Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ

    آپ کا پورا نام شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن بکر بن ایوب سعد زرعی، دمشقی ہے۔ یگانہ روزگار فقیہہ اور مسلک حنبلی پر عامل تھے، آپ بلند پایہ مفسر قرآن، علم نحو کے امام اور فن کلام کے استاد تھے۔ آپ ابن قیم جوزیہ کے نام سے مشہور ہیں۔
    آپ 691ھ میں پیدا ہوئے آپ نے علوم دینیہ کی تعلیم شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے حاصل کی، فن تفسیر کے ماہر، حدیث اور فقہ و معانی حدیث پر گہری نظر رکھتے تھے اصول دین کے رمز آشنا، فن فقہ اور اصول عربیہ میں آپ خاص مہارت کے حامل تھے اپنے بعض عقائد کی بنا پر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
    کئی مرتبہ امتحان اور تکالیف کے سخت ترین مراحل سے گزرے مگر پیشانی پر شکن تک نہیں آئی۔ آخری مرتبہ اپنے استاذ شخ الاسلام تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قلعہ میں قید کیے گئے لیکن ان سے الگ رکھے گئے۔ ان کی رہائی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ہوئی، قید و بند کا یہ وقت آپ نے قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر غوروفکر میں بسر کیا۔
    حد درجہ عبادت گزار اور تہجد کے پابند تھے۔ نماز اس خشوع و خضوع سے ادا کرتے کہ کھو جاتے علامہ سید نعمان آلوسی کہتے ہیں کہ میری نظر سے ان جیسا کوئی اور شخص نہیں گزرا جو ان کی طرح عبادت گزار ہو۔
    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ان کے دوست اور سبق کے ساتھی تھے، حافظ صاحب البدایہ والنہایہ میں فرماتے ہیں،
    ابن قیم رحمہ اللہ نے حدیث کا سماع کیا اور زندگی کا بڑا حصہ علمی مشغلہ میں بسر کیا آپ کو متعدد علوم میں کمال حاصل تھا، خاص طور پر علم تفسیر اور حدیث وغیرہ میں غیر معمولی عبور حاصل تھا، امام ابن قیم رحمہ اللہ گوناگوں خصائص کے حامل تھے، نرم مزاج قوی الخلق اپنے استاذ سے انہوں نے علم اخلاص اور ایمان کی دولت حاصل کی حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ :
    ”ابن قیم رحمہ اللہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے، محبت سب سے، حسد کسی سے بھی نہیں، نہ کسی کوتکلیف دی نہ کسی کی عیب جوئی کی نہ کسی پر شک، میں اکثر ان کے ساتھ رہا ہوں وہ مجھ سے محبت کا برتاﺅ کرتے تھے مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے دور میں کوئی شخص ان سے زیادہ عبادت گزار ہو، ان کی نماز بڑی طویل ہوتی، رکوع اور سجود بھی خاصے لمبے ہوتے بہت سے ان کے ساتھی اس پر کبھی کبھی ان پر ملامت کرتے لیکن انہوں نے کبھی کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی اپنے معمول کو ترک کیا۔“
    امام صاحب رحمہ اللہ کو تصوف میں بھی بڑا ادراک تھا چنانچہ اس موضوع پر انہوں نے ”مدارج السالکین الی منازل ایاک نعبدو ایاک نستعین“ لکھی، اس کتاب میی علم حقیقت اور علم شریعت کے اسرار و حکم بیان کیے آپ کی تصانیف بہت ساری ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں، زادالمعاد، اعلام الموقعین، حادی الارواح، الطرق الحکمیہ، زادالمسافرین وغیرہ آپ نے جو عمل کیا دل جمعی سے کیا اور جو کچھ بھی لکھا وہ بھی دل جمعی کے عالم میں لکھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ امام ابن قیم رحمہ اللہ کی تصانیف میں سلف کی روشنی اور سابقین کی حکمت موجود ہے، صحابہ و تابعین کے اقوال سے استشہاد بہت زیادہ کرتے ہیں، اپنے استاذ سے کم اگرچہ یہ سارا فیض استاذ (شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ) کے چشمہ صافی کا ہے۔
    امام ابن قیم رحمہ اللہ کی وفات 13 رجب 751ھ میں ہوئی، آپ کی نماز جنازہ کئی مقامات پر ادا کی گئی، باب صغیر کے مقبرہ میں آپ کو دفن کیا گیا۔ امام ابن تیمیہ کی وفات کے بعد آپ ہی ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ اپنے استاذ شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے عمر میں تیس سال چھوٹے تھے۔
(منقول از زادالمعاد)

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS