Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

عرض ناشر

الحمدللہ وحدہ والصلوٰة والسلام علی من لانبی بعدہ‘
اما بعد! اللہ رب العزت نے رسول اکرم ﷺ کو کائنات کی تمام مخلوقات کے لیے رحمت بناکر مبعوث فرمایا، یہ رحمت روحانی بھی ہے اور مادی بھی اور اس کا فیض عام ساری کائنات پر ہوا۔
جہاں آپ کی تعلیم دنیا کے ہر فرد، اقوام کے لیے روحانی ہدایت کا مقام رکھتی ہے وہا ں ان کے جسمانی، ظاہری و باطنی امراض کے لیے طب کامل کی حامل بھی ہے۔
جہاں آپ نے دنیا کو تمد ن ومعاشرت کے اعلی اصول بتائے وہاں صحت بخش اور پاکیزہ زندگی کے بیش قدر اور انمول فارمولے سے بھی نوازا۔
رسول اکرم ﷺ نے جسمانی تربیت ونشونما کے تمام چھوٹے بڑے گوشوں کو بے نقاب کرکے ایسی مفید، آسان اور نفع بخش ہدایت دیں کہ دنیا چاند پر پہنچ کر بھی آپ کی تعلیمات کی پابند ومحتاج ہے۔
زمین پر پھیلی قدرت کی بے شمار دھاتیں اور جڑی بوٹیاں وغیرہ جانور جو کہ مسلمانوں کے لیے حلال قرار دئیے گئے ہیں ان سب کی مفید خصلتیں اور ان کے استعمال کے طریقے بتائے، طب نے دنیا میں جتنی ترقی کی اور اس کی رفتار دن بدن ترقی پذیر بھی ہے، لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے بحیثیت نبی اسلام روحانی اور جسمانی حفاظت اور اس کو صیحح رکھنے کا جو نسخہ تجویز فرمایا ہے اس پر طبی دنیا باوجود بے شمار ترقی کے اس نسخہ کا مقابلہ نہیں کرسکی اور طب نبوی کے سارے اصول بھی شریعت اسلامیہ کی طرح اسی وحی کے تر جمان ہیں۔
انسان بنیادی طور پر مذہب سے رہنمائی کا طالب ہوتا ہے اور اسے امید ہوتی ہے کہ اسے مذہب میں صداقت اور سچائی مل جائے گی۔ خود مذہبی نظام اپنے مخصوص اصولوں اور رہن سہن کے متعین ومقرر ضابطوں پر مشتمل ہو تے ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے اس کے ماننے والوں کی شخصیت کی تعمیر ہو اور اخلاقی اعتبار سے وہ فروغ پاسکیں۔ ذہنی دباﺅ اور کرب کی صورت میں عقائد یا رسم ورواج، روایات اور مذہبی ادارے مدد اور نجات کے بنیادی وسائل ثابت ہوتے ہیں۔
انسان آغاز تاریخ ہی سے جذبات اضطرار اور مذہبی کرب کا شکار چلا آرہا ہے۔ اپنی اس تکلیف سے نجات کے لیے بنی نوع انسان نے مختلف ذرائع کو اختیار کیا ہے اور طرح طرح کی کوششیں کی ہیں۔ اس نے اس ضمن میں فطری وسائل کے علاوہ مافوق الفطری وسیلوں کا دامن بھی تھاما ہے۔ دنیا کی رنگا رنگ ثقافتوں پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی اعتقادات اور روایتی طریقوں سے قطع نظر ذہنی آسودگی کے فروغ اور دماغی انتشار کے خاتمے میں مذہب کو ہمشہ ہی سے مرکزی مقام و اہمیت حاصل رہی ہے۔
ذہنی پستی داضمحلال میں مبتلا شخص منفی انداز فکر اختیا ر کرلیتا ہے۔ کبھی اس کے جی میں آتا ہے کہ خودکشی کرکے اس جہاں کرب والم سے منہ موڑ لے، لیکن اس خواہش کی شدت کے باوجود ایک قوت اسے اس اقدام سے باز رکھتی ہے۔ ماہرین نے دوران علاج جب اس قسم کے لوگوں سے سوالات کیے تو انہوں نے اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ عین اقدام خودکشی کے وقت انہیں اللہ کے رحم وکرم کا وعدہ یاد آیا۔ اور یہی بات انہیں اس اقدام سے باز رکھنے کا باعث بنی۔
یہ عین ممکن ہے کہ ایسے نازک وقت میں کسی مسلمان کو اللہ تعالی کا یہ فرمان لفظ بہ لفظ یاد نہ ہوکہ، ”اے مسلمانوں! خود کو ہلا ک نہ کرو، کیوں کہ اللہ تم پر مہربان ہے“ تاہم اپنی تعلیمات سے آگاہ ہر مسلمان یہ ضرور جانتا ہے کہ اس کے خالق نے خودکشی سے منع فرمایا ہے۔ یہ قدم اس کے مذہب اور عقائد کی نظر میں مذموم ہے، لہذا اسے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اسی طرح اسلام نے شراب کو حرام قرار دے کر ایک بڑا اہم مثبت اقدام کیا ہے۔ شراب نوشی جیسے پیچیدہ مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ اسے حرام سمجھ کر ہاتھ نہ لگایا جائے۔
جہاں تک امراض وعلاج کا تعلق ہے ہم بدستور مغر ب کی اندھی تقلید کررہے ہیں۔ کروڑوں روپے کے خرچ سے فارغ التحصل ہونے والے ہزاروں ڈاکڑ اندرون وبیرون ملک روزگار کے متلاشی ہیں۔ ان کے لیے دیہی علاقوں میں کام کرنے کے مواقع نکالنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، لیکن طب جدید کے یہ عاملین جو بخا ر کا پتا چلانے کے لیے تھرمامیٹر کے محتاج ہیں، جدید گراں معالجاتی آلات، مشینوں اور مہنگی دواﺅں کے بغیر کام کرنے سے قاصر ہیں؟
متمول مغرب اور مفلس مشرقی ملک قدرتی غذاﺅں اور طریقہ ہائے علاج سے جوں جوں دور ہورہے ہیں ان کے صحت مسائل اسی قدر پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان میں صحت کے مسئلہ کا حل یہی ہے کہ طب جدید قدیم دونوں ہی یکساں سرپرستی کی جائے اور ان کے عاملین کھلے دل سے ایک دوسرے کے علم و تجربات میں شریک ہوں اور اپنی مشترکہ کوششوں سے امراض کی بیخ کنی کریں۔ ملک کی جڑی بوٹیوں پر ریسرچ کی جائے اور عوام میں حفظ صحت کے شعور کو بیدار کیا جائے۔ ایک صحیح اسلامی معاشرے میں صحت نے بھی تسلیم کرلیا ہے اور وہ بار بار اس کو اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کدھر جارہے ہیں؟۔
جب کہ فرمان ربی ہے۔
’’وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَاهُوَشِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ‘‘ [بنی اسرائیل : 82]
پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے معالج کا تجویز کردہ نسخہ کیوں استعمال نہیں کرتے، بے شمار امراض ایسے ہیں جن کے لیے آپ ﷺ سے دعائیں منقول ہیں۔ ہم ان دعاﺅں کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیتے کیوں؟ ہم معمولی بیماریوں پر ہزاروں لاکھوں روپے صرف کردیتے ہیں جوکہ صرف زبان اقدس سے نکلے ہوئے چند موتیوں (الفاظ) سے ختم ہوسکتی ہیں۔
طب نبوی ایسی بے شمار بیماریوں، آلام مصائب اور پریشانیوں کے لیے دنیائے انسانیت کی راہنما ہے۔ امام صاحب ؒنے اس کتاب میں علاج کے احکامات، پرہیز اور مفرددواﺅں کے ذریعہ علاج کی فضیلت، زخموں وغیرہ کے امراض کے لیے ہدایات، متعدی اور موذی امراض سے بچاﺅ کی تدابیر، صحت، اس کی حفاظت اور نفسیاتی امراض وغیرہ کے علاج کی تفاصیل اور آداب بیان کیے ہیں اور اس میں ایسی نصیحتیں اور مفید مشورے بھی درج ہیں جو آج کے دور میں جدید طب کے مطابق بالکل ہم آہنگ ہیں۔
حکما و علماءطب کا بیان ہے کہ امام ابن القیم الجوزیہ ؒنے اس کتاب میں جو طبی فوائد اور نادر تجربات ونسخے پیش کیے ہیں وہ امام صاحب ؒکی طرف سے طبی دنیا اضافہ ہیں جو کہ طبی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
علامہ ابن القیم ؒکی کتاب میں نبی اکرم ﷺ کی یہ طبیانہ سیرت خاص طور پر معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے مریضوں کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ علاج کے لیے ماہر اطباءکو تلاش کریں اور کلی اعتماد کے ساتھ اپنے امراض کا حال بتائیں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں، طبیب جو دوا تجویز کرے اس کو استعمال کریں، اور دوا کے ساتھ اللہ تعالی سے صحت و شفاءکی دعا کریں کیونکہ سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے اور دعائیں بھی طبع زاد نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ سے ماثور دمنقول دعاﺅں کو یاد کر کے پڑھیں۔
یہ ایک بڑی اہم اور خاص ہدایت ہے، جس سے اکثر لوگ غفلت برتتے ہیں کیونکہ کچھ لوگ تو صرف دوا کرتے ہیں اور کچھ لوگ صرف دعا کرتے ہیں جبکہ یہ دونوں طریقے حق وصواب سے ہٹے ہوئے ہیں اور کتاب وسنت کی تعلیم سے دور ہیں۔
لہذا دوا اور دعا دونوں کا استعمال ایک ساتھ ضروری ہے نبی اکرم ﷺ نے دونوں علاج ایک ساتھ کرنے کا حکم فرمایا ہے، لہذا ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے کافی نہ سمجھا جائے۔
یہ کتاب ”زاد المعاد فی ھدی خیر العباد“ کے ایک باب ”الطب النبوی“ کو علیحدہ حصہ ہے جسے ایک کتا ب کی شکل میں الگ سے طبع کیا گیا ہے، اللہ تعا لی ہمیں اپنے محسن بندوں میں شامل کرے، آمین۔
آئیے کتاب کا مطالعہ کرکے دیکھیں کہ رسول اکرم ﷺ نے کیا کہا، کیا کیا طریقے اختیار فرمائے اپنے اور دوسروں کے لیے کیا کیا علاج تجویز فرمائے۔
آئیے اس حکمت کے تذکرہ کو دیکھیں کہ جس تک پہنچنے میں اطباءعاجز آچکے ہیں، کیونکہ اطباءکے مقابلے میں آپ کی طب معجزات پر مشتمل ہے۔
آخر میں اس قابل قدر طبی سرمائے کو اس خوبصورت کتاب کی شکل میں پیش کرتے ہوئے ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ اس کتاب کے مصنف، مترجم اور ناشرین و ناظرین کو اجر جزیل عطا فرمائے اور اپنے آخری پیغمبر حضر ت محمد ﷺ کے اس لافانی نسخہ کیمیاءکو انسانی معاشرت کے لیے باعث نفع دراحت بنائے، آمین۔
الحمدللہ حمداً طیباً مبارکاً فیہ
عبدالرحمان عابد

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS