث مذکورہے کہ ایک شخص نے دعا کی جس میں کہا:
”اے اللہ تعالی میں تم سے سوال کرتا ہوں اس کے ذریعہ کہ تیرے لئے ہی حمد وثنا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو منان ہے آسمانوں اور زمینوں کو وجود میں لانے والا ہے اے جلال واکرام والے اے ہمیشہ زندہ رہنے والے اے قیوم، یہ سن کر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس نے اسم اعظم باری تعالی کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جس کے ذریعہ جب بھی دعا کی جائے تو وہ عطا فرمائے گا“۔
اس لئے نبی کریمﷺ جب دعا میں کوشش کرتے تو یہ فرماتے:
((یاحی یاقیوم))
”اے سدا زندہ رہنے والے ہمیشہ قائم رہنے والے“
اور آپ کا قول ہے:
اے اللہ میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں لہٰذا تو ایک لمحہ بھی مجھے میرے سپرد نہ کراور میری تمام حالت کو سنوار دے تیرے سوا کوئی معبود نہیںہے“۔
آپ کی اس دعا میں اس ذات سے امید کی وابستگی ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام خیر ہے اور صرف اسی ایک ذات پر اعتماد منحصر ہے اور اسی کے سپرد تمام معاملات ہیں اور اسی سے التجاوزاری ہے کہ وہ اس کی حالت سنوارنے کی طرف توجہ فرمائے اورا سے خود اس کے حوالے نہ چھوڑدے اور توحید الہی کے ذریعہ توسل میں اس بیماری کو دور کرنے کی بڑی زبردست تاثیر ہے اس طرح آپ کی دعا ((اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا)) کا بھی حال ہے۔
اور ابن مسعود ؓکی اس مذکورہ دعا ((اللھم انی عبدک ابن عبدک)) میں معارف الہٰیہ اور عبودیت کے ایسے اسرار ورموز مضمر ہیں جس کے لیے دفتر کافی نہی©ں‘اس لئے کہ اس میں صرف اپنی بندگی کا بھی اقرار ہے اور یہ کہ اس کی پیشانی اسی کے ہاتھ میں ہے وہ جس طرح چاہے اسے پھیر دے اس لئے کہ بندہ خود اپنے ضررونفع موت وحیات کا مالک نہیں اور نہ حیات بعد الممات کا اسے اختیار ہے بلکہ تمام اختیار صرف اللہ تعالی کو حاصل ہے اس لئے کہ جس کی پیشانی دوسرے ہاتھ میں ہو پھر اسے کسی چیز کا اختیار کیسے ہوسکتا ہے بلکہ وہ تو خدمت گزار اور اس کی دسترس وقبضہ میں ہے اور اس کی زبردست طاقت وقدرت کے ماتحت ذلیل ہے۔
اور آپ کے اس قول ((ماض فی حکمک عدل فی قضاءک)) میں دو عظیم بنیادی باتیں ہیں جن پر توحید کی پوری عمارت قائم ہے۔
پہلی اصل:اثبات تقدیر ہے کہ اللہ تعالی کا حکم اس کے بندے پر نافذ ہے اور اسی کا حکم جاری ہے اس سے ایک منٹ کے لئے بندے کو چھٹکارا نہیں اور نہ اس کے دفاع کے لئے کوئی تدبیر کارگرہے۔
دوسری اصل: یہ کہ اللہ تعالی اپنے ان تمام احکام میں سراسر انصاف پر ہے اور اپنے بندے پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا‘بلکہ ان احکام میں عدل واحسان کے اسباب سے اپنے آپ کو الگ نہیں کرسکتا‘اس لئے کہ ظلم کا حقیقی سبب ظالم کی ذاتی ضرورت یا اس کی جہالت ونادانی ہوتی ہے‘چنانچہ ان تینوں چیزوں کا صدور ایسی ذات سے محال ہے جو ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے اور ہر چیز سے بے نیاز ہے‘ہر چیز اسی کی محتاج ہے اور وہ احکم الحاکمین ہے‘اس لئے ایک ذرہ بھی اس کی حکمت اور حمد کے حدود سے باہر نہیں ہوسکتا‘جیسا کہ اس کی قدرت ومشیت کی حد سے نہیں نکل سکتا۔
اس لئے اس کا حکم اس کی مشیت وقدرت کے مطابق نافذ ہے اسی لئے اللہ کے نبی ھود علیہ السلام نے فرمایا جب ان کی قوم نے ان کو اپنے خود ساختہ معبودوں سے ڈرایا اور دھمکایا۔
”میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم لوگ بھی اس بات پر شاہد بن جاﺅ کہ میں ان معبودان باطل سے الگ ہوں، جنہیں تم اللہ تعالی کو چھوڑ کر اس کا شریک ٹھہر اتے ہو، تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو پھر مجھے بھی مہلت نہ دو میں نے تو اپنے اللہ تعالی پرجو میرا اور تمہارا رب ہے بھروسہ کیا دنیا میں کوئی جاندار نہیں جس کی پیشانی اللہ تعالی کے ہاتھ نہ ہو بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے“۔
باوجود یہ کہ تمام مخلوقات کی پیشانیاں اس کے ہاتھ میںہیں اوروہ اس پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے مگر بایں ہمہ ظلم وتعدی اس کا طریقہ نہیں بلکہ انصاف وعدل حکمت ورحمت اور احسان کے ساتھ ان کے تصرف کرتا ہے اور یہی سیدھا راستہ ہے آپ کا قول ”ماض فی حکمک“ بالکل ارشاد الہی ((مامن دابة الاھو اخذ بناصیتھا)) کا ترجمان ہے اور نبی کریمﷺ کا قول عدل فی قضاءک ارشاد باری ان ربی علی صراط مستقیم کا نقیب ہے۔
پھر یہ توسل اللہ کے ان اسماءکے ذریعہ ہے جن کو اللہ تعالی نے اپنے طور پر اختیار فرمایا جن میں سے کچھ اسماءتو بندوں کو معلوم ہوگئے اور کچھ اسماءابھی تک ناآشنا ہیںاور بعض اسماءایسے ہیں جو صرف اللہ تعالی ہی کے علم میںہیں اس نے کسی مقرب فرشتہ اور کسی نبی مرسل کو اس سے آگاہ نہیں فرمایا یہی وسیلہ تمام وسائل سے بڑھ کر ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک بہت محبوب ہے اور مطلوب کے حصول کے لئے اقرب بھی ہے۔
پھر آگے اللہ تعالی سے یہ درخواست کی کہ قرآن پاک کو میرے دل کے لئے ایسا لہلہاتا شاداب کشت زار موسم بہار بنادے جس میں جانور بلا روک ٹوک چرتے ہیں اور اسی طرح قرآن مجید دلوں کے لئے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے اور قرآن کو میرے غم ورنج کومداوا بنادے چنانچہ قرآن مجید رنج وغم کے لئے ایسے مداوا کا مقام رکھتا ہے جو بیماری کو جڑ سے ختم کردے اور جسمانی صحت اور اعتدال بازیاب ہوجائے اور اے اللہ اس قرآن کو میرے غم کیلئے ایسی جلاءبنادے جو طبیعتوں اور دماغ وغیرہ کو نور بخشتا ہے پھر اس علاج کی خوبی کا کیا کہنا کہ خود مریض پکار اٹھے اس دوا کے استعمال سے اس کی بیماری جاتی رہی اور بعد ازاں شفائے کلی حاصل ہوئی اور صحت عافیت نصیب ہوئی اللہ ہی توفیق دینے والاہے۔
رہ گئی حضرت یونس علیہ السلام کی دعا تو اس میں کمال توحید اور باری تعالی کے لئے کمال تنزیہہ ہے اور بندہ کا اپنے ظلم وزیادتی اور گناہ کا اعترف ہے جو درد رنج وغم کی سب سے موئژ دوا ہے اور حاجت روائی کےلئے اللہ تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہے اس لئے کہ توحید اور تنزیہہ سے ہرکمال اللہ کے لئے ثابت ہوتا ہے اور اس سے ہر نقص وعیب اور ہر تمثیل کی نفی ہوجاتی ہے اور بندہ کا اپنے ظلم کے اعتراف سے شریعت ثواب وعقاب پر اس کا ایمان ثابت ہوتا ہے اور اس کے انکسار وعجز کا یہ سبب بھی ہے اور اس کے اللہ کی طرف رخ کرنے کا اظہار ہوتا ہے اور اپنی لغزش سے خود کو الگ کرنے اور بندگی اور پروردگار کے احتیاج کا اعتراف ہوتا ہے گویا ان چار چیزوں سے یہاں توسل کرنا ثابت ہوتا ہے‘ توحید‘ تنزیہہ‘ عبودیت اور اعتراف۔
لیکن حضرت ابو امامہ کی یہ حدیث میں آٹھ چیزوں سے پناہ طلب کی گئی ہے ان میں سے ہر دو ایک دوسرے کے لازم ومتصل ہیں چنانچہ رنج وغم دونوں لازم وملزوم ہیں عجز وکسل دونوں بھائی بھائی ہیں اور بخیلی اور بزدلی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور قرض کا بوجھ لوگوں کا غلبہ دونوں ہم جنس ہیں اس لئے کہ جو ناپسندیدہ تکلیف دہ چیز دل پر وارد ہوتی ہے اس کا سبب کوئی گذشتہ امر ہوتا ہے جس سے انسان کو رنج وغم پہنچتا ہے یا اس کا سبب آئندہ پیش آنے والا کوئی متوقع امر ہو تو غم وفکر لاحق ہوتی ہے اور بندہ کے اپنے مصالح سے پیچھے رہ جانے یا اس کے فوت ہوجانے کا سبب بندہ کی عدم قدرت اور اس کی عاجزی ہوتی ہے یا ارادہ کی صفت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے جسے کسل کہتے ہیں اور بندہ کسی اپنے خیر یا نفع کو خود سے یا اپنے ہم جنس سے روک لیتا ہے اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ بندہ اپنے بدن سے اس نفع کو روک لیتا ہے اسے بزدلی کہتے ہیں دوسری وجہ یہ کہ بندہ اسے اپنے مال سے روکتا ہے اسے بخیلی کہتے ہیں اور بندہ پر لوگوں کا غلبہ کسی حق کی بنیاد پر ہوتا ہے اسے قرض کے بوجھ سے تعبیر کرتے ہیں یا غلبہ باطل طور پر ہوتا ہے تو اسے غلبتہ الرجال کہتے ہیں۔
غرض حدیث میں ہر شر سے پناہ طلب کی گئی ہے اور رنج وغم اور تنگی کے دفعیہ میں استغفار کی تاثیر کے متعلق ہر ملت ومذہب کے لوگوں نے اور ہر امت کے عقلاءنے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ معاصی وفساد رنج وغم‘ خوف‘ تنگ دلی اور قلبی امراض کا باعث ہوتے ہیں چنانچہ جن لوگوں کے اندر یہ بیماری پائی جاتی ہے جب یہ اپنی حاجت وخواہش پوری کرلیتے ہیں اور ان کے نفوس ان سے اکتاجاتے ہیں تو یہ بیماریاں اچانک ان چیزوں کی شکار ہوجاتی ہیں جب ان کے سینوں میں پائی جانے والی تنگی‘ رنج وغم کا دفاع اور خاتمہ ہوتا ہے جیسا کہ ایک فاسق شاعر نے کہا
”بہت سے جام میں نے لذت وسرور کے طور پر پیے پھر اسی سے ہی میں نے اپنی اس بیماری کا علاج کیا“۔
جب دلوں پر گناہوں کی تاثیر اس طرح راسخ ہوجائے تو پھر توبہ واستغفار کے سوا اس کا کوئی دوسرا علاج نہیں نماز کی شان دل کی فرحت وشگفتگی بخشنے اور اسے تقویت پہنچانے اور اسے کشادہ وشاداب کرنے اور اس کو لذت پہنچانے میں عجیب وغریب ہے نماز سے دل اور روح دونوں اللہ سے قریب ہوجاتے ہیں اس کا قرب نصیب ہوتا ہے اس کے ذکر کی نعمت کے حصول سے دل کھل جاتا ہے اس کی مناجات سے مسرت حاصل ہوتی ہے اس کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور اور اس کی عبودیت میں اپنے تمام بدن اور اعضاءاور تمام قوتوں کو استعمال کرنے میں ہر عضو کو بندگی کا پورا پورا لطف حاصل ہوتا ہے وہ مخلوق کے تعلق باہم میل جول اور ملنے جلنے سے بے نیاز ہوجاتا ہے اور اس کے دل کی ساری قوتیں اور اس کے سارے اعضاءاپنے رب فاطر کی جانب کھینچ جاتے ہیں اور بحالت نماز وہ اپنے دشمن سے بے پرواہ ہوکر آرام پاجاتا ہے اور نماز اس کے لئے سب سے بڑا علاج بن جاتی ہے مفرحات قلب میں سب زیادہ نماز ہی کو اہمیت حاصل ہوجاتی ہے اور اسے ایسی غذائیں میسر آتی ہیں جو صحت مند قلوب کے لئے اور بھی زیادہ مفید ہیں لیکن بیمار دلوں کا معاملہ ان بیمار اجسام جیسا ہوتا ہے جن کے لئے صرف عمدہ غذائیں ہی نفع بخش ہوتی ہیں۔
اس لئے نماز دنیا وآخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا وآخرت کے مفاسد کو دفع کرنے میں سب سے عمدہ معاون مددگار ہے نماز گناہ سے روکتی ہے اور قلوب کے امراض کو دفع کرتی ہے اور جسم سے بیماری کو دور کردیتی ہے دل کو روشن‘ چہرہ کو تابندہ کرتی ہے نفس اور اعضاءکو نشاط بخشتی ہے روزی کو کھینچ کر لاتی ہے ظلم کا دفعیہ کرتی ہے اور مظلوم کے لئے مددگار ہے خواہشات نفسانی کے اخلاط کو جڑ سے اکھیڑ پھینکتی ہے نعمت کی محافظ اور عذاب کو دور کرنے والی اور رحمت کے نزول کا باعث ہے اور غم وبے چینی کو دور کرنے والی ہے اور شکم کی بہت سی بیماریوں کے لئے دوا ہے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حدیث مجاہد کو حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے دیکھا میں سویا ہوا تھا اور درد شکم سے بیقرار تھا آپ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ تجھے درد شکم ہے کیا؟ میں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا کہ اٹھو نماز ادا کرو اس لئے کہ نماز میں شفاءہے۔
یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓسے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے اور مجاہد سے جو ذکر ہوا وہ اسی کے قریب ہے اور اس فارسی لفظ کا ترجمہ ہے کہ کیا تمہارے شکم میں درد ہے؟
اگر زندیق اطباءکا دل اس طریقہ سے مطمئن نہ ہو تو انہیں صنعت طب سے سمجھانا چاہئے کہ نماز نفس اور بدن دونوں کے لئے ریاضت ہے اس لئے کہ اس میں قیام وقعود سجدہ و رکوع اور قعدہ کی مختلف حرکتیں ہوتی ہیں اور آدمی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے اس کی وضع بدلتی رہتی ہے اور نماز میں جسم کے اکثر جوڑ جنبش کرتے رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ اکثر باطنی اعضاءمعدہ آنتیں‘ آلات تنفس اور قناة غذا ان سب کی وضع حرکات میں تغیر آجاتا ہے‘ پھر ایسی صورت میں کون سی بات مانع ہے کہ ان حرکات سے بعض اعضاءتوانا اور بعض مواد غیر ضروریہ تحلیل نہ ہوجائیں گے بالخصوص جب کہ نماز میں قوت نفس اور انشراح میں اضافہ ہو۔
جس سے طبیعت قوی ہو کر الم کا پورے طور پر دفاع کرلیتی ہے لیکن ملحدین وزنادقہ کی بیماری تو ان حقائق کا انکار ہے جو انبیاءورسل لے کر آئے اور اس کے بجائے اس کے قائم مقام ان کا وہ الحاد ہے جو موت کی طرح لاعلاج مرض ہے اس کا علاج صرف وہ بھڑکتی آگ ہے جس میں ان منکرین کو داخل کیا جائے گا جن کی زندگی انکار حق اور الحاد کے لئے وقف تھی۔
رہ گئی رنج وغم کو دور کرنے میں جہاد کی تاثیر تو اس کی قوت تاثیر وجدانی طور پر معلوم ہوچکی ہے اس لئے کہ نفس جب باطل کے غلبہ وصولت اور قبضہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے تو اسے شدید رنج وغم پہنچتا ہے اور اس کی بے قراری اور خوف میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے لیکن جب وہ اللہ کے لئے جہاد پر آمادہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس رنج وغم کو فرحت ومسرت اور نشاط وقوت میں بدل دیتا ہے جیسا کہ خود فرمایا۔
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ [التوبة: 14، 15]
”ان سے مقاتلہ کرو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دینا چاہتا ہے اور ان کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اور ان پر تمہیں مظفرومنصور کرنا چاہتا ہے اور مومنوں کے سینوں کو بیماریوں سے پاک کرنا چاہتا ہے اور ان کے دلوں سے غیظ کو ختم کرنا چاہتا ہے“۔
چنانچہ دل کے درد والم رنج وغم دور کرنے کے لئے جہاد سے بڑھ کر کوئی مفید دوا نہیں۔
اور ((لا حول ولا قوة الا باللہ)) کی تاثیر اس بیماری کے دفاع میں اس لئے ہے کہ اس میں اعلیٰ ترین خود سپردگی کا اظہار اور ہر طرح کی قوت وطاقت سے عاجزی کا اعتراف ہے اور اس کا اثبات ایک ہی ذات کے لئے ہے اور پورے طور پر اپنے تمام معاملات کو اللہ کے حوالے کردینا ہے اور کسی بھی معاملہ میں اس کی مخالفت نہ کرنا ہے اور ایک حال سے دوسرے حال پر جانا خواہ وہ عالم علوی میں ہو یا سفلی میں اللہ کے سوا کسی کے لئے اسے تسلیم نہ کرنا ہے اور یہ اقرار کرنا کہ اس تحول کی ساری طاقت واختیار صرف اللہ کو ہی حاصل ہے لہٰذا اس کلمہ سے بڑھ کر کوئی دوسرا کلمہ ہو ہی نہیں سکتا۔
بعض آثار میں ہے کہ کسی فرشتہ کا آسمان سے زمین پر نزول اور پھر زمین سے آسمان پر صعود ((لا حول ولا قوة الا باللہ)) کی علوی طاقت ہی کے ذریعہ ہوتا ہے اور اسی لئے شیطان کو بھگانے میں اس کے اندر غیر معمولی تاثیر ہے۔

طب نبوی ان امراض میں مذکورہ دواﺅں کی افادیت کی توجیہہ کا بیان
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS