ماہرین اطباء سے رجوع کرنے کے بارے میں ہدایا ت نبوی ﷺ

امام مالکؒ نے اپنی کتاب ”مو طا“ میں زید بن اسلم کی حدیث نقل کی ہے۔
نبی کریم ﷺ کے مبارک دور میں ایک شخص کو زخم آگیا اور اس زخم سے خون بہنے لگا۔ اس نے بنی انمار کے دو آدمیوں کو بلوایا انہوں نے مریض کو دیکھا تو انہوں نے سمجھا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ان سے دریافت کیا ہے کہ ان میں سے فن طب میں کون زیادہ ماہر ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ اے رسو ل اللہ ﷺ کیا طب میں بھی خیر ہے آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بیماری نازل کی ہے اسی نے اس کی دوا بھی نازل کی ہے“۔
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہر علم و صنعت میں اس کے سب سے زیادہ ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اور کئی ایک ماہر ہوں تو ان میں جو سب سے زیادہ ماہر ہو اس سے رجوع کیا جائے اس لیے کہ وہ جو کچھ کرے گا مناسب سے مناسب ترین ہوگا۔ اسی طرح مستفتی پر بھی واجب ہے کہ کسی مسئلہ کے دریافت کرنے کے لیے کسی ماہر عالم سے رجوع کرے اگر وہ خود عالم ہو تو اپنے سے بڑے عالم کی جانب رجوع کرے اس لیے صحت جواب میں اپنے علاوہ سے بہتر ہوگا۔
اسی طرح سے جس پر قبلہ کا تعین مشکل ہو تہ وہ اپنے سے زیادہ واقف کار کی بات کو تسلیم کرے اور یہی فطرت انسانی ہے۔ جس پر باری تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا دیکھنے میں آیا ہے کہ بحروبر میں سفر کرنے والے کی طبعیت اور دل کو سب سے زیادہ سکون و اطمینان ماہر رہنما اور بہتر واقف کار ہی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ انسان کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی پر اسے اعتماد ہوتا ہے۔ اسی شریعت، عقل اور فطرت سب کا اتفاق و عمل ہے۔
آپ ﷺ کا یہ قول یعنی جس ذات نے بیماری نازل کی اس نے اس کی دوا بھی اتاری اس انداز پر تو آپ سے مروی متعدد احادیث موجود ہیں ان میں ایک حدیث ہے جس کو عمر بن دینار نے ہلال بن یساف سے روایت کیا ہے ملاحظہ کیجیے۔
”نبی ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے آپ نے فرمایا کہ طبیب کو بلا کر اسے دکھاﺅ ایک شخص نے عرض کیا اے رسول اللہ ﷺ آپ یہ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں اللہ نے کوئی بیماری نہیں پیدا کی مگر اس کی دوا بھی ساتھ ہی نازل فرمائی“۔
اور صحیحین میں حضرت ابو ہریرہؓ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے۔
”اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں پیدا کی جس کی شفاءنہ پیدا کی ہو“
یہ اور اس جیسی دیگر احادیث پہلے گذر چکی ہیں۔
کے بارے میں اختلاف رہا ایک جماعت نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو اس سے روشناس کرایا، یہ مفہوم ذرا درست معلوم ہوتا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عمومی طور پر دوا اور بیماری کی خبر دی ہے یہ خبر عام ہے لیکن اکثر لوگ اس سے ناواقف ہیں اسی وجہ سے کہا گیا کہ اہل علم نے اسے جان لیا اور جاہل اس سے ناواقف ہی رہے۔
ایک دوسری جماعت کہتی ہے کہ (انزل) سے مراد اس کی تخلیق اور اس کے روئے زمین پر اس کا نمو ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کا بیان ہے۔
”اللہ نے کوئی بیماری نہیں پیدا کی مگر اس کی دوا بھی وہیں رکھ دی“۔
یہ مطلب پہلے مطلب سے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کیونکہ انزال کا لفظ خلق اور وضع کے لفظ سے زیادہ اخص ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ خصوصیت لفظ کسی سبب کے نظر انداز کردیا جائے۔
تیسری جماعت کا خیال ہے کہ دوا اور بیماری کا انزال ان فرشتوں کے ذریعہ کیا گیا جو انسان کی بیماری اور شفاءکے انتظام کے لیے متعین ہیں اس لیے کہ فرشتے کو اس عالم کا نظام سپرد کردیا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ انسان جو اس عالم ہی کی مخلوق ہے، اس کا معاملہ رحم مادر میں آنے سے لے کر اس کی موت تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ بھی انہیں فرشتوں کے سپرد ہوگا اسی طرح جو بیماری ہو یا اس کی دوا دونوں انہی فرشتوں کے ذریعے انجام پائے گا۔ جو نوع انسانی کے امور متعلقہ کے لیے موکل ہیں۔ اور یہ دونوں مذکورہ جماعتوں کے مفہوم سے بہتر مفہوم معلوم ہوتا ہے۔
چوتھی جماعت کا قول ہے کہ بیماریاں اور دوائیں عام طور سے بارش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ اور جس کی وجہ سے غذائیں، ذریعہ معاش، دوائیں اور بیماریاں اور ان کے تمام آلات و اسباب و مکملات اور بلند ترین معاون جو پہاڑوں سے نازل ہوتی ہیں۔ اور وادیاں نہریں پھل جو پیدا ہوتے ہیں۔ سب کے سب اسی بارش سے پیدا ہوتے ہیں۔ چونکہ کائنات کا اکثر حصہ یہی سموات ہیں۔ اس لیے جن کا تعلق براہ راست آسمان سے نہیں ہے۔ وہ بھی بطور تغلیب اسی میں شمار ہوتی ہیں۔ اور بطور تغلیب استعمال عربوں کی زبان میں عام ہے چنانچہ بعض اشعار اہل عرب سے اس کی شہادت ملتی ہیں۔ جیسے ایک شاعر کا قول ہے:
میں نے اسے گھاس چرایا اور ٹھنڈا پانی پلایا        یہاں تک کہ اس کی آنکھیں برسنے لگیں
ایک دوسرے شاعر کا قول ہے:
میں نے تمھارے شوہر کو کل دیکھا کہ وہ        تلوار لٹکائے اور نیزہ تانے ہوئے ہے
ایک اور شاعر کہتا ہے:
ایک دن تمام گانے والیاں نکل پڑیں        اور اپنی ابرو اور آنکھوں کو مٹکانے لگیں
یہ اوپر بیان کی گیئں تمام صورتوں سے بہتر صورت ہے۔ واللہ اعلم
اللہ رب العزت کی حکمت کاملہ کا مظہر ہے اور اس کی ربوبیت تامہ کا اعلان ہے کہ اس نے جس طرح اپنے بندوں کو بیماری میں مبتلا کیا اسی طرح اس نے ان کی دوا سے اعانت فرماکر انہیں مسرور ہونے کا موقع بھی دیا۔ جیسے اس نے بندوں کو گناہ میں مبتلا فرمایا ویسے ہی دوسری طرف انہیں توبہ و استغفار کی دولت سے نوازا اور وہ حسنات عطا فرمائیں جو ان گناہوں کو مٹادیں اور مصائب و آلام عطا فرمایا جن سے ان کے گناہ دھل جائیں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ارواح خبیثہ میں مبتلا کیا اسی طرح ان کے مقابل پاکیزہ روحوں کی فوج کے ذریعہ ان کی اعانت فرمائی۔ جو ملائکہ مقربین کے نام سے معروف و مشہور ہیں۔ اللہ نے اگر انسان کو شہوات کا پتلا بنایا۔ تو دوسری جانب ان کی اعانت اس طرح فرمائی کہ انہیں لذات اور قضائے خواہشات کی دولت سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ نے جب کسی انسان کو کسی اذیت کے خلاف اعانت فرمائی اور اس سے اس کو نجات دلائی ہر جارح قوت کی مدافعت کی بھی پوری قوت عطا فرمائی اور علم کے اعتبار سے انسان میں تفاوت اور فرق قائم رکھا، اور اللہ نے ان ساری چیزوں کے حصول اور ان تک پہنچنے کا علم عطا فرمایا۔