علاج سے ناواقف سے معالجہ کی مذمت

ابو داﺅد اور ابن ماجہ نے عمرو بن شعیبؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
”انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے علاج کیا اور اس سے پہلے اس علاج کا علم نہ تھا تو وہ ذمہ دار ہے“
اس حدیث میں تین مشتملات ہیں (۱) لغوی (۲) فقہی (۳) طبی
لغوی: لغت عرب میں طب لفظ طاءکے کسرہ کے ساتھ ہے۔ جس کے کئی معا نی ہیں، ایک معنی اصلاح ہے۔ عربی زبان میں بولتے ہیں۔ (طبیبتہ) یعنی میں نے اس کی اصلاح کی اسی طرح طب بالامور بھی کہا جاتا ہے یعنی لطف و سیاستہ۔ شاعر کا قول ہے
”جب تمیم کے معاملات میں کوئی خرابی پیدا ہوئی تو تم اپنی روشن رائے کے ساتھ اسکے سائیس ہوتے“۔
طب کا دوسرا معنی مہارت نامہ، زیر کی بھی ہے۔ چنانچہ جوہری نے لکھا ہے کہ عربوں کے نزدیک ہر چاق و چوبند طبیب ہوتا ہے۔ ابو عبید نے بیان کیا کہ طب کی اصل تمام چیزوں میں مہارت اور واقفیت ہے، کہا جاتا ہے الطب و الطبیب جب کہ وہ ماہر ہو خواہ مریض کے علاج کا ماہر ہو یا اس کے علاوہ کا ماہر ہو۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں نے بیان کیا کہ کہا جاتا ہے رجل طبیب یعنی ماہر آدمی۔ طبیب اس کو محض اس کی زیر کی اور عزامت و فطانت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ علقمہ نے لکھا ہے
”اگر تم عورتوں کے بارے میں مجھ سے دریافت کرتے ہو تو میں عورتوں کے بارے میں پوری طرح واقف اور ان کے امراض کا طبیب ہوں“۔
”جب کسی کا بال سفید ہوجائے یا مال پاس نہ رہے تو پھر اسے عورتوں کے ساتھ محبت کی پینگ بڑھانا لاحاصل ہے“
”یعنی تم اگر مجھے دیکھ کر گھونگھٹ لٹکاتی ہو تو یاد رکھو میں زرہ پوش سورما کو اپنے پنجے میں لینے کا ماہر ہوں“
عربی زبان میں طب کا دوسری معنی عادت کے ہیں۔ کہا جاتا ہے یعنی یہ میری عادت نہیں ہے۔ فروہ بن مسیک نے اپنے شعر میں کہا ہے:
”بزدلی میری عادت نہیں بلکہ ہماری عادت اور آرزو دوسروں کی سلطنت پر قبضہ کرنا ہے“
اور احمد بن حسین متنبی نے شعر میں کہا ہے:
”لوگوں میں ڈینگ مارنا میری عادت نہیں ہاں اتنا ضرور ہے کہ میرے نزدیک خود کو دانا سمجھنے والا نادان قابل نفرین ہے“
طب کے معنی جادو کے بھی آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ رجل مطبوب ای مشہور یعنی سحر زدہ شخص اور صحیح بخاری میں حدیث عائشہؓ سے بھی اس معنی کی تعیین ہوجاتی ہے۔
”حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ جب یہودی نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تودو فرشتے آپ کے سر کے پاس اور دونوں پیروں کی جانب بیٹھے ان میں سے ایک نے دریافت کیا اس شخص کا کیا حال ہے، دوسرے نے جواب دیا کہ اس پر جادو کیا گیا، پہلے نے دریافت کیا کس نے اس پر جادو کیا، تو دوسرے نے جواب دیا کہ فلاں یہودی نے جادو کیا ہے“
ابو عبید نے لکھا ہے کہ مسحور کو مطبوب کہتے تھے اس لیے کہ طب کو سحر کے لیے وہ کنایتہ استعمال کرتے تھے جس طرح کہ وہ ملاذع (ڈنک ذدہ) کو کنایہ مطبوب کہتے تھے، اسی طرح سلیم کا استعمال بطور کنایہ خوش فالی کے کرتے تھے، جس طرح کہ مغازہ ان چٹیل میدانوں کو کہتے ہیں۔ جہاں پانی کا دور دور تک پتہ نہ ہو۔ اور اسے بطور فال کے موت سے کامیابی موت سے بچنے میں استعمال کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے لفظ مغازة جان لیوا میدانوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اور کبھی بیماری میں طب کا لفظ استعمال کرتے ہیں، ابن ابی اسلت کا یہ شعر اس کی شہادت میں پیش ہے۔
”کیا کوئی میرا پیغام حسان کو پہنچانے والا ہے کہ تمہارا مرض جادو ہے یا جنون ہے“
اگر تم بیمار ہو تہ اسی طرح رہو گے۔ اور اگر سحر زدہ ہو تو سحر کا اثر جلدی ختم نہیں ہوتا۔
شاعر نے اس شعر میں مطبوب سے مراد سحر زدہ لیا ہے اور مسحور سے مراد بیمار لیا ہے جوہری نے لکھا ہے کہ بیمار شخص پر بھی لفظ مسحور کا اطلاق ہوتا ہے۔ شاعر کے اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اس شخص نے مجھے مجھ سے اور تیر ی محبت سے جدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تو میں اللہ تعالی سے اس کے برقرار اور ہمیشہ باقی رہنے کی دعا کرتا ہوں، میں اس کا ازالہ نہیں چاہتا۔ خواہ وہ کوئی جادہ ہو یا کوئی مرض ہو۔
”الطب“ تین حرکت کے ساتھ پڑھا گیا، طاءکے فتحہ کے ساتھ عالم امور معاملات کو کہتے ہیں، اسی طرح طبیب کو بھی کہتے ہیں۔ اور طاءکے کسرہ کے ساتھ فعل طبیب کو کہتے ہیں اور طاءکے ضمہ کے ساتھ ایک گاﺅں کا نام ہے۔ ابن سید نے شعر میں اس کو ذکر کیا ہے۔
”میں نے کہا کہ طب کے گاﺅں میں تمہارے سوار پانی کی جھیل پر اترے اس گاﺅں کا پانی بھی انعام الٰہی اور مٹی بھی عمدہ ہے“۔
نبی کریم ﷺ نے ”تطبب“ اور ”من طب“ کا استعمال نہیں کیا، کیونکہ تفعل میں تکلف اور کسی جگہ بآسانی دخول کا معنی پایا جاتا ہے۔ یعنی دہ بہ تکلف طبیب بنا حالانکہ وہ اس کا اہل نہیں تھا۔ جیسے عربی میں تحلم، تشجع، تصبر وغیرہ میں تکلف کا معنی پایا جاتا ہے۔ اسی وزن پر لوگوں نے تکلف کے معنی لینے کی بنیاد رکھی، شاعر کا قول ہے
”عیلان کا قیاس اور اس شخص کا قیاس جس نے نہ تکلف اسے کیا“
شرعی حیثیت سے جاہل طبیب پر تاوان واجب ہوگا۔ اس نے جب فن طب اور اس کے عمل کو جانا نہیں، اور نہ اسے پہلے سے اس کی معرفت تھی تو گویا اس نے جہالت و ناواقفیت کے ساتھ علاج کرکے دوسروں کی جان لینے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کیا، اور جس چیز کا اسے علم نہ تھا۔ اس نے جسارت کے ساتھ اس کے لیے قدم اٹھایا گویا اس نے مریض کو دھوکہ دیا، اسی لیے اس پر تاوان دینا لازم ہوگا۔ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔
خطابی نے بیان کیا کہ مجھے اس سلسلے میں کوئی مختلف روایت نہیں ملی کہ معالج کی تعدی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اس کا تاوان اسے دینا ہوگا۔ اور جب طبیب علم یا عمل کے اعتبار سے ناقص اور ناواقف ہے۔ اسے نہ علم کا پتہ نہ عملی تجربہ حاصل پھر بھی پریکٹس کرتا ہے۔ تو وہ ظالم ہے۔ ایسا طبیب جب کسی مریض کو پاتھ لگائے اور اس کے بیجا عمل سے مریض موت کے گھاٹ اتر جائے تو اسے اس کی دیت دینی ہوگی۔ البتہ قصاص اس کے ذمہ نہ ہوگا۔ اس لیے کہ مریض کی اجازت کے بغیر اس کے علاج میں نہیں لگا تھا اور معالج کا گناہ اس کی عقل وفہم کے مطابق ہی ثابت ہوا۔ عام فقہاءکا یہی قول ہے۔
اس کی تفصیل پورے طور پر یوں سمجھئے کہ اس کی کل پانچ قسمیں ہیں۔
پہلی صورت:         طبیب ماہر ہے۔ وہ صنعت طب سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ اس کی پریکٹس بے داغ رہی ہے۔ ایسے طبیب کو قانونی اور شرعی طور پر اجازت ہے کہ وہ علاج کرے، اب جس کا وہ علاج کررہا ہے۔ اتفاقاً اس کا کوئی عضو یا اس کی کوئی صفت ضائع ہوگئی یا بذات خود مریض اس کے علاج کے نتیجہ میں ختم ہوجائے تو ایسے شخص پر بالاتفاق کوئی تاوان نہ ہوگا۔ اس لیے کہ یہ زخموں کی ریزش ہے۔ جس کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی طرح اگر اس نے کسی بچہ کا مناسب وقت میں ختنہ کیا جبکہ بچہ کی عمر ختنہ کے قابل تھی، اور ختنہ کرنے والے نے پوری مہارت کا مظاہرہ کیا پھر بھی عضو یا خود بچہ اس ختنہ کے صدمہ سے فوت ہوگیا۔ تو کوئی تاوان نہیں، ایسے ہی اگر کسی کا آپریش کیا، اور آپریشن مناسب وقت اور بہتر طریقہ پر کیا گیا تھا۔ خواہ آپریشن کرانے والا نہایت سمجھدار ہو یا نہ ہو۔ اس نے آپریشن کا پورا حق ادا کردیا، مگر مریض آپریشن کی اذیت کو برداشت نہ کر سکا اور مرگیا تو معالج پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ اسی طرح کسی کا خون نکالنا بہانا جس کی اجازت ہو، بہانے والے کی اس میں کوئی غلطی نہ ہو۔ اس کا حکم بالاتفاق حد و قصاص میں خون بہانے کی طرح ہے۔ اور حد و قصاص میںخون بہانا سب کے نزدیک درست ہے۔ صرف امام ابو حنیفہؒ اس کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا شخص ضمان یا تاوان کا مستحق ہے۔
اسی طرح تعزیز کا زخم کاری، یا مرد کا اپنی عورت کو مارنا یا استاد کا کسی بچہ کو مارنا اور کرائے پر لیے گئے جانور کو پیٹنا ان تمام صورتوں میں امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے علاوہ تمام لوگ عدم تاوان کے قائل ہیں۔ امام شافعیؒ نے جانور کی پٹائی کو اس سے مستثنی کردیا ہے۔
اس باب میں اختلاف و اتفاق دونوں طریق سے اصل چیز یہ ہے کہ زخم کاری کا جرم بالاتفاق دیت واجب کرتا ہے۔ اور جس زخم کاری کا عمل میں لانا واجب ہے۔ اس سے پہنچنے والا صدمہ وزخم قانوناً معاف ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان جو صورتیں ہیں ان میں اختلاف ہے۔ چنانچہ امام ابو حنیفہؒ نے مطلقاً تاوان واجب کیا۔ امام احمدؒ، مالکؒ نے ضمان معاف کردیا ہے۔ امام شافعیؒ نے مقدر و غیر مقدر کے درمیان فرق کیا ہے کہ اگر مقدر ہو تو معاف ہے۔ اور غیر مقدر ہو تو اس میں تاوان واجب قرار دیا۔ امام ابو حنیفہؒ نے اس پر نگاہ رکھی کہ اس عمل کی اجازت سلامتی کے ساتھ مشروط تھی۔ امام احمدؒ و مالکؒ نے اجازت ہی کی معافی ضمان کا سبب ٹھہرایا اور امام شافعیؒ نے غیر ارادی طور پر پہنچنے والے ضرر کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ اس لیے کہ نص قرآنی موجود ہے۔ لیکن غیر مقدر میں تعزیرات و تادیبات کی طرح اجتہادی ہے۔ ایسی صورت میں جب کئی نقصان ہو تو دیت واجب ہوگی کیونکہ اس میں دشمنی کا شبہ ہوسکتا ہے۔