Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

زہر

مکھی پڑی ہوئی غذا کی اصلاح اور مختلف قسم کے زہر کے ضرر کو دفع کرنے کی بابت ہدایات نبوی ﷺ

صحیحین میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جب تم میںسے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو اسے غوطہ دے لیا کرو اس لیے کہ اس کے دونوں بازوﺅں میں سے ایک میں بیماری اور دوسرے میں شفاءہے“
سنن ابن ماجہ میں ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
”مکھی کے ایک بازو میں زہر اور دوسرے میں شفاءہے۔ جب کبھی کھانے میں مکھی گرجائے تو اس کو غوطہ دے دو اس لیے کہ وہ زہر کے بازو کو آگے اور شفا والے بازوکو موخر کرتی ہے“۔
اس حدیث میں دو مباحث ہیں ایک فقہی، دوسرا طبی
فقہی تو یوں سمجھئے کہ اس سے کھلے طور پر اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مکھی پانی یا کسی سیال چیز میں گر کر مرجائے تو اس سے وہ چیز نجس نہیں ہوتی، یہی جمہور علما کا قول ہے۔ اس سے پہلے کے لوگوں نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکھی کو ڈبونے کا حکم دیا اور ظاہر ہے کہ مکھی پانی یا سیال چیز میں گرنے کے بعد زندہ نہیں رہتی بلکہ مرجاتی ہے۔ خصوصاً جب کھانا بہت گرم ہو بالفرض اگر اس سے کھانا نجس ہوجاتا تو آپ کھانے کے خراب ہونے کا حکم فرماتے مگر آپ نے اس کے بجائے کھانے کی اصلاح کا حکم دیا پھر اسی حکم کے تحت وہ ساری چیزیں آگئیں جن میں سیال مادے خون وغیرہ نہ ہو جیسے شہد کی مکھی، بھڑ، مکڑی وغیرہ اس لیے کہ حکم علت کے عام ہونے کی وجہ سے عام ہوتا ہے اور سبب کے ناپید ہونے کے باعث حکم بھی ختم ہوجاتا ہے اس لیے کہ نجاست کا سبب کسی جاندار چیز میں اس کی موت کے بعد وہ خون شامل ہوتا ہے جو موت کے بعد بدن میں رکا رہ جاتا ہے جن جانداروں میں سیال خون نہ ہو علت کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ حکم بھی باقی نہیں رہتا۔
پھر اس سے ان لوگوں کی بات میں جو مردار کی ہڈی کو نجس نہیں مانتے، کسی قدر جان آجاتی ہے کہ جب یہ بات ایسے جاندار میں جن میں رطوبات فضلات موجود ہوتے ہیں۔ اور ان کی ساخت میں نرم ریشے اور عضلات شامل ہوتے ہیں۔ ان کی موت سے نجاست پیدا نہیں ہوتی تو پھر ہڈی میں جو فضولات و رطوبات سے خالی اور دور ہے۔ اور ان میں احتقان دم بھی نہیں تو پھر ایسی چیز میں جن میں ان سب چیزوںکے نہ ہوتے ہوئے قوت بھی موجود ہو تو ہڈی کا نجس نہ ہونا قابل تسلیم ہے۔
سب سے پہلے اس حقیقت تک جو پہنچا اور دم مسائل نہ ہونے کی بات کی وہ ابراہیم نخعی ہیں او انہیں سے دوسرے فقہاءنے استفادہ کیا اور نفس لغت میں خون کو کہتے ہیں چنانچہ عربی میں نفست المراة اسی سے ماخوذ ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب عورت کو خون حیض آنے لگے یہ نون کے فتحہ کےساتھ اور نون کے ضمہ کے سات نفست اس وقت بولتے ہیں جب عورت بچہ جنے۔
طبی حیثیت سے تو ابو عبیدؓ نے کہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مکھی کو غوطہ دو تا کہ شفاءکا جز و جو دوسرے بازو میں ہے وہ مصلح کے طور پر کھانے میں آجائے اور بیماری و زہر کا حصہ نکل جانے یا شفاءکا حصہ مل جانے سے اس کی قوت ختم ہوجائے، چنانچہ عربی میں محاورہ ہے جب دو شخص ایک دوسرے کو پانی میں غوطہ دیں۔
اطباءنے مکھی میں زہریلی قوت کو تسلیم کیا ہے۔ جس کے ہونے کا ثبوت ورم اور سوزش ہے جو اس کے ڈسنے کے بعد جسم انسانی میں پیدا ہوتی ہے گویا اس کے بازو ہتھیار ہیں اس کے ڈوبنے سے تکلیف دہ چیز گرجاتی ہے تو دوسرے بازو سے اذیت دینے والی چیز کا بچاﺅ کیا جاتا ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے مکھی کو پورے طور پر غوطہ دینے کا حکم فرمایا تاکہ زہریلے مادہ کو تریاق سے دور کیا جاسکے اور اس طرح نقصان کا دفاع کیا جاسکے یہی وہ طریقہ علاج نبوی ہے جہاں تک بڑے سے بڑے طبیب کی نگاہ نہیں پہنچ سکی۔ یہ روشنی تو صرف مشعل نبوت ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے یہی سبب ہے کہ بڑے سے بڑا طبیب بھی اس طریقہ علاج کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی تاثیر کا اعتراف کرتا ہے اور یہ کہے بغیر اس کو نجات نہیں کہ اس طریقہ علاج کو پیش کرنے والا انسانیت میں سب سے برتر ہے اور آپ کا علاج وحی الٰہی کے ذریعہ آپ تک آیا ہے قوائے بشریہ سے بالکل خارج اور ماوراءہے۔
اطباءکی ایک بڑی جماعت نے اسی طریقہ علاج کے متعلق لکھا ہے کہ بھڑ اور بچھو کے ڈنک کی جگہ پر مکھی کا رگڑنا نہایت درجہ مفید ہے اس سے ڈنک کی سوزش سے سکون ملتا ہے۔ ظاہر ہے کہ سکون اسی مادہ کی وجہ سے ہے جس کے شفاءہونے کی خبر آپ نے دی ہے۔ اسی طرح گویا نجی کے ورم پر جو آنکھ میں پیدا ہوتی ہے مکھی کا سر اڑاکر اسے ملا جائے تو وہ ورم جاتا رہتا ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS