Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

ذات الجنب

ذات الجنب کا علاج نبوی ﷺ

امام ترمذی نے حضرت زید بن ارقم ؓسے روایت کیا ہے کہ :
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذات الجنب کا علاج عود ہندی اور زیتون سے کرو“
اطباءکے نزدیک ذات الجنب کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور غیر حقیقی۔
حقیقی ورم حار ہے جو پسلیوں کے اندرونی جانب پھیلی ہوئی غشاءمیں پیدا ہوتا ہے اور غیر حقیقی اسی طرح کا درد ہے جو پسلی کے اردگرد ہوتا ہے جس کا سبب ریاح غلیظ موذی ہوتی ہے جو صفاقات میں پھنس جاتی ہے جس کے پھنسنے کی وجہ سے ایسا شدید درد ہوتا ہے جیسا ذات الجنب حقیقی میں ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ غیر حقیقی میں یہ درد پھیلا ہوا ہوتا ہے اور حقیقی میں درد چبھنے والا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیخ نے قانون میں لکھا ہے کہ ذات الجنب پہلو اس کے صفاقات عضلات صدر، پسلی اور اس کے اردگرد اذیت دہ سخت قسم کا ورم ہوتا ہے، جس کو شوصہ برسام اور ذات الجنب کہتے ہیں اور کبھی یہ درد ہوتا ہے جس کسی ورم کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ ریاح غلیظہ کی وجہ سے ہوتا ہے لوگوں کو اس وقت اسی بیماری کا اندیشہ گذرتا ہے حالانکہ وہ بیماری نہیں ہوتی اور ایسا بھی ہے کہ پسلی میں ہونے والے ہر درد کو ذات الجنب کہتے ہیں اس وجہ سے کہ مقام درد وہیں ہوتا ہے اس لیے ذات الجنب کے معنی صاحبتہ الجنب ہے اور یہاں مقصد درد پہلو ہوتا ہے اس لیے جب کبھی پہلو میں درد ہے تو اس کا سبب خواہ کچھ بھی ہو اس کا انتساب اسی جانب ہوتا ہے اور اسی کے تحت بقراط کی وہ بات آتی ہے کہ ذات الجنب کے مریضوں کو حمام سے نفع ہوتا ہے یعنی ہر وہ شخص جس کا پہلو کا درد یا پھیپھڑے کی اذیت سوءمزاج کی وجہ سے ہو یا اخلاط غلیظہ کی بناءپر یا خلط لذاع کی بناءپر جس میں نہ ورم ہو نہ بخار اس میں حمام نافع ہے۔
اطباءنے لکھا ہے کہ یونانی زبان میں ذات الجنب پہلو کا ورم حار ہے اسی طرح تمام اعضاءباطنہ کے ورم کو ذات الجنب کہتے ہیں ورم حار اگر ہو تو اسے ذات الجنب کہتے ہیں خواہ وہ احشاءکے کسی عضو میں ہو ذات الجنب حقیقی کے لیے پانچ امراض ضروری ہیں بخار کھانسی، چبھتا درد، ضیق النفس، نبض منشاری۔
حدیث میں جو علاج موجود ہے وہ اس قسم کا علاج نہیں ہے بلکہ غیر حقیقی کا علاج ہے جو ریاح غلیظ سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے کہ قسط بحری جسے عود ہندی کہتے ہیں دوسری احادیث کی روشنی میں اگر اسی کو کہتے ہیں تو یہ بھی قسط کی ایک قسم ہے اگر اسے باریک پیس لیا جائے اور گرم زیتون میں جائے ماﺅف پر جہاں ریاح جمی ہو ہلکی ہلکی مالش کی جائے یا چند چمچہ چاٹ لیا جائے تو اس کا عمدہ علاج ہوگا یہ دوا نافع ہونے کے علاوہ محلل اورام بھی ہے اور محلل مادہ بھی جس سے یہ بیماری کافور ہوجاتی ہے اعضاءباطنہ کی تقویت کا سبب ہوتا ہے سدوں کو کھولتا ہے اور عود ہندی کا بھی نفع بالکل ایسا ہی ہے۔
مسیحی نے لکھا ہے کہ عود حار یابس ہے، قابض ہے، دست بند کرتا ہے اعضاءباطنی کو تقویت پہنچاتا ہے، کاسرریاح ہے، مفتح سدد ذات الجنب کے لیے نافع ہے، فصولات رطوبی کو ختم کرتا ہے، دماغ کے لئے بھی مفید ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ذات الجنب حقیقی میں بھی اس کا نفع ہو اگر یہ بیماری مادہ بلغم سے ہو بالخصوص انحطاط مرض کے وقت۔
ذات الجنب مہلک امراض میں شمار ہوتا ہے صحیح حدیث میں ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ:
”حضرت محمد ﷺ کو مرض شروع ہوا جبکہ آپ حضرت میمونہؓ کے مکان پر تھے جب بیماری کسی قدر ہلکی ہوتی تو آپ نماز کے وقت باہر نکلتے اور لوگوں کو نماز ادا فرماتے اور جب گرانی کا احساس ہوتا تو فرماتے حضرت ابو بکر ؓ سے کہو کہ نماز پڑھائیں آپ کی تکلیف بڑھتی گئی تاآنکہ آپ درد کی بے چینی سے بے ہوش ہوگئے اس وقت آپ کی ازواج مطہراتؓ جمع ہوئیں آپ کے چچا عباس، ام الفضل بنت حارث، اسماءبنت عمیسؓ بھی موجود تھیں ان سب نے آپس میں دوا پلانے کے بارے میں مشورہ کیا باہم مشورہ سے دوا پلائی گئی اور آپ بے ہوش تھے، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے کہا کہ کس نے یہ کام کیا یہ عورتوں کا کام معلوم ہوتا ہے حبشہ سے آنے والی عورتوں نے دوا پلائی یعنی ام سلمہ اور اسماءنے آپ کو دوا پلائی تھی ان عورتوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم کو یہ خطرہ ہوا کہ آپ کو کہیں ذات الجنب ہو، آپ نے پوچھا پھر تم نے کیا دوا پلائی لوگوں نے عرض کیا کہ عود اور ورس اور روغن زیتون کے چند قطرے آپ نے فرمایا اگر اللہ نے مجھے اس مرض سے نجات دیدی تو میں نے پکا ارادہ کیا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں رہے گا جسے دوا نہ پلائی گئی ہو بجز میرے چچا عباس کے“
دوسری روایت میں ہے کہ:
”حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دوا پلائی آپ نے اسے ناگوار سمجھا اور نہ پلانے کا اشارہ کیا ہم نے کہا کہ مریض تو دوا استعمال کرنا پسند ہی نہیں کرتے یہ ایک فطری امر ہے جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے دوا پلانے سے منع کیا تھا تم میں سے کوئی نہیں رہے گا کہ اسے دوانہ پلائی جائے سوائے میرے چچا عباس کے“
اصمعی نے لدود کا ترجمہ منہ کے کسی حصہ سے یا لب سے دوا پلانا محاورتاً کیا ہے ”اخذ من لدیدی الوادی“ وادی کے دونوں جناب میں سے کوئی یا دونوں اور وجور درمیانہ لب سے منہ میں دوا گزارنا۔
لدود بالفتح وہ دوا جو منہ سے پلائی جائے اور سعوط جو دوا ناک سے گزاری جائے۔ اس حدیث سے کسی خطا وار کو ویسی ہی غلطی سے سزا دینا ثابت ہوتا ہے اگر اس کا فعل محرم نہ ہو حقوق الٰہی کو کوئی تلف نہ کرتا ہو یہی بات مناسب ہے ہم نے اس کے لیے تقریباً دس شعری دلیل دوسرے مقام پر بیان کئے ہیں احمد سے بھی یہی ثابت ہے اور خلفاءراشدین سے بھی یہی ثابت ہے اور طمانچہ یا چوٹ کا قصاص جس کے بارے میں کئی احادیث ہیں وہ اس کے معارض نہیں ہیں اس لیے بات معتین ہوچکی ہے اور مسئلہ صاف ہوگیا۔

ذات الجنب
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS