یہودیہ کے اس جادو کا طریقہ علاج نبوی ﷺ جو آپ پرکیا گیا تھا

ایک جماعت نے اس کا انکار کیا اور یہ کہہ بیٹھے کہ رسول اللہ ﷺ کے مسحور ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں رسو ل پر جادو کا اثر ہونا عیب اور نقص ہے، حالانکہ ان کے خیال کے مطابق بات نہیں ہے اس لیے کہ آپ کو امراض اور اسقام سے بھی سابقہ پڑتا تھا، اور یہ بھی ایک مرض ہی ہے۔ اور چونکہ آپ بشر ہی تھے۔ اس لیے آپ پر جادو کا اثر نہ ہو نا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ جب آپ پر زہر کا اثر ہوسکتا ہے تو پھر جادو کا اثر نہ ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ اور یہ بات صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہو چکی ہے۔
”حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا گیا جس کا اثر یہ ہوا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مباشر ہوئے حالانکہ آپ ان کا ساتھ ہم بستر نہ ہوتے یہ جادو کا شدید ترین اثر تھا“
قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ جادو ایک بیماری ہے۔ اور اس کا تعلق ان بیماریو ں سے ہے جس میں آپ کا مبتلا ہونا قابل تعجب نہیں۔ جس طرح دوسری بیماریاں آپ کو ہوتی تھیں۔ ویسے ہی جادو بھی آپ پر اثر کرتا تھا۔ اس سے مرتبہ نبوت میں کوئی نقص نہیں پیدا ہوتا۔ اور آپ کا یہ خیال کرنا کہ آپ نے یہ کام کیا، حالانکہ آپ سے وہ عمل سرزد نہ ہوتا تھا۔ اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو نی چاہیے کہ آپ کی خبر نبوت کی صداقت میں بھی کسی طرح کی آمیزش ممکن ہے۔ کیونکہ اس کی صداقت پر واضح دلائل شاہد ہیں۔ اور آپ کی عصمت پر اجماع امت موجود ہے۔ یہ صورت سحر تو آپ کے دنیاوی معاملات سے پیش آتی جس کے لیے آپ کی بعثت نہ تھی۔ اور نہ آپ کی برتری ان دنیاوی معاملات پر مبنی تھی، دنیاوی معا ملات میں تو دوسرے انسانوں کی طرح آپ پر بھی افتاد آتی جاتی تھی۔ پھر اگر دنیاوی معاملات آپ کو ایسی صورت میں پیش کرنے کی جو حقیقت ہے۔ اس کے برعکس آپ کا سوچنا اور خیال کرنا کچھ بعید نہیں پھر تھوڑی دیر کے بعد ہی آپ پر حقیقت آئینہ ہوجاتی تھی۔
 الغرض یہاں صرف علاج سحر کی بابت آپ کا طریقہ علاج کا ذکر کرنا ہے۔ جسے آپ نے خود کیا یا دوسروں کو اسکی ہدایت فرمائی، اس سلسلے میں دو طرح کی روایتیں آپ سے بیان کی گئی ہیں۔
پہلی صورت میں جو سب سے بہتر ہے وہ یہ کہ مادہ سحر کو نکال دیا جائے اور اسکے اثر کو زائل کر دیا جائے۔
جیسا کہ صحیح روایت میں منقول ہے۔ کہ اس کے بارے میں آپ نے اللہ تعالی سے دریافت فرمایا تو اللہ نے اس کے مقام اور اداة کی طرف رہنمائی کی۔ چنانچہ وہ ایک کنویں سے نکالی گئی۔ یہ سحر ایک کنگھی، چند بالوں اور کھجور کے کھوکھلے خوشوں پر کیا گیا تھا۔ جب اسے کنویں سے نکال دیا گیا تو آپ سے جادو کا اثر جاتا رہا یہاں تک کہ آپ بندش سے آزادی محسوس کرنے لگے کسی مسحور کا علاج اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے کہ جادو کی بنیاد ہی ختم کر دی جائے۔ یہ طر یقہ علاج اس طرح کے مماثل ہے جس میں بذریعہ استفراغ مادہ خبیثہ کو جسم سے بالکل ختم کر دیا جائے۔
دوسری صورت وہ جس میںسحر کے اس مقام کا استفراغ کیا جاتا ہے۔ جہاں سحر کی تکلیف کا اثر ہوتا ہے۔ اسلئے کہ جادو کا طبیعت پر اثر انداز ہونا ایک حقیقت ہے۔ جادو سے طبیعت پر ایک اثر ہوتا ہے۔ اور اسکے اخلاط میں ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ اور مریض کا مزاج مختل ہوکر رہ جاتا ہے۔ جب کسی عضو میںسحر کا اثر نمایاں ہو تو اس عضو سے ردی مادہ کا استفراغ ممکن ہو جاتا ہے۔ اور اس سے غیر معمولی فائدہ پہنچتا ہے۔
ابو عبید نے اپنی کتاب غریب الحدیث میں اپنی سند سے عبدالرحمن بن ابی یعلی کے واسطہ سے ایک حدیث ذکر کی ہے۔
”کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگیاں کھنچوائیں جب کہ آپ پر جادہ کیا گیا۔ ابو عبید نے طب کا معنی بیان کیا یعنی سحر کیا گیا“
اس طریقہ علاج پر کم عقلوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ حجامت اور جادو ان دونوں یعنی مرض او ر دوا میں کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا اگر اس طریقہ علاج کو بقراط اور ابو علی سینا نے بیان کیا ہوتا تو یہ اسے فوراً قبول کرکے اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے حالانکہ یہ اس عظیم المرتبت کا بتایا ہوا طریقہ علاج ہے۔ جس کی دانائی اور فضل میں کوئی دو رائے نہیں۔
آپ اس پر غور کیجئے کہ اس سحر کے مادہ سے رسول اللہ ﷺ کو جو نقصان پہنچا تھا وہ صرف آپ کے دماغ کی ہی ایک قوت کو پہنچا تھا۔ بایں طور کہ آپ جو کام نہ کرتے تھے اس کے کرنے کا گمان ہوتا تھا۔ گویا ساحر نے آپ کی طبیعت اور مادہ دمویہ میں تصرف کردیا تھا۔ چنانچہ اس مادہ کا غلبہ آپ کے بطن مقدم پر ہوگیا جو مقام تخیل ہے۔ اور اس غلبہ کی بنا پر آپ کی طبیعت اصلیہ کا مزاج بدل گیا تھا۔
سحر: ارواح خبیثہ کی تاثیرات کا ایک مرکب ہے۔ جس سے انسان کے مقدم قوائے طبعی متاثر ہوتے ہیں۔ اور یہ جادو کی اعلی ترین تاثیر ہے بالخصوص آپ پر جو سحر کیا گیا تھا اس کا مقام سحر تو سب سے زیادہ خطرناک تھا اور حجامت کا ایسے موقع پر استعمال کرنا جس سے آپ کے افعال کو ضرر پہنچا تھا، سب سے عمدہ طریقہ علاج ہے۔ اگر اسے دستور قاعدہ کے مطابق استعمال کریں۔
بقراط کا مقولہ ہے کہ جب چیزوں میںاستفراغ کرنا ممکن ہے۔ ان میں ایسی جگہ سے استفراغ کرنا چاہیے جہاں مادہ موجود ہو۔ ایسے مناسب طریقہ علاج سے جب سے استفراغ کیا جاتا ہے۔
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب یہ بیماری ہوئی جس میں آپ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ میں نے فلاں کام کر لیا ہے۔ حالانکہ آپ نے ایسا نہیںکیا تھا تو یہ مادہ دموی کی وجہ سے ہے۔ یا اس کے علاوہ کسی دوسرے ایسے مادہ کی بنا پر ہے۔ جو دماغ کی جانب چل پڑا۔ اور بطن مقدم پر غالب آگیا چنانچہ اس کا طبعی مزاج دیا۔ ایسی صورت میں حجامت کا استعمال سب سے کارگر علاج اور سب سے نافع دوا ہے۔ اس لیے آپ نے پچھنا لگوایا اور یہ طریقہ علاج آپ نے اس وحی سے پہلے کیا تھا۔ جس میں آپ کو اس کے سحر ہونے کی خبر دی گئی۔ جب آپ نے اس وحی سے پہلے کیا تھا۔ جس میں آپ کو اس کے سحر ہونے کی خبر دی گئی۔ جب آپ کو سحر ہونے کو خبر بذریعہ وحی الہی ہوئی تو آپ نے علاج حقیقی یعنی اس جادو کا بنیاد سے ختم کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔ آپ نے اللہ تعالی سے دریافت کیا تو آپ کو وہ جگہ اور چیزیں بتلا دی گئیں جن میں یہ سحر کیا گیا تھا آپ نے انہیں اس جگہ سے نکال پھینکا اس کے بعد آپ بالکل تندرست ہوگئے۔ جیسے کوئی اونٹ جو رسی سے جکڑا ہو رسی کھولنے کے بعد آزاد ہوجاتا ہے۔ اس جادو کا اثر آپ کے جسم، ہاتھ، پیر، تک محدود تھا۔ اس کا آپ کی عقل اور دل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی وجہ سے اس خیال کو جو ازواج کے پاس آنے جانے کے سلسلے میںآپ کو آتا اسکی صحت کا آپ کو یقین نہ ہوتا بلکہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ یہ ایک دہم ہے، اسکی کوئی حقیقت نہیں۔ اسی قسم کے صورت بعض دیگر امراض میں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں۔