Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

ریاضت جسم انسانی

آپ کی حرکت وسکون کا انداز یعنی آپ کی ریاضت کے سلسلے میں پوری ایک فصل بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کے طریقے کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ آپ کی ریاضت کا انداز نہایت درجہ کامل بہتر اور موزوں ترین تھا یہ بات بالکل واضح ہے کہ بدن اپنی بقاءکے لئے غذا ومشروب کا محتاج ہے اور غذا کا ہر جز وجزوبدن بن جائے ایسا بھی نہیں ہوتا بلکہ ہر ہضم کے موقع پر غذا کا کچھ نہ کچھ حصہ باقی رہ جانا ضروری ہے جب ہضم کا یہ پسماندہ حصہ جو جزوبدن نہیں ہو سکا تھا ایک مدت تک جمع ہوتے ہوئے بڑی مقدار میں اکٹھا ہوجاتا ہے اور اس کی کمیت کے ساتھ کیفیت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے تو پھر کمیت سے یہ نقصان ہوتا ہے کہ سدے پیدا کردیتا ہے اور بدن میں گرانی کا سبب بن جاتا ہے اس سے مرض احتباس پیدا ہوتا ہے اور اگر استفراغ کیا جائے تو بدن میں دواﺅں کی وجہ سے ہونے والے استفراغ سے اذیت پہنچ جاتی ہے اس لئے کہ مستتفرغ دوائیں اکثر تیز ہوتی ہیں یہاں تک کہ ان کی تیز ی اور سمیت دور دور تک سرایت کرجاتی ہے اور اس استفراغ سے بدن کے اچھے اجزاءبھی بدن سے خارج ہوجاتے ہیں اورکبھی کیفیت سے ضرر پہنچتا ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ بدن میں سخونت پیدا ہوجاتی ہے یا بدن متعفن ہو جاتا ہے یا کبھی بالکل سرد پڑ جاتا ہے یا اس کی کیفیت کے اثرات یہاں تک پہنچتے ہیں کہ حرارت غریزی اس کی پختگی نہیں کر پاتی۔
فضلات کے سد ے بہر حال نقصان دہ ہیں چھوڑ دئیے جائیں تب بھی اور اگر استفراغ کیا جائے تب بھی مضر ہیں اور فضلات کی افزائش کو روکنے میں سب سے زیادہ معاون حرکت انسانی ہے اس لئے کہ حرکت انسانی سے اعضاءمیں حرارت آجاتی ہے اور اعضاءسے فضلات اس حرارت کے باعث باہر نکل پڑے ہیں اور اس حرکت کی وجہ سے فضلات اور سدے بہت دنوں تک اکٹھا نہیں ہوپاتے اور بدن میں پھرتی اور نشاط جاری ساری ہوجاتی ہے اور اس میں غذا قبول کرنے کی صلاحیت ابھرتی ہے جوڑمضبوط ہوتے ہیں رگوں اور پٹھوں میں جان پڑجاتی ہے اور تمام مادی امراض سے رہائی ہوجاتی ہے اور اکثر امراض سوءمزاجی سے بھی نجات مل جاتی ہے بشرطیکہ ریاضیت مقررہ مقدار میں وقت متعین پر کی جائے اس سے دوسری تدابیر بھی درست ہوجاتی ہیں۔
ریاضت کا وقت غذ ا کے معدہ سے خالی ہوجانے اور پورے طور پر ہضم ہوجانے کے بعد ہی ہے اس معتدل ریاضت سے بشر ہ میں سرخی آجاتی ہے سانس بڑا ہو تا ہے اور بدن نم ہو تا ہے لیکن جس ریاضت میں پسینہ بہہ پڑے تو وہ مفرط ہے جس میں عضو کو بھی ریاضت میں لگادیا جائے اس سے اس کی قوت بڑھ جاتی ہے بالخصوص مذکورہ بالا طریقہ پر بلکہ ہر قوت کے لئے حرکت وریاضت ضروری ہے لہذا جو اپنے حافظ کو مشق پر لگا دے اس کا حافظہ قوی ہوجاتا ہے اور جو اپنی فکر کو کام میں لگا دے اس کی قوت مفکرہ قوی ہوجاتی ہے بدن کے ہر عضو کے لئے الگ الگ ریاضت کا انداز ہے سینے کے لئے تجوید قرآن ریاضت ہے اس میں ابتداءمدھم آواز سے شروع کرے پھر بتدریج آواز بلند کی جائے کان کی ریاضت بتدریج آواز کے سننے سے ہوتی ہے اور زبان کی ریاضت گفتگو کے ذریعہ اسی طرح نگاہ کی ریاضت دیکھنے سے اور پیروں کی ریاضت بتدریج آہستہ آہستہ چلنے سے ہو جاتی ہے لیکن گھو ڑ ے کی سواری، تیراندازی پہلوانی،کشتی اور دوڑنے میں مقابلہ سب جسم کی ریاضت ہیں اس سے مزمن (دائمی ) امراض ہمیشہ کے لئے جڑ سے ختم ہوجاتے ہیں جیسے جذام استسقاءاور قولنج وغیرہ ۔
نفس انسانی کی ریاضت کا طریقہ حصول علم وادب ، مسرت وشادمانی صبر واستقلال پیش قدمی اور سخاوت کا رخیر وغیرہ ہیں جن سے نفس کی ریاضت ہوتی ہے اور نفس کی سب سے بڑی ریاضت مستقل مزاجی محبت ، شجاعت اور احسان ہے چنانچہ ان چیزوں کے ذریعہ آہستہ آہستہ نفس کی ریاضت برابر ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ یہ صفات نفوس انسانی میں راسخ ہوجاتی ہیں اور ملکات کی حیثیت اختیارکرلیتی ہیں ۔
اب اگر اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کو بہ نظر غائر دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کا طریقہ حفظان صحت اور حفظان قوی کا اعلی ترین فارمولہ ہے اور اسی سے سعادت دار ین بھی وابستہ ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ نماز فی نفسہ حفظان صحت کا اعلی اصول ہے اس کی ادائیگی سے اخلاط جسم انسانی اور فضلات ردیہ میں کمی آتی ہے اور یہ چیز بدن کے لئے مفید ترین ہے مزید برآں ایمان کی حفاظت اور اس کی تقویت بھی اس سے حاصل ہوتی ہے اور سعادت دار ین کا راز مضمر ہے اسی طرح رات کو نماز پڑھنا حفظان صحت کا اعلی ترین ذریعہ ہے اور امراض مزمنہ میں سے اکثر کو روکنے کے لئے مفید ترین نسخہ ہے اور اس سے بدن روح اور دل میں نشاط پیدا ہوتا ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ©:
”شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر تین گرہ لگاتا ہے جب وہ سو تا ہے اور ہر گرہ پر پڑھتا ہے کہ رات گہری لمبی ہے سوتے رہو اگر اس نے بیدار ہو کر اللہ کو یاد کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر اگر وضو کرلیا تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر اس نے نماز پڑھ لی تو پھر ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور سونے والا چاق وچوبند ہو جاتا ہے اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو نفس کی خباثت کے ساتھ طبیعت میں کسل پیدا ہو جاتا ہے“
شرعی روزے کے حفظان صحت کے لئے مفید ہونے اورنفس اور بدن دونوں ہی کے لئے بہترین ریاضت ہونے کا کون انکار کرسکتا ہے جس کوبھی عقل سلیم ہوگی وہ اس کی خوبیوں کا بہر حال اعتراف کرے گا۔
اسی طرح جہاد کو دیکھئے کہ اس میں کتنی حرکات وریاضت ہیں جن سے جسم انسانی میں قوت پڑتی ہے اور یہ حفظان صحت بدن ودل کی پختگی اور ان دونوں کے فضلات ردیہ کو خارج کرنے کا بہترین طریقہ ہے اور اسی سے رنج وغم اور حزن وملال دور ہوتا ہے جس کی اہمیت صرف خوش نصیب لوگ ہی سمجھ پاتے ہیں اسی طرح سے حج اور اس کے اعمال قربانی گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ ، نیزہ بازی، تیراندازی ، اور ضروریات زندگی کے لئے چلنا پھرنا بھائیوں کی خبر گیری ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان میں سے بیمار لوگوں کی مزاج پرسی اور ان کے جنازوں کو کندھا دے کر مدفن تک پہنچانے کا حال ہے اور ایسے ہی جمعہ اور دوسری نمازوں کی جماعت میں شرکت کرنے کے لئے مسجدوں تک چل کر آنا جانا وضو اور غسل کرنا، حرکات وغیرہ۔
دیکھا آپ نے کہ یہ وہ ریاضتیں ہیں جن سے حفظان صحت کے اصول کی نشاندہی ہوتی ہے ایک مسلمان کی صحت ان ریاضتوں اور اعمال کے ذریعہ باز یاب ہوتی ہے جسم سے غیر ضروری فضلات خارج ہوتے ہیں تو دنیا وی منافع رہے پھر اس کی شریعت محمدی اور دنیا وآخرت کی بھلائیوں تک پہنچنے کے لئے بنایا اور آخرت کے شرور کے بچنے کا ذریعہ بنایا یہ مستزاد منافع ہیں۔
اس بیان سے آپ کو بخوبی معلوم ہوگیا ہو گا کہ آپ کی سنت میں معروف طب سے کہیں زیادہ دلوں اور جسموں کی حفاظت اور صحت کے لئے نسخے موجود ہیں اور اسی طریقہ نبوی کو اپنا کر حفظان صحت ممکن ہے اور دلوں اور جسموں کی جملہ بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے جس کو پیغمبر کے علم بالغ وہدایت کامل کا یقین ہو گیا وہ جانتا ہے کہ اس سے آگے کوئی دوسرا راستہ خیر اور بھلائی کا نہ جسم کے لئے نہ قلب کے لئے نہ قلب کے لئے اور دنیا وآخرت کے دوسرے مراحل کے لئے ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS