Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

طب نبوی مرض عشق کا علاج نبوی ﷺ

طب نبوی

مرض عشق کا علاج نبوی ﷺ

عشق کا شمار امراض قلب میں ہوتاہے جو اپنے وجود اسباب اور علا ج تینوں اعتبار سے دیگر امراض سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے جب یہ دل میں راسخ ہوجاتا ہے اور پوری طرح گھر کرلیتا ہے تو اس کا علاج اطباءکے لئے دشوار ہوجاتا ہے اور خود مریض بھی اس بیماری سے برگشتہ نظر آتا ہے۔
عشق کا ذکر خود اللہ تعا لی نے قرآن مجید میں دوگروہوں کے متعلق کیا ہے ایک عورتوں سے عشق اور دوسرا مردبچوں سے عشق پہلے قسم کا معاشقہ حضرت یوسف علیہ السلام سے عزیز مصر کی بیوی زلیخا کی والہانہ شیفتگی سے متعلق ہے اور دوسرا عشق کا تعلق قوم لوط سے ہے چنانچہ اللہ تعا لی نے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
”اور شہر والے فرشتوں کی حسین صورتیں دیکھ کر ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہوئے آئے حضرت لوط نے فرمایا کہ یہ میرے مہمان ہیں لہٰذا مجھے رسوانہ کرو ااور اللہ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تم کو تمام دنیا کے (لوگوں کی مہمانیوں) سے منع نہیں کیا تھا؟لوط نے کہا کہ یہ میری لڑکیاں حاضر ہیں، اگرتم کرنا چاہتے ہو (تو ان سے عقد کرلو)تو جان کی قسم وہ اپنی مستی میں جھوم رہے تھے“۔
اور بعضوں نے جن کو رسول اللہﷺ کے مرتبت ومنزلت کا صحیح طورپر علم نہیں آپ پر افترءپردازی کی کہ آپ کو زینب بنت حجش سے عشق ہوگیا تھا اور آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا سبحان اللہ مقلب القلوب،اے دلوں کے پھیرنے والے خداتوپاک ہے اور زینب کو دل دے بیٹھے اور زید بن حارثہ سے فرمایا کہ زینب کو روکے رکھو یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ پر یہ آیات نازل فرمائیں۔
”اور جب تو اس شخص سے جس پر اللہ نے اور تم نے انعام کیا ہے کہہ رہا تھا کہ تو اپنی بیوی کو روک رکھ اور خدا سے ڈر اور تو اپنے دل میں اس بات کو چھپا رہا تھا جس کو (آخرکار) اللہ ظاہر کرنے والاتھا اور تو (اس کے اظہار میں) لوگوں سے ڈرتا تھا حالانکہ اللہ تعالی زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو“
اسی آیت کو سامنے رکھتے ہوئے بعض لوگوں نے یہ بد گمانی کی ہے کہ یہ شان عشق محمدی سے ہے، اور بعضوں نے تو غضب ہی کردیا کہ عشق پر پوری ایک کتاب ہی لکھ ڈالی، جس میں انبیاءکے عشق کا ذکر کیا، اور اسی کی مناسبت سے اس واقعہ کو بھی بیان کیا، حالانکہ یہ بات اس کے قائل کی جہالت ونادانی اور قرآن سے ناواقفیت اور منزلت انبیاءورسل سے بے بصیرتی پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے قرآن کے حقیقی مفہوم کو بدل کر ایک دوسری بات لکھ دی اور رسول اللہﷺ کی طرف ایسی بات کی نسبت کی جس سے خدا نے آپ کی برات ظاہر کی ہے، اس لئے کہ زینب بنت حجش ؓحضرت زید بن حارثہ ؓکی بیوی تھیں، جن کو نبی اکرمﷺنے بیٹی بنالیا تھا چنانچہ ان کو زید بن محمد کے نام سے پکارا جانے لگا اور زینب چونکہ اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، اس لئے ان کے اندر شان رفعت کے آثار موجود تھے اور حضرت زید بن حارثہ ؓبھی اسی کو محسوس کرتے تھے اسی لئے انہوں نے ان کی طلاق کے متعلق نبی اکرمﷺ سے مشورہ کیا،رسول اللہﷺ نے ان سے اس موقعہ پر فرمایا:
”اپنی بیوی کو اپنے پاس روک رکھو اور اللہ سے ڈرو“
اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر زید نے ان کو طلاق دے دی تو میں خود اس سے شادی کرلوں گا البتہ ذہن میں یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر میں شادی کرلوں گا تو لوگ چہ میگوئیاں کریں گے کہ لیجئے پیغمبر نے اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کرلی اس لیے کہ زید آپ کے بیٹے مشہور تھے، یہی وہ بات تھی جس کو آپ نے اپنے دل میں چھپایا تھا، اوریہی خدشہ لوگوں سے آپ کو در پیش تھا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں اپنی عطاکردہ نعمتوں کا شمار کرایا اور آپ پر معاتبہ نہیں کیا بلکہ آپ کو آگاہ کیا کہ جس چیز کو خدا نے آپ کے لئے حلال کردیا، اس بارے میں آپ کو لوگوں سے نہیں ڈرنا چاہیے اور صرف خدا ہی سے ڈرنا چاہیے، پھر جب خدا نے ایک چیز کو حلال کردیا تو پھر اس بارے میں لوگوں کی چہ میگوئیوں کا کوئی اندیشہ آپ اپنے دل میں نہ لائے اس کے بعد خدا نے اطلاع دی کہ زید کے ترک تعلق کے بعد پورے طورپر زینب بنت حجش کو آپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ امت محمدیہ اس راہ پر چلنے میں آپ کی تابعداری کرے اور جو چاہے اپنے (لے پالک) بیٹے کی بیوی سے شادی کرے البتہ اس کے اپنے حقیقی لڑکے کی بیوی سے نکاح کرنا جائز نہیں اس کی تحریم کے لئے اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی:
”اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام کردی گئیں ہیں“
اوردوسری سورة میں فرمایا:
”اور محمدﷺ تم میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں“
اسی سورة کے شروع میں فرمایا©
”اور اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہاراصلبی بیٹا نہیں بنایا یہ تو تمہاری اپنی منہ سے نکالی ہوئی باتیں ہیں۔“
رسول اللہﷺ سے اس دفاع کو سمجھنے کی کوشش کرو اور الزام تراشوں کی الزام تراشی کا جو دفاع ہم نے کیا ہے اس پر ذرا غور وفکر کرو۔
یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہﷺ ازواج مطہرات سے والہانہ محبت فرماتے تھے اور ان میں سب سے زیادہ محبوب عائشہ صدیقہ ؓتھیں،لیکن ہر ایک سے محبت کی ایک حد تھی، خواہ عائشہ ؓہوں یا کوئی اور ان کی محبت کو وہ مقام حاصل نہ تھا، جو محبت آپ کو باری تعالی سے تھی آپ سے یہ صحیح طورپر ثابت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
”اگر میں اہل مدینہ میں سے کسی کو دوست بناتا توابوبکر کو اپنا دوست بناتا“۔
”بیشک تمہارا ساتھی تو رحمن کا دوست ہے“۔

طب نبوی مرض عشق کا علاج نبوی ﷺ
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS