Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

نبی کریم ﷺ کے استعمال مشروبات کا انداز

پانی پینے میں آپ کا طریقہ سب سے کامل ترین ہے اگر ان طریقوں کی رعایت کی جائے تو حفظان صحت کے اعلی ترین اصول ہاتھ آجائیں آپ شہد میں ٹھنڈا پانی ملا کر پیتے تھے اس میں حفظان صحت کا وہ باریک نکتہ پنہاں ہے جہاں تک رسائی بجز فاضل اطباءکے کسی کی نہیں ہوسکتی اس لئے کہ شہد نہار منہ چاٹنے اور پینے سے بلغم پگھل کر خارج ہوتا ہے خمل معدہ صاف ہوجاتا ہے اور اس کی لزوجت (چپک) ختم ہوجاتی ہے اور فضلات دور ہوجاتے ہیں اور معدہ میں معتدل گرمی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے سدے کھل جاتے ہیں اور جو بات معدہ میں اس کے استعمال سے ہوتی ہے وہی گروہ جگر اور مثانہ میں اس کا اثر ہوتا ہے اور معدہ کے لئے یہ ہر شیریں چیز سے زیادہ مفید ہے البتہ معمولی طور پر جن لوگوں میں صفراءکا غلبہ ہوتا ہے انہیں اس سے ضرر پہنچتا ہے اس لئے کہ اس کی حد ت سے حدت صفراءدوگنی ہوجاتی ہے اور کبھی صفراءمیں ہیجان پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی مضرت کو دور کرنے کے لئے اس کو سرکہ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جس سے غیر معمولی فائدہ حاصل ہوتا ہے اور شہد کا پینا شکر وغیرہ کے دیگر مشروبات کے مقابل بہت زیادہ ہے بالخصوص جن کو ان مشروبات کی عادت نہ ہو اور نہ طبیعت اس کی خوگر ہو اس لئے کہ اگر وہ اس کو پیتا ہے تو اس سے وہ بات نہیں پیدا ہوگی جو شہد کے پینے سے ظاہر ہوتی ہے اس سلسلہ میں اصل چیز عادت ہے اس لئے کہ عادت ہی اصول کو منہدم کرکے نئے اصول مرتب کرتی ہے۔
اور جب کسی مشروب میں حلاوت وبرودت دونوں ہی موجود ہوں تو اس سے بدن کو غیر معمولی نفع پہنچتا ہے اور حفظان صحت کی سب سے اعلی تدبیر ہے اس سے ارواح واعضاءمیں بالیدگی آتی ہے اور جگر اور دل کو اس سے بے حد لگاﺅ ہے اور اس سے بڑی مدد حاصل ہوتی ہے اور اس میں جب دونوں وصف ہوں تو اس سے غذائیت بھی حاصل ہوتی ہے اور غذا کو اعضاءتک پہنچانے کا کام بھی ہوجاتا ہے اور جب غذا اعضاءتک پہنچ جائے تو کام پورا ہو جاتا ہے۔
آب سرد تر ہے یہ حرارت کو توڑتا ہے اور جسم کی رطوبات اصلی کی حفاظت کرتا ہے اور انسانی بدن کو بدل ما یتحلل کو پیش کرتا ہے اور غذا کو لطیف بنا کر رگوں میں پہنچاتا ہے۔
اطباءکا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آب سرد سے بدن کو غذائیت حاصل ہوتی ہے یا نہیں اس سلسلے میں اطبا ءکے دو قول منقول ہیں ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس میں تغذیہ ہے اس لئے کہ مشاہدہ ہے کہ آب سرد کے استعمال کے بعد طبیعت میںجان آجاتی ہے اور جسمانی نمو ہوتا ہے خاص طور پر شدید ضرورت کے وقت پانی پینے سے غیر معمولی توانائی آجاتی ہے۔
لوگوں نے بیان کیا کہ حیوانات ونباتات کے درمیان چند چیزوں میں قدر مشترک ہے پہلی چیز نمو‘دوسری غذائیت اور تیسری چیز اعتدال ہے اور نباتات میں حسی قوت موجود ہے جو اس میں اس کی حیثیت سے پائی جاتی ہے اسی لئے نباتات کا تغذیہ پانی سے ہوتا ہے پھر حیوان کے لئے پانی میںکوئی تغذیہ نہ ہو تو سمجھ سے بالا تر چیز ہے بلکہ پانی کو حیوان کی کامل غذا کا ایک حصہ ہونا چاہیے۔
لوگوں نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ہم تو یہ نہیں کہتے کہ پانی کا غذائیت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ ہم تو صرف اس کا انکار کرتے ہیں کہ پانی سے تغذیہ نہیں ہوتا انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کھانے میں غذائیت پانی ہی کی وجہ سے ہوتی ہے اگر یہ چیز نہ ہوتی تو کھانے میں غذائیت پانی ہی کی وجہ سے ہوتی ہے اگر یہ چیز نہ ہوتی تو کھانے سے غذائیت ہی حاصل نہ ہوتی۔
لوگوں نے یہ بھی بیان کی ہے کہ حیوانات ونباتات کا مادہ پانی ہے اور جو چیز کسی شے کے مادہ سے قریب ہوتی ہے اس سے تغذیہ حاصل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں جب پانی ہی مادہ اصل ہو جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا۔
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ[الأنبياء : 30]
”ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو زندگی بخشی“
تو پھر اس چیز کے تغذیہ سے کیسے ہم انکار کرسکتے ہیں جو مطلقاً مادہ حیات ہو مزید برآں ہم پیاسوں کو دیکھتے ہیں کہ جہاں ٹھنڈے پانی سے ان کی تشنگی بجھی ان میں دوبارہ جان آگئی اور ان کی قوت ونشاط اور حرکت تینوں بازیاب ہوگئے اگر کھانا نہ بھی ملے تو صبر کرلیتے ہیں بلکہ تھوڑے کھانے پر اکتفا کرلیتے ہیں اسی طرح ہم نے پیاسے کو دیکھا کہ کھانے کی زیادہ مقدار کھا کر بھی اس کی تشنگی نہیں جاتی اور نہ اس کے بعد اسے قوت کا احساس ہوتا ہے نہ غذائیت کا شعور ہوتا ہے ہمیں اس سے انکار نہیں کہ پانی غذا کو اجزائے بدن تک پہنچاتا ہے اور غذائیت کی تکمیل پانی ہی کے ذریعہ ہوتی ہے بلکہ ہم تو اس شخص کی بات بھی تسلیم نہیں کرتے جو پانی کے اندر قوت تغذیہ بالکل نہیں مانتا اور غالبا ہمارے نزدیک اس کی یہ بات امور وجدانی کے ہم پلہ ہے۔
ایک جماعت نے پانی سے تغذیہ کے حصول کا انکار کیا ہے اور انہوں نے ایسی چیزوں سے استدلال کیا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ صرف پانی پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا اور پانی کھانے کے قائم مقام نہیں ہوسکتا اس سے اعضاءکو نمو نہیں ہوتا اور نہ وہ بدل مایتحلل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی طرح کی باتیں استدلال میںپیش کرتے ہیںجن کا قائلین تغذیہ نے بھی انکار نہیں کیا وہ تو کہتے ہیںکہ پانی میںغذائیت اس کے جوہر اس کی لطافت ورقت کے مطابق ہوتی ہے اور ہر چیز اپنی حیثیت ہی سے مفید تغذیہ ہوسکتی ہے چنانچہ مشاہدہ ہے آہستہ خرام ٹھنڈی تازہ ہوا بدن کو بھلی لگتی ہے اور اپنی حیثیت سے وہ ہوا تغذیہ بدن کرتی ہے اسی طرح عمدہ خوشبو سے بھی ایک قسم کا تغذیہ ہوتا ہے اس بیان سے پانی کی غذائیت کی حقیقت منکشف ہوگئی۔
حاصل کلام یہ کہ جب پانی ٹھنڈا ہو اور اس میں شہد کشمش یا کھجور یا شکر کی شیرینی آمیز ہو تو بدن میں جانے والی تمام چیزوں میں سے سب سے زیادہ نفع بخش ہوگا اور اسی سے صحت کی حفاظت ہوگی اس لئے رسول اللہﷺ کو ٹھنڈا شیریں مشروب بہت زیادہ مرغوب تھا اور نیم گرم پانی نفاخ ہوتا ہے اور اس کے مخالف عمل کرتا ہے۔
باسی پانی پیاس کے وقت پینا بہت زیادہ نافع اور مفید ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ابو الہیثم بن التیھان کے باغ میں تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا کسی مشکیزہ میں باسی پانی ہے؟ ابو الہثیم نے باسی پانی پیش کیا آپ نے نوش فرمایا اس کو امام بخاریؒ نے روایت کیا ہے الفاظ یوں ہیں اگر کسی مشکیزہ میں باسی پانی موجود ہو تو ہم منہ لگا کر پی لیں۔
باسی پانی خمیر آرو کی طرح ہے اور اسے اپنے وقت سے نہار منہ پیاجائے تو افطار صوم کی طرح ہے دوسری بات یہ کہ رات بھر گزرنے کی وجہ سے باریک سے باریک اجزاءارضی تہ نشین ہوجاتے ہیں اورپانی بالکل صاف شفاف ہوجاتا ہے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ نبیﷺ کے لئے پانی شیریں کیا جاتا تھا اور آپ باسی پانی پینا پسند فرماتے تھے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ آپ کے پینے کے لئے پانی سقیا کے کنویں سے لایا جاتا۔
مشکیزوں اور مٹکوں کا پانی مٹی اور پتھر وغیرہ کے برتنوں میں رکھے ہوئے پانی سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے بالخصوص جب چمڑے کا مشکیزہ ہو اسی وجہ سے آپ نے چمڑے کے پرانے مشکیزے کا باسی پانی طلب فرمایا اور دوسرے برتنوں کا پانی آپ نے نہیں مانگا اس لئے کہ چمڑے کے مشکیزے میں جب پانی رکھا جاتا ہے تو وہ دوسرے برتنوں کے مقابل زیادہ لطیف ہوتا ہے اس لیے کہ ان مشکیزوں میں مسامات ہوتے ہیں جن سے پانی رستا رہتا ہے اسی وجہ سے مٹی کے برتن کا پانی جس سے پانی رستا رہتا ہے دوسرے برتنوں کے بہ نسبت زیادہ لذیذ ہوتا ہے اور زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے کیونکہ ہوا ان مسامات سے گزر کر اس کو ٹھنڈا کردیتی ہے چنانچہ اللہ کی رحمتیں اور درود نازل ہوں اس ذات پر جو مخلوق میں سب سے کامل سب سے زیادہ شریف النفس اور سب سے افضل طور پر رہنمائی کرنے والی ہے جنہوں نے اپنی امت کے سب سے زیادہ نفع بخش اور بہتر امور کی طرف رہنمائی کی جو قلوب واجسام اور دین ودنیا ہر ایک کے لئے بہت زیادہ مفید اور نافع ہیں۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیںکہ نبی کریمﷺ کو سب سے زیادہ مرغوب شیریںاور ٹھنڈا مشروب تھا اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد شیریں پانی ہو جیسے چشمے‘کنویں کے شیریں پانی ہوتے ہیں اس لئے کہ آپ کے سامنے شیریں پانی پیش کیا جاتا اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد شہد آمیز پانی ہو یا چھوہارے اور کشمش کا مشروب مراد ہو لیکن بہتر بات یہی ہے کہ اس سے دونوں ہی معنی مراد ہوں تاکہ یہ سب کو شامل ہوجائے۔
صحیح حدیث میںآپ کے اس قول :((ان کاعند ک ماءبات فی شن والا کرعنا))
یعنی (اگر تمہارے مشکیزہ کا باسی پانی موجود ہو تو ہم منہ لگا کر پی لیں)سے منہ لگا کر پانی پینے کا جواز نکلتا ہے خواہ پانی حوض کا ہو یا کسی مشکیزہ وغیرہ کا یہ کوئی خاص واقعہ ہو جس میں منہ لگا کر پانی پینے کی ضرورت پیش آئی ہو یا آپ نے اسے بیان جواز کے لئے ایسا کیا اس لئے کہ بہت سے لوگ اسے برا سمجھتے ہیں اور اطباءتو اسے حرام قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس سے معدہ کو نقصان پہنچتا ہے ایک حدیث جس کی صحت کا مجھے علم نہیں عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ہمیں پیٹ کے بل پانی پینے سے منع فرمایا اور یہی کرع ہے اور اس بات سے منع فرمایا کہ ہم ایک ہاتھ کے چلو سے پانی پئیں آپ نے فرمایا کہ تم میں کا کوئی کتے کی طرح پانی نہ پئے اور رات میں کسی برتن سے پانی نہ پئے یہاں تک کہ اسے اچھی طرح دیکھ بھال کرلے ہاں اگر وہ بر تن ڈھکا ہوا ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اور بخاری کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے اگر یہ حدیث ہو تو ان دونوں کے درمیان کوئی تعارض نہیں اس لئے کہ اس وقت شاید ایک ہاتھ سے پانی پینے میں دشواری ہوئی تھی اس لئے آپ نے فرمایا کہ ہم منہ لگا کر پانی پی لیں گے اور منہ سے پانی پینا اس وقت ضرر رساں ہے جب پینے والا اپنے منہ اور پیٹ پر جھکا ہو جیسے کہ نہر اور تالاب سے پانی پیا جاتا ہے لیکن اگر کھڑے ہوکر کسی بلند حوض سے منہ لگا کر پانی پیا جائے تو ایسی صورت میںہاتھ سے اور منہ لگا کر پانی پینے میں کوئی فرق نہیں۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS