Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

طب نبوی ﷺ کی اہمیت و افادیت

ہم نے اس کتاب میں فن طب کے علمی وعملی اجزاءپر سیر حاصل بحث کی ہے۔ غالبًا قارئین کی علمی تشنگی اس کتاب کے مطالعہ سے ہی دور ہوجائے گی‘اورہم نے طب نبوی اور شریعت اسلامی کے قریبی تعلق کو بھی وضاحت کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کردیا ہے۔اور یہ بات متحقق ہوکر سامنے آگئی ہے کہ طب نبوی موجود طب کے مقابل اسی حیثیت کی حامل ہے۔جو حیثیت موجودومدون فن طب کو فہموں کا رول اور کاہن گروں کے طب کے مقابل حاصل ہے۔
بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ طب نبوی کا مقام اس سے کہیں بلند وبالا اور بڑھ چڑھ کر ہے جس کو ہم نے اس کتاب میں بیان کیا ہے تو بے جا نہ ہوگا ہم نے بہت اختصار سے کام لیا ہے۔لیکن یہ مسئلہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے بہت تفصیل طلب ہے۔جس کو اللہ تعالی نے تفصیلی بحث کرنے کی توفیق نہیں عطا فرمائی اس کو کم ازکم یہ بات تو ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ وہ قوت جس کی تائید اللہ کی طرف سے براہ راست وحی کے ذریعہ کی گئی ہے‘اور وہ علوم جن سے اللہ تعالی نے انبیاءکرام کونوازہے۔اور وہ دانائی‘زیرکی اور فہم وفراست جسے اللہ نے ان کو عطا کیا ہے۔ان کا دوسرے لوگوں کے علوم اورفہم وفراست سے کیا مقابلہ ہوسکتاہے۔
ممکن ہے کوئی یہ کہنے کی جسارت کرے کہ یہاں رسول اللہﷺ کی ہدایت کی کیا حیثیت ہے۔اور اس باب میں ان کا کیا تعلق‘دواﺅں کی قوت وتاثیرات‘قوانین علاج اور حفظان صحت کی تدبیروں میں رسول اللہﷺ کے فرمودات کیا حیثیت رکھتے ہیں؟
مگر یہ ساری باتیں کم عقلی کی بنیاد پر ہیں کہ قائل نبی کریمﷺ کے پیش کردہ طریقے آپ کی رشد وہدایت اور بتائی ہوئی چیزوں کے سمجھنے سے قاصر رہا۔ اس لئے کہ رسول اللہﷺ کے فرمودات وہدایت کو سمجھنا ان جیسے ہزاروں کی سمجھ‘عقل وخرد سے کہیں بالا تر ہے‘آپ کی رشدو ہدایت‘رہنمائی کو بخوبی سمجھ لینا یہ تو خاص باری تعالیٰ کا ایک عظیم عطیہ ہے‘جو ہر ایک کو حاصل نہیں یہ اللہ کی دین ہے‘وہ جس کو چاہے عطا کرے۔
ہم نے فن طب کے اصول ثلاثہ کا ذکر قرآن سے پیش کردیا ہے۔پھر آپ کیسے اس کا انکار کرسکتے ہیں کہ شریعت جو دنیا آخرت کی بھلائی کے لئے دنیا میں آئی ہے۔وہ اصلاح قلوب کے ساتھ بدن کی اصلاح بھی کرتی ہے۔اور صحت جسمانی کی نگہبان ہے۔اور کلی طور پر تمام جسمانی آفات کا دفاع کرتی ہے‘اس شریعت کی تفصیل عقل صحیح اور فطرت سلیمہ کے سپرد کردی گئی ہے کہ وہ قیاس‘تنبیہ اور ارشادات سے کام لے کر حفظان صحت کا نظم برقرار رکھے جس طرح کہ اس عقل سلیم کے حاملین نے بہت سے فقہ کے فروعی مسائل پر قابو پانے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح کا اعتراض اور انکار حقیقت کرکے آپ بھی ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو کسی چیز کی حقیقت سے ناواقفیت کی بنیاد پر اس پر اعتراض کرنے کے خوگر ہوتے ہیں۔
اگر کسی بندے کو قرآن مجید اور احادیث نبویہ کے علوم کا وافر حصہ مل جائے۔اور نصوص والوازم نصوص کی فہم کامل نصیب ہوجائے تو وہ دیگر تمام علوم سے مستثنٰی ہوجائے گا ۔اور ان ہی علوم سے وہ تمام علوم صحیحہ کا استنباط کرے گا‘ لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام علوم کے عرفان کا دارومدار معرفت الٰہی‘امر باری اور خلق الٰہی پر ہے۔اور یہ تینوں چیزیں انبیاءورسل کو ہی صرف حاصل ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے۔کیونکہ انبیاءکرام علیہم السلام ہی سب سے بڑے عارف باللہ‘عارف امر الٰہی عارف خلق الٰہی اور امروخلق الٰہی میںاللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے شناسا ہوتے ہیں۔اس لئے ان انبیاءکرام کے پیروکاروں کا طریقہ علاج دوسرے تمام طریقہ سے زیادہ صحیح‘مفید اور زود اثر ہوتا ہے۔اور خاتم الانبیاءسید الرسل اور امام المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کے پیروکاروں کا طریقہ علاج ان انبیاءمیں سب سے کامل سب سے بہتر اور نفع بخش ہے‘اور اس حقیقت سے وہی آشنا ہوسکتا ہے‘جس کا ان طریقہ ہائے علاج اور انبیاءکے طریقہ علاج کی معرفت حاصل ہو اور جو ان دونوں کے درمیان موازنہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہو‘چنانچہ موازنہ کرنے کے بعد ان دونوں کے درمیان جو ظاہری فرق ہے واضح ہوجائے گا کہ انبیاءکرام علیہم السلام ہی امت میں عقل وفطرت اور علم کے اعتبار سے صحیح تر اور بڑھے ہوئے ہیں اور ان ہی لوگوں کو قرب الٰہی بھی پورے طور پر حاصل ہے۔اس لےے کہ انبیاءکرام علیہم السلام اللہ کے برگزیدہ لوگ ہیں جیسا کہ ان کا رسول بھی تمام انبیاءکرام میں سب سے برگزیدہ ہے۔اور انبیاءکرام کو جو علم‘ حکم وحکمت کا وافر حصہ عطا کیا گیا ہے۔اس کا مقابلہ کسی دوسرے سے کیسے کیا جاسکتا ہے۔
چنانچہ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند میں بہز بن حکیم سے روایت کی ہے جس کو ھبزا نے اپنے والد حکیم سے اور ان کے والد ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں‘کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
”تم لوگ ستر امتوں کے خاتمہ پر وجود میں آئے ہو تم لوگ اللہ کے نزدیک ان امتوں میں سے سب سے برگزیدہ اور افضل ہو“۔
چنانچہ اس امت کی فضیلت وبزرگی کے اثرات ان کے علوم اور عقول کے ذریعہ دنیا کے سامنے نمایاں کردیا‘اور یہ وہی لوگ ہیں‘ جن پر اللہ تعالیٰ نے امم سابقہ کے علوم وعقول‘ اعمال ودرجات ظاہر کردیئے جن کو دیکھ کر یہ لوگ علم وعقل اور حلم وتدبیر سبھی چیزوں میں امم سابقہ سے سبقت لے گئے یہ محض اللہ کی عنایت اور باران رحمت الٰہی کا نتیجہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت محمدیہ کے دانشوروں کا مزاج دموی ہے‘ اور یہودکا مزاج صفراوی ہے۔اور نصاری کا مزاج بلغمی ہے۔اسی وجہ سے نصاری پر کند ذہنی‘کم عقلی اور نادانی کا غلبہ رہا۔اور یہود رنج وغم حزن وملال اور احساس کمتری کے ہمیشہ شکار رہے اور مسلمانوں کو عقل وشجاعت‘زیرکی دانائی‘مسرت وشادمانی عطا کی گئی۔
یہ اسرار ورموز اور مسلمہ حقائق ہیں‘جن کو صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے۔جو بہتر فہم وفراست والا‘ روشن ذہن اور راسخ علم کا حامل ہوگا۔اور اس بات سے بھی واقف ہوگا کہ دنیا کے پاس اصل سرمایہ کیا چیز ہے؟ اللہ توفیق دینے والا ہے۔
وصلی اللہ علی رسولہ و آلہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراً

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS