Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

زخم

طب نبوی ﷺ میں زخموں کا طریقہ علاج

صحیحین میں ابو حازم سے روایت ہے کہ انہوں نے سہل بن سعد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زخموں کا علاج احد کی جنگ میں کیسے کیا گیا۔
”احد کی جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے زخموں کا علاج کیسے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ کا چہر ہ مبارک مجروح ہو گیا، آپ کے اگلے دانت ٹوٹ گئے اور خود چور ہوکر سر میں گھس گئی، حضرت فاطمہ ؓ آپ کی صاحبزادی خون دھوتی تھیں اور علی بن ابی طالب ان زخموں پر پانی ڈھال سے بہا تے تھے جب حضرت فاطمہ ؓ نے دیکھا کہ خون بند ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے، تو آپ نے چٹا ئی کا ایک ٹکڑا لے کر جلا دیا، جب راکھ ہو گیا تو آپ نے زخموں پر انہیں چپکا دیا، جس سے خون بند ہوگیا“،
گون کی بنی ہوئی چٹائی راکھ سے خون بڑی عمدگی سے بند ہو جاتا ہے، اس لیے کہ اس میں خشک کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس کے علاوہ اس سے زخموں میں چھبن بھی نہیں ہوتیی کیونکہ جو دوائیں خشک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےں، اگر اس میں خلش کا انداز ہوتو اس سے خون میں جوش آجاتا ہے اور اس خلش سے خون کی ریزش بڑھ جاتی ہے، اور اس راکھ کا تو اس درجہ کرشمہ دیکھنے میں آیا کہ صرف اس راکھ کو یا اسے سرکے میں ملا کر نکسیر کے مریضوں کی ناک میں پھونک دیں تو رعاف بند ہو جاتا ہے۔ ابن سینا نے قانون میں لکھا ہے کہ گون کی بنی چٹان سیلان دم میں نافع ہے اسے ردک دیتی ہے، اگر تازہ زخموں پر جن سے خون بہہ رہا ہو چھڑک دیں تو اسے مندمل دیتی ہے، مصری کاغذ قدیم زمانے میں گون ہی سے بنایا جاتا تھا، اس کا مزاج خشک و سرد ہے، اس کی راکھ کلتہ الضم میں مفید ہے، خون کے تھوک کو بند کردیتی اور گندے زخموں کو بڑھنے سے روکتی ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS