برتنوں کی حفاظت کے متعلق ہدایات نبوی ﷺ

امام مسلمؒ نے اپنی صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہؓ کی حدیث نقل کی ہے جابر کا بیان ہے کہ۔
”میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اپنے برتنوں کو ڈھانک دو اور مشکیزوں کو باندھ رکھو اس لئے کہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں بلا نازل ہوتی ہے جن برتنوں پر ڈھکن نہ ہو یا جن مشکیزوں میں بندھن نہ ہو ان میں اس وبا کی بیماری گر پڑتی ہے“
ان باتوں تک اطباءکے علوم ومعارف کی رسائی کہاں؟اس کو تو عقلاءہی اپنے تجربہ سے معلوم کرلیتے ہیں لیث بن سعد راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایران کے لوگ سال میں ماہ دسمبر کی ایک رات میں احتیاط برتتے تھے اور صحیح حدیث میں آپ سے ثابت ہے کہ آپ نے برتنوں کو ڈھانک کر رکھنے کا حکم دیا‘ خواہ ایک لکڑی ہی اس پر کھڑی کردی جائے لکڑی کو پانی پر ڈالنے کی حکمت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے برتن کو ڈھانکنے سے غفلت نہ ہوگی بلکہ اس کی عادت بن جائے گی اس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کبھی اگر کوئی جانور رینگتا ہوا پانی میں گرجائے تو لکڑی کے سہارے رینگ کر باہر آجائے گا گویا یہ لکڑی اس کے لئے پل کا کام دے گی وہ گرنے سے بچ جاتا ہے یا اگر گرگیا تو اس کے ذریعہ نکل آئے گا یہ روایت بھی صحیح ہے کہ آپ نے مشکیزہ کو باندھتے ہوئے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کا حکم دیا اس لئے کہ برتن ڈھانکنے کے وقت تسمیہ سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے اور کیڑے مکوڑے بھی اس کی بندش کی وجہ سے اس سے دور رہتے ہیں اسی لئے ان دونوں جگہوں میں ان ہی دونوں مقاصد کے پیش نظر تسمیہ کا حکم دیا۔
امام بخاریؒ نے اپنی صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مشکیزہ کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔
اس حدیث شریف میں پانی پینے کے چند آداب بتائے گئے ہیں پہلا یہ کہ پینے والے کی سانس کی آمد ورفت سے خراب اور سڑاند کی بدبو پیدا ہوتی ہے جس سے آدمی کو پینے میں کراہیت ہوتی ہے
دوسرا ادب یہ کہ پانی کی زیادہ مقدار پیٹ میں داخل ہوتی ہے تو اس سے اس کو نقصان پہنچتا ہے۔
تیسرا ادب یہ کہ بسا اوقات پانی میں کوئی جاندار چیز کیڑا مکوڑا پڑا ہوتا ہے اور پینے والے کو اس کا پتہ نہیں ہوتا اس سے اذیت پہنچتی ہے۔
چوتھا ادب یہ کہ پانی میں گندگی وغیرہ ہوتی ہے جس کو پینے والا پیتے وقت دیکھ نہیں پاتا اس طرح یہ گندگی شکم میں پہنچ جاتی ہے۔
پانچواں ادب یہ ہے کہ اس طرح پانی پینے سے پانی کے ساتھ ہوا بھی پیٹ میں داخل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ضرورت کے مطابق پانی کی مقدار شکم میں جانے سے رہ جاتی ہے۔یا ہوا اس کی مزاحمت کرتی ہے یا اس کی اذیت پہنچاتی ہے اس کے علاوہ بھی بہت سی حکمتیں ہیں۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جامع ترمذی کی اس حدیث کا کیا کریں گے جس میں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺ نے جنگ احد کے موقع پر ایک مشکیزہ طلب فرمایا اور یہ حکم دیا کہ مشکیزہ کے منہ کو موڑ دو پھر آپ نے اس کے منہ سے پانی پیا اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کے متعلق ترمذی کی اس عبارت کو پیش کرنا ہی ہم کافی سمجھتے ہیں۔کہ اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے اور اس میں عبداللہ بن عمر العمری ضعیف الحفظ ہے جس کے بارے میں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس نے عیسیٰ سے حدیث سنی ہے یا نہیں عیسیٰ سے مراد عیسیٰ بن عبداللہ ہیں جن سے انصار کے ایک شخص نے روایت کی ہے۔